پاکستان میں ایل این جی سیکٹر میں مالی تعاون شروع کررہے ہیں، چاپانی سفیر

اسلام آباد: چاپانی سفیر نے کہاہے کہ جاپان متبادل توانائی ایل این جی سیکٹر میں مالی تعاون کے لئے انرجی ٹرانزیشن اینیشیٹو شروع کررہا ہے، اس اقدام کے تحت دس ارب ڈالر کی مالی امداد دی جائے گی۔

جاپانی سفیر نے وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر سے ملاقات کی، جس میں توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون پر بات چیت کی گئی، وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک میں مسابقتی عمل کے ذریعے تیل اور گیس کی تلاش کے نئے بلاکس دئیے جارہے ہیں، ان بلاکس کی نیلامی سے ملک میں تیل وگیس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، حکومت کے اس اقدام سے مقامی تیل و گیس کی پیدوار میں اضافہ اور درامدی بل کم کرنے میں مدد ملے گی، جاپانی کمپنیاں تیل وگیس کے بلاکس کی نیلامی میں حصہ لیں۔

حماد اظہر نے جاپانی سفیر کو گردشی قرضے میں کمی کے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں گردشی قرضے کا بہاؤ 538 سے کم کرکے 177 ارب پر لائے ہیں، حکومتی اقدام سے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے، صنعتی صارفین کے لئے پیکج سے بجلی کھپت میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے
وزیر توانائی نے جاپانی کمپنیوں کو بجلی کی ترسیل وتقسیم میں سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی اور بلوچستان سمیت دوردراز علاقوں میں آف گرڈ سلوشن کے لیے تکنیکی سٹڈیز کے لئے جاپانی تعاون کی بھی درخواست کی۔

چاپانی سفیر کا کہنا تھا کہ جاپان متبادل توانائی ایل این جی سیکٹر میں مالی تعاون کے لئے انرجی ٹرانزیشن اینیشیٹو شروع کررہا، اس اقدام کے تحت دس ارب ڈالر کی مالی امداد دی جائے گی۔ جاپانی سفیر نے حماد اظہر کو ایشیا گرین پارٹنر شپ منسٹیرئل میٹنگ میں شرکت کی بھی دعوت دی۔

گاؤں کو ریچھوں سے بچانے کیلئے بھیڑیا روبوٹ نصب

ٹوکیو: جاپان کے ایک دیہی علاقوں میں خونخوار ریچھوں سے فصلوں اور انسانوں کو خطرہ لاحق تھا۔ اس کےبعد وہاں خوفناک بھیڑیوں کے دو روبوٹ لگائے گئے جس کے بعد ریچھوں کی آمدورفت کم ہوگئی ہے۔

شہر کے نواح میں یہ علاقہ بہت حد تک دیہی ہے جہاں لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ ٹاکی کاوا نامی یہ گاؤں جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیڈو میں واقع ہے۔ ستمبر میں یہاں مختلف اوقات میں خونخوار بھالو دیکھے گئے جس کے بعد گاؤں والوں نے مل کر دو روبوٹ بھیڑیئے خریدے جس کی شکل بہت ہولناک ہے اور اس کی آنکھوں میں سرخ روشنیاں لگی ہیں۔

مختلف اشاعتی اداروں نے خبر دی ہے کہ گزشتہ پانچ برس میں یہاں ریچھوں کی آمدورفت بڑھ گئی ہے۔ صرف سال 2020 میں ہی ریچھوں کی جانب سے ایک درجن حملے ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ ان حملوں میں اب تک دو افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں۔ اس کے بعد حکومتی ادارے حرکت میں آئے اور ستمبر کے آخر میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی۔

روبوٹ بھیڑیئے کی چار ٹانگیں ہیں اور یہ خوفناک آنکھوں سے روشنی خارج کرکے بھیڑیئے کی طرح آواز نکالتا ہے ۔ یہ روبوٹ خود انسانوں پر بھی رعب ڈال سکتا ہے اور اب جنگلی ریچھ بھی اس سے ڈرچکے ہیں۔ اسے ایک انجینیئر اوتا سائیکی نے تیار کیا ہے جودوسال میں 70 روبوٹ فروخت کرچکےہیں۔

واضح رہے کہ جاپان میں خاص نسل کے بھیڑیئے پائے جاتے تھے۔ ایک صدی قبل بہت سے علاقوں پر ان کا راج تھا۔ حیوانات کے ماہرین کے مطابق اس سال ریچھوں کی غذا میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی تلاش میں وہ انسانی آبادی تک جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے علاقوں میں یہ روبوٹ نصب کئے گئے ہیں۔