تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا پارٹی عہدوں سےمستعفی ہونے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ 9 مئی کے بعد رونما ہونے والے سیاسی حالات میں قیادت کی ذمہ داری نہیں نبھا سکتا اس لیے میں پارٹی کے عہدوں سے استعفیٰ دے رہا ہوں لیکن پارٹی نہیں چھوڑ رہا۔

اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ بطور سیکریٹری جنرل اور رکن کور کمیٹی پی ٹی آئی استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے جو قابل مذمت اور لمحہ فکریہ ہیں، واقعات میں ملوث افراد کے خلاف بھرپور ایکشن ہونا چاہیے۔

ساتھ ہی انہوں نے ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہزاروں بے گناہ کارکنوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں درج تھا کہ شیریں مزاری، عارف علوی، شفقت محمود اور میں ڈنڈوں سے لیس حملے کی قیادت کررہے ہیں جبکہ اس وقت میں گھر میں موجود تھا اور ٹی وی دیکھ رہا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جس وقت ٹی وی پر یہ دیکھا کہ کچھ لوگ پی ٹی وی کی بلڈنگ میں گھس رہے ہیں تو میں نے عون چوہدری کو فون ملایا جنہوں نے عمران خان سے بات کرائی اور صورتحال سے متعلق آگاہ کیا تو چیئرمین پی ٹی آئی نے اس وقت لوگوں سے اپیل کی تھی۔ اسد عمر نے کہا کہ جس نے پی ٹی وی پر حملہ کیا اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے اوپر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ہزاروں بے گناہ کارکنوں کو بھی چھوڑنا ضروری ہے کیونکہ واقعات میں چند لوگ ملوث ہوں گے، یہ تحقیقات ہونی چاہیے، فوج کی طاقت صرف بندوقوں سے نہیں قوم کے پیچھے کھڑے ہونے سے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا 3 نسلوں سے فوج کے ساتھ تعلق ہے، 15 دن جیل میں گزارے اور اس دوران بہت وقت ملا صورتحال کا جائزہ لینے کا۔

اسد عمر نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے 5 بڑے اسٹیک ہولڈز ہیں، عدلیہ میں آپس میں اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہورہا، یہ بہت خطرناک صورتحال ہے، پاکستان کا دوسرا بڑا اسٹیک ہولڈ آرمی ہے جس کے بارے میں تفصیل سے بات کرچکا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا بڑا اسٹیک ہولڈ تحریک انصاف ہے، پی ٹی آئی واحد قومی پارٹی ہے، ہزاروں کارکن جیلوں میں بند ہیں، چوتھا اسٹیک ہولڈر پی ڈی ایم جو ہماری مخالف سیاسی پارٹیوں کا اتحاد ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ اگر آج الیکشن ہوجائیں تو وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت بنے گی جبکہ سندھ میں پی ڈی ایم کی جماعتوں کی حکومت بنے گی، یہ ایک سیاسی حقیقت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی سیاست گزشتہ 13 ماہ میں انتہائی کمزور ہوچکی ہے، لیکن ان تمام اسٹیک ہولڈز کے مقابلے میں آخری اسٹیک ہولڈر ہے پاکستان کی عوام جو سب سے زیادہ طاقتور ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک عام پاکستانی مہنگائی کے باعث انتہائی تکلیف میں ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، جب تمام اسٹیک ہولڈز کے لیے صورتحال مایوس کن ہے تو اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ 13 ماہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ پاکستان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

مجھے گرفتار کیا جائے تو سب پُرامن احتجاج کریں، عمران خان

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ صبح میری اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ہوسکتی ہے، اس صورت میں سب کو پُرامن احتجاج کرنا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ٹویٹر پر اسپیس بنایا گیا جس میں عمران خان شامل ہوئے اور صارفین کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اپنے ذہن میں ڈال لو رات جب زیادہ اندھیری ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب صبح ہونے والی ہے، جو آزادی کی جنگ میں لڑ کر مرتا ہے تو وہ شہید کہلاتا ہے، میں نے اپنے معاشرے کو کبھی اتنا نیچے نہیں گرتے دیکھا، کبھی خواتین پر ایسا تشدد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب لوگوں میں خوف پھیلانے کے لیے کیا جا رہا ہے، یہ فضا بنائی جا رہی ہے کہ جب دوبارہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے تو کوئی باہر نا نکل سکے مگر میری منگل 23 مئی کو نیب میں پیشی کے موقع پر گرفتاری کا امکان ہے، ایسی صورت میں آپ سب کو پُرامن احتجاج کرنا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی آواز بلند کرنی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آئین ٹوٹ چکا ہے آئین میں واضح لکھا ہے کہ 90دن میں انتخابات ہونے چاہیے، آئین جب ٹوٹتا ہے تو جو طاقتور کرنا چاہتا ہے وہ کرتا ہے، طاقتور فیصلہ کرتا ہے کہ اس نے آئین کی کون سی شق ماننی ہے اور کون سی نہیں ماننی۔

انہوں نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ اور حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ الیکشن نہیں کروانے کیونکہ اگر الیکشن ہوئے تو انہیں اندازہ ہے کہ تحریک انصاف جیت جائے گی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’انہیں صرف کورکمانڈر ہاؤس یاد ہے کہ کورکمانڈر جلایا گیا اور اس پر بھی تحقیقات کرنے کے بجائے لوگوں کو پکڑنا شروع کردیا، کون لوگ تھے جنہوں نے کورکمانڈر کا گھر جلایا کس نے گھر کا دروازہ کھولا کوئی تحقیقات نہیں ہوئی، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طاقتور لوگ اتنے نیچے گر جائیں گے‘۔

عمران خان نے کہا کہ ہم پر یہ مشکل وقت ہے، اللہ انسان کو آزمانے کے لیے مشکلات بھیجتا ہے، اگر آج ہم ان کے خوف میں آگئے تو ساری زندگی انکی غلامی میں چلے جائیں گے، یہ انکا خوف عارضی ہے جسے یہ زیادہ دیر تک قائم نہیں کرسکتے، انکے پاس اتنی جیلیں بھی نہیں ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو اس طرح میں نے زندگی میں کبھی گرتے نہیں دیکھا، یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ فیصلہ کیا گیا کہ ڈنڈے کے زور سے سب کو سیدھا کردو۔

عمران خان نے کہا کہ ’حقیقی آزادی کا مقصد انصاف ہے، رول آف لاء قائم کرنا، جی ایچ کیوں یا کنٹونمنٹ، پرامن احتجاج کرنا بنیادی حق ہے، نوجوان قوم بناتے ہیں، سوشل میڈیا کا ایک کمال یہ ہوا ہے کہ نوجوان اصل مسئلہ سمجھ گئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس منیر کے ایک فیصلے نے ملک تباہ کر دیا، جسٹس منیر کے فیصلے بعد بار بار عدلیہ نے طاقتور کے ساتھ مل کر نظیہ ضرورت کے تحت فیصلے کرنے شروع کردیئے، 2007 میں عدلیہ بحالی تحریک شروع کی جس کے بعد عدلیہ نے آزادانہ فیصلے شروع کردیئے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ شریف خاندان نے ایک مرتبہ پھر عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، لیکن مجھے لگتا ہے عدلیہ کھڑی ہوجائے گی اور پاکستان کو اس وقت مشکل وقت سے نکالے گی، تمام ممالک نے کہا کہ پہلے اپنے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کریں۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے بہت مرتبہ ان کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن جب الیکشن کی بات کرو یہ ڈر جاتے ہیں، مجیب الرحمن نے بار بار کوشش کی یحی خان سے بات کرے لیکن وہ اس سے بات کرنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ وہ الیکشن ہونے نہیں دینا چاہتے تھے، ابھی بھی انکی کوشش ہے کہ الیکشن نا کروائے جائیں اور الیکشن تب کروائیں جائیں جب عمران خان الیکشن نا جیت سکے’۔

چیئرمین پی ٹی آٗئی نے کہا کہ آج جو بھی یہ سب کر رہا اسے سیاست کی سمجھ نہیں ہے، انکو سمجھ ہی نہیں کہ جتنا پارٹی کو دبائیں گے وہ اتنی اوپر آئے گی، انہوں نے فیصلہ کیا کہ جہاں پی ٹی آئی کارکن ملے اسے پکڑ کر جیل میں ڈال دو، میرا ماسٹر مائنڈ سے سوال کہ کیا اس طرح پارٹی کو ختم کریں گے، لیکن اب تک جتنا دبایا پارٹی اتنی ہی اوپر گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انکو اندازہ ہی نہیں پارٹی ایم پی اے اور ایم این اے کو لے جانے سے ختم نہیں ہوتی بلکہ پارٹی ووٹ بینک کے جانے سے ختم ہوتی ہے، قوم آج بھی پی ٹی آئی اور اسکے نظریے کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے‘۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ نگران حکومت بلکل آئینی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی ہوچکی ہے، انکا کام تھا الیکشن کروانا یہ نہیں کرواسکے، جب اللہ نے موقع دیا تو نگران حکومت کا حساب کتاب ہوگا، ان پر کیسسز ہونگے، 90 دن میں الیکشن نہیں کروا سکے، انہوں نے لوگ مروائے، ان پر کیسسز بنے گے اور انکو عدالتوں کے چکر لگوائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ میں اور بشرا بی بی صبح نیب جارہے ہیں، اور ممکن ہے ہمیں گرفتار کر لیا جائے، اگر ہماری گرفتاری ہوجاتی ہے تو آُپ سب کو پُرامن رہتے ہوئے احتجاج کرنا ہے۔

القادر ٹرسٹ کیس پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’میں چاہتا تھا پاکستان کے نوجوانوں سیرے نبی پڑھاؤں، میں اور بشرا بی بی القادر یونیورسٹی کے ٹرسٹی ہیں، ٹرسٹی کو کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، لندن سے آنے والے پیسوں کا معاملہ کابینہ میں رکھا تو فیصلہ ہوا کہ ہم سپریم کورٹ کے جرمانے میں اس پیسے کو ایڈجسٹ کردیں گے، کیبینٹ میں بتایا گیا کہ معروف پاکستانی اور این سی اے میں خفیہ اگریمنٹ ہوا ہے، ہم اس خفیہ ایگریمنٹ پر کیس کریں گے تو 5 سے 6 سال فیصلے کو لگ جائیں گے، اور اگر ہم کیس ہار گئے تو پیسہ پھر پاکستان کو بھی نہیں ملے گا اور پاکستان پہلے بھی این سی اے سے کیس ہار چکا ہے، لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ پیسہ ہم لیں گے‘۔

عمران خان نے کہا کہ میرے اوپر اب کیس بنایا کہ میں نے اس پیسوں کا کوئی مالی فائدہ لیا ہے، القادر یونیورسٹی کے اکاؤنٹس چیک کر لیں، اکاونٹ سب کے سامنے ہیں‘۔ چیئرمین پی ٹی آٗئی نے کہا کہ مجھے پتا ہے آپ لوگ میری سیکیورٹی کیلئے بہت فکر مند ہیں۔ میں ہر روز جب گھر سے نکلتا ہوں تو کوئی پتا نہیں ہوتا کہ زندہ واپس گھر آؤں گا یا نہیں؟ لیکن وزیرآباد واقعہ ہو یا جوڈیشل کمپلیکس میں بھی مجھے مارنے کی کوشش کی گئی تو کسی سیکیورٹی نے نہیں، اللّه اور صرف اللّه نے مجھے بچایا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اللّه نے جب مجھے لے کر جانا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے بچا نہیں سکتی اور جب اللّه نے بچانا ہے تو کوئی مجھے مار نہیں سکتا، اپنے خوف کا بت توڑ دیں۔ خوف کے آگے سر نہیں جھکنا ہوتا۔ اللّه پر توکل اور ایمان رکھ کر خوف سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آج جو لوگ پارٹی چھوڑ کر جارہے ہیں کل الیکشن میں عوام ان کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے لوگ 27سال میں کبھی توڑ پھوڑ کا حصہ نہیں بنے، کورکمانڈر کے گھر کو جلانے کے لیے انویسٹیگیشن ہوئی سب کچھ سامنے آجائے گا، پی ٹی آئی کے خلاف کورکمانڈر ہاؤس کی بنیاد پر منظم سازش کی گئی ہے۔

عمران خان کا چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایک اور خط

سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایک اور خط لکھ دیا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے نام خط میں سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی زندگی کو درپیش خطرات سے متعلق آگاہ کیا ہے۔

عمران خان نے خط میں چیف جسٹس آف پاکستان سے استدعا کی ہے کہ مختلف مقدمات میں پیشی کے موقع پر مناسب سکیورٹی انتظامات کروائے جائیں۔

علاوہ ازیں عمران خان نے چیف جسٹس سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی اجازت دینے کی بھی درخواست کی ہے۔

مریم نواز عدلیہ پر تنقید کر کے کیا حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ پرویز الہٰی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ مریم نواز عدلیہ اور اداروں پر تنقید کر کے کیا حاصل کرنا چاہتی ہیں؟

ٹوئٹر پر جاری کیے گئے بیان میں چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن مہم کا آغاز کر دیا ہے، اب وہ وقت دور نہیں جب عمران خان وزیرِ اعظم ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور عمران خان برابر نہیں ہو سکتے۔

چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا ہے کہ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ آ چکی، کارکن تیاری شروع کر دیں، موجودہ مسائل کا واحد حل انتخابات ہی ہیں۔سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے۔

استعفوں کی تصدیق کیلیے پی ٹی آئی کا وفد آج اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کریگا

اسلام آباد: تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی تصدیق کے معاملے پر پی ٹی آئی وفد آج اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کرے گا۔

پی ٹی آئی کے سابق چیف وہپ عامر ڈوگر نے ارکان اسمبلی کے استعفوں کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ کیا، جس میں طے پایا ہے کہ پی ٹی آئی پارلیمانی وفد کل اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کرے گا، جس میں شاہ محمود قریشی،عامر ڈوگر،اسدعمر،فواد چودھری، اسد قیصر اور پرویز خٹک شامل ہوں گے۔

ملاقات میں پی ٹی آئی وفد اسپیکر قومی اسمبلی سے اپنے ارکان کے استعفوں کی تصدیق کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ عامر ڈوگر نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ارکان اسمبلی کے استعفوں کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ ہوا ہے، ان کے بیرون ملک دورہ کے لیے روانگی کے باعث آج پیش ہونے کا پلان ملتوی کیا گیا، تاہم اسپیکر کی درخواست پر پی ٹی آئی وفد کل ان سے ملاقات کرے گا۔

عامر ڈوگر نے کہا کہ اسپیکرسے ملاقات میں ارکان کے استعفوں پر اپنا مؤقف پیش کرنے کے ساتھ ارکان کے استعفوں کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی سے تاریخ طے کریں گے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری کا کہنا ہے کہ ہم جب بھی اسپیکر کے سامنے پیش ہونے کا کہتے ہیں، وہ بھاگ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ارکان قومی اسمبلی کااجلاس کے پی ہاؤس میں ہوگا ۔ ہم تو استعفوں کی تصدیق کے لیے جائیں گے۔

دریں اثنا ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی نے استعفوں کی تصدیق کے لیے اسپیکر کی عدم موجودگی کے باوجود اسپیکر آفس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کا اجلاس کے پی ہاؤس اسلام آباد میں ہوگا، جس میں پارٹی چیئرمین عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب بھی کریں گے۔

خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی اپنے استعفوں کی منظوری سے متعلق لائحہ عمل پر مشاورت کریں گے۔

قبل ازیں اطلاعات تھیں کہ تحریک انصاف کا استعفوں کی تصدیق کے لیے آج قومی اسمبلی جانے کا پلان ایک بار پھر ملتوی ہوگیا اور یہ فیصلہ اسپیکر قومی اسمبلی کی عدم دستیابی کے باعث کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں پی ٹی آئی ارکان خیبر پختونخوا ہاؤس آج اسلام آباد میں بھی جمع نہیں ہوں گے، جہاں پارٹی چیئرمین عمران خان نے خطاب کرنا تھا۔

عمران خان کی حکومت کو مشروط مذاکرات کی پیش کش

لاہور: تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے حکومت کو مشروط مذاکرات کی پیش کش کردی اور کہا ہے کہ حکومت عام انتخابات کی تاریخ دے ورنہ اسمبلیاں توڑ دیں گے۔

اپنے بیان میں عمران خان نے کہا کہ (ق) لیگ مکمل طور پر ہمارے ساتھ کھڑی ہے جو ہمیں پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کا یقین دلاچکی ہے، جیسے ہی میں کہوں گا پرویز الہیٰ اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے نتیجے میں ملک بھر میں 66 فیصد نشستوں پر انتخابات ہوں گے، آپ چاہتے کہ ملک کے 66 فیصد حصے میں الیکشن ہوں اور آپ وفاق میں بیٹھے رہیں؟ انہیں ڈر ہے کہ جیسے ہی الیکشن ہوگا انہیں پٹ جانا ہے، ان کا پلان ہے کہ کسی طرح مجھے نااہل کریں اور جیل میں ڈالیں، انہوں نے نیب سے اپنے سارے کیسز ختم کر دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری معاشی حالت خراب ہے، اگر ہم ڈیفالٹ کرگئے تو پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی خطرے میں پڑ جائے گی، سات ماہ میں انہوں نے ملک کے ساتھ جو کیا کوئی دشمن بھی نہ کرے، 17 سال میں ہماری گروتھ سب سے زیادہ تھی لیکن اب ملک کا برا حال ہے۔

اگلے ہفتے اسمبلیاں تحلیل کردیں گے، فواد چوہدری

جہلم: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اگلے ہفتے پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی اسمبلیاں تحلیل کردیں گے۔

جہلم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ آئندہ دو روز کابینہ کا اجلاس ہوگا، جس کے بعد ہمیں اسمبلی تحلیل کرنے کی تاریخ کا اعلان کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے ہفتے اسمبلیاں تحلیل کردیں گے کیونکہ بیس مارچ سے پہلے کے پی اور پنجاب میں الیکشن کرانے ہیں، الیکشن اپنے پروگرام کے مطابق ہوں گے جس سے اب حکومت گھبرائی ہوئی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ’یہ پہلے کہتے تھے اسمبلیاں توڑیں اور اب کیسٹ کی بدل گئی، رانا ثنا اور مریم اورنگزیب جو دل چاہیے کرلیں ہم الیکشن کرا کے رہیں گے‘۔

واضح رہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ عمران خان کی ہدایت پر اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کرچکے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے بھی بیس دسمبر تک اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سفارش کی ہے جس کی حتمی منظوری عمران خان دیں گے۔

منصب سنبھالنے پر جنرل ساحر شمشاد مرزا اور جنرل سیّد عاصم منیر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، عمران خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نئی عسکری قیادت کو مبارک باد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ عوام اور ریاست کے درمیان گزشتہ 8 ماہ میں جنم لینے والے اعتماد کے فقدان کے خاتمے کی کوشش کرے گی۔

عمران خان نے ٹویٹ کیا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی اسٹاف کے منصب سنبھالنے پر جنرل ساحر شمشاد مرزا اور جنرل سیّد عاصم منیر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

عمران خان نے کہا امید ہے کہ نئی عسکری قیادت قوم و ریاست کے مابین گزشتہ 8 ماہ میں جنم لینے والے اعتماد کے فقدان کے خاتمے کی سبیل کرے گی۔ چیئرمین تحریک انصاف نے مزید کہا کہ ریاست کی قوت عوام ہی سے کشید کی جاتی ہے۔

عمران خان نے فوج کے متعلق قائداعظم کا فرمان بھی ٹوئٹ کرایا جس میں قائداعظم نے فوج سے کہا تھا کہ ’ یہ نہ بھولیے کہ آپ لوگ جو مسلح افواج میں ہیں، عوام کے خادم ہیں۔ قومی پالیسی آپ لوگ نہیں بناتے۔ یہ ہم شہری لوگ ہیں جو ان معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں اور آپ کا فرض ہے کہ جو ذمہ داری آپ کو سونپی جائے، اسے پورا کریں۔

قیادت نے پنجاب اور کے پی اسمبلیاں تحلیل کرنے کی منظوری دے دی، فواد چوہدری

لاہور: پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ قیادت نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں تحلیل کرنے کے فیصلے کی توثیق کردی ہے، جمعہ کو پنجاب اور ہفتے کو خیبر پختون خوا کا پارلیمانی اجلاس ہوگا جس کے بعد دونوں اسمبلیوں کو توڑ دیا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں سے مستعفی ہونے سے متعلق پارٹی کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں استعفے اور عام انتخابات کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں اعظم سواتی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں تحلیل کرنے کی توثیق کردی ہے، سندھ اور بلوچستان سے ہمارے ممبر اپنے استعفے جمع کرائیں گے، اسپیکر قومی اسمبلی کو ممبران کے استعفے منظور کرنے کا کہا جائے گا۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ جمعہ کو پنجاب کی پارلیمانی پارٹی اور ہفتے کو کے پی کے کا پارلیمانی اجلاس ہوگا جس کے بعد دونوں اسمبلیوں کو توڑا جائے گا، عمران خان سے کے پی کے کے وزیر اعلیٰ کی ملاقات ہو گئی، کل وزیر اعلیٰ پنجاب ملیں گے۔

انہوں نے کہا کہ استعفوں سے ملک بھر میں 567 نشستیں خالی ہوجائیں گی، آئینی طور پر 90 روز میں پنجاب اور کے پی میں الیکشن کرانے ہوں گے، اپوزیشن کو نگران حکومت کے لیے اپنے نام لانے کی دعوت دی جائے گی، اگر ہم استعفی دیں گے تو الیکشن کمیشن 90 دن میں الیکشن کروانے کا پابند ہوگا، الیکشن کمشن ن لیگ کا ترجمان نہ بنے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کو کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے الیکشن کچھ ماہ بعد بھی ہوں، فوری الیکشن کا مطالبہ ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پارلیمانی پارٹی اجلاس جمعہ کو طلب کیا ہے، ہم اب بھی چاہتے ہیں ملک میں عام انتخابات کرائے جائیں، حکومت عام انتخابات کااعلان کرے اور قومی اسمبلی بھی تحلیل کرے ہمیں یقین ہےعوام پی ٹی آئی کو پہلے سے بھی زیادہ مینڈیٹ دے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ اعظم سواتی کی گرفتاری پر شدید احتجاج کیا جائے گا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا یہ ایک سلسلہ ہے جس میں 11 سال کے بچوں کو بھی گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا، ہمارے انسانی حقوق کے ادار ے سوتے رہے اور کسی نے نوٹس نہیں لیا۔

لاہور زمان پارک میں عمران خان کے زیر صدارت مشاورتی اجلاس میں بابر اعوان اور بیرسٹر علی ظفر نے اسمبلیاں تحلیل یا مستعفی ہونے کے معاملات پر بریفنگ دی۔

قانونی ماہرین نے رائے دی کہ اسمبلیاں تحلیل ہوتی ہیں تو نگران سیٹ اپ تک موجودہ وزیراعلی ہی رہیں گے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگران سیٹ اپ پر اتفاق نہ ہوا تو الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا، نگران سیٹ اَپ کا اختیار الیکشن کمیشن کو ملنے سے فائدہ پی ڈی ایم کو ہوگا۔

اجلاس میں مستعفی ہونے کے بجائے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے آپشن پر مشاورت کی گئی۔ پارٹی رہنماؤں نے مشورہ دیا کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے سے امپورٹڈ حکومت کو ہر صورت عام انتخابات کروانا پڑیں گے۔

اجلاس میں اسمبلیاں تحلیل کرنے یا مستعفی ہونے کا اختیار پارٹی چئیرمین عمران خان کو دے دیا گیا۔ وزیراعلی کے پی کے نے کہا کہ پارٹی چیئرمین جو فیصلہ کریں گے اس پر من و عن عمل ہوگا۔

عمران خان نے موجودہ صورتحال پر پارلیمانی پارٹی کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔ فیصلے سے قبل وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الہی کو بھی اعتماد میں لینے پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ پنجاب میں اسمبلی تحلیل کرنے، اسمبلی سے مستعفی ہونے یا اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر کیا کیا آئینی آپشنز ہیں۔ بتایا گیا کہ وزیر اعلی کسی بھی وقت اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس جاری کرسکتے ہیں، وزیر اعلی کی ایڈوائس پر گورنر 48 گھنٹے میں اسمبلی تحلیل کرنے کے پابند ہوں گے۔

بتایا گیا کہ وزیراعلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کی صورت میں وزیر اعلی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس نہیں دے سکتے، اپوزیشن کسی بھی وقت عدم اعتماد کی تحریک جمع کروا سکتی ہے، اپوزیشن کو اسمبلی کی مجموعی تعداد کے 20 فیصد ارکان کے دستخطوں کے ساتھ تحریک جمع کروانا ہوگی۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر اپوزیشن کو تحریک کے حق میں 186 ووٹ حاصل کرنا ہوں گے، عدم اعتماد کی تحریک جمع کروانے کے لیے اجلاس کا جاری ہونا یا نہ ہونا ضروری نہیں ہے، اعتماد کے ووٹ کے لیے گورنر پنجاب وزیر اعلی کو کہہ سکتے ہیں۔

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ گورنر کو خصوصی اجلاس بلانا ہوگا جس میں وزیر اعلی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جاسکتا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی کے طلب کردہ اجلاس کے دوران گورنر اعتماد کے ووٹ کے لیے نہیں کہہ سکتے، جاری اجلاس کے ہوتے ہوئے گورنر اپنا خصوصی اجلاس نہیں بلاسکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ٖفیصلہ کیا گیا کہ پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے یا مستعفی ہونے کے حوالے سے تمام قانونی آپشنز اور سیاسی ڈویلپمنٹ پر گہری نظر رکھی جائے گی۔

عمران خان کی جان کو خطرہ ہے، پنڈی جلسہ ملتوی کردیں، وزیر داخلہ

اسلام آباد: وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ ایجنسیوں کی رپورٹ ہے کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے لہذا پی ٹی آئی پنڈی کا جلسہ ملتوی کردے۔

رانا ثناء اللّٰہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان راولپنڈی میں اجتماع کرنے کے لیے بضد ہیں، میرا مشورہ ہے کہ عمران خان یہ بے مقصد اجتماع ملتوی کردیں، چاہیے تو یہ تھا کہ وہ پہلے ہی 26 نومبر کے اجتماع کو ملتوی کرتے، مگر انہوں نے اہم تعیناتی کے آئینی عمل کو تماشا بنانے کے لیے لانگ مارچ کا ڈھونگ رچایا۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان کو اب پنڈی سے الیکشن کی تاریخ نہیں ملے گی، آپ کو اسٹیبلشمنٹ الیکشن کی تاریخ نہیں لے کر دے گی، یہ بات اب پرانی ہوگئی، آپ کے ان سیاسی اجتماعات کے ذریعے انتخابات کی تاریخ اسٹیبلیشمنٹ سے ملنا ہوتی تو مل چکی ہوتی، عمران خان کو مشورہ دیتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کی بجائے سیاسی قیادت سے بات کریں، اجتماع نہ ہو تو عمران خان شرمندگی سے بچ سکتے ہیں۔

وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ایجنسیوں کی رپورٹ ہے، آج کے اجتماع میں عمران خان کی جان کو بھی خطرہ ہے، اجتماع سے کوئی بھی دہشت گرد فائدہ اٹھاسکتا ہے، حکومت کی طرف سے دہشتگردی کے خدشات کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کر دی گئی ہے، ریڈ الرٹ جاری ہوا ہے کوئی دہشت گرد تنظیم اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سیاست دان بنیں، ضد چھوڑیں، سیاستدانوں میں واپس آئیں، پی ڈی ایم سے ملیں۔ مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری سے بھی ملیں، عمران خان میاں نواز شریف اور شہباز شریف سے ملنا چاہیں تو وہ بھی انکار نہیں کریں گے، میں بھی اس سلسلے میں عمران خان کی مدد کرنے کے لئے تیار ہوں، ڈیڈ لاک بات چیت سے ختم ہوتے ہیں عمران پارلیمنٹ میں واپس آئیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اب اپنے آئینی رول سے باہر نہیں آئے گی، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ وہ سیاسی کردار ادا نہیں کریں گے، آرمی چیف عاصم منیر کا بھی کردار تھا کہ فوج کا سیاسی رول ختم ہونا چاہیے ، آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ ختم کرنے کے حوالے سے ادارے کو عمل کرنا ہے۔