پاکستان اورامریکا کا فوجی اڈوں پرکوئی نیا معاہدہ نہیں ہوا، دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں امریکا کا کوئی فوجی اڈہ یا ائیر بیس نہیں، اور دونوں ممالک کے مابین وجی اڈوں کے قیام کا کوئی نیا معاہدہ بھی نہیں ہوا۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امریکا کا کوئی فوجی اڈہ یا ائیر بیس نہیں، اور نہ ہی پاکستان اور امریکا کے درمیان فوجی اڈوں کے قیام کا کوئی نیا معاہدہ ہوا ہے، دونوں ممالک کے مابین ماضی کے ائیر اور گراؤنڈ لائن آف کمیونیکیشن کے معاہدے ہیں۔ امریکا کو افغانستان کے لئے فوجی اڈے دینے کے حوالے سے واضح بیان دے چکے ہیں، امریکا کا پاکستان میں کوئی ائربیس یا اڈہ نہیں اور نہ ہی اس طرح کا کوئی پلان ہے، امریکا کے ساتھ 2001 کے تعاون کے فریم ورک کے تحت کام کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں افعانستان کے امن میں بہتری آئے، افغانستان سے عالمی فورسز کے بعد سکیورٹی خلا پیدا نہ ہو، ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کا واحد حل سیاسی ہے اور کبھی بھی کوئی فوجی حل نہیں تھا۔

زاہد حفیط نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے ہماری پالیسی تبدیل نہیں ہوئی، بھارت بامقصد مذاکرات کے لئے سازگار ماحول پیدا کرے، تنازعہ کشمیر کے حل بغیر بامقصد مذاکرات ممکن نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال دگرگوں ہے، کشمیری بھارتی فوج کے ہاتھوں ٹارچر ریپ اور ماورائے عدالت قتل جیسے سنگین جرائم کا سامنا کر رہے ہیں، عالمی برادری کشمیر کی صورت حال کا نوٹس لے۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر کا بیان نا قابل قبول ہے، پاکستانی عمارت کی تصاویر کا استعمال قابل مذمت ہے، سیول میں ہمارا سفارتخانہ معاملے کی تحقیقات کررہا ہے، پاکستان کی پالیسی شن چیانگ صوبے پر تبدیل نہیں ہوئی، شن چیانگ صوبے میں حالات چین کا اندرونی معاملہ ہے۔ فلسطین میں 21 مئی کو سیز فائر اعلان مثبت پیش رفت ہے، ہم مسئلہ فلسطین کے پائیدار اور مستقل حل کے حامی ہیں، فلسطین کا حل دو ریاستی حل میں ہی پنہاں ہے، فلسطین میں انسانی حقوق خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ سطح پر تحقیقات ہونی چاہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستانی کے حکام ترکی کے ساتھ رابطے میں ہیں، پاکستان میں کرونا مثبت کیسز کی شرح میں تیزی سے کمی آرہی ہے، پاکستان میں بہتر حالات بارے ترکی کو آگاہ رکھے ہوئے ہیں، بھارتی سفارتکار بشمول فیملی ممبرز بارہ افراد پاکستان آئے، انکے پاس کورنا کے نیگیٹو رپورٹس تھیں ، ہم نے ایس او پی کے تحت انکے ٹیسٹ کرائے ، ان میں سے ایک خاتون کا کورونا مثبت آیا ، انکو ڈرائیور سمیت 14 دن کورنٹین کر دیا ہے۔

امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے کا جائزہ لیا جارہا ہے، امریکہ

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع لائڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا میں کسی صورت جلد بازی نہیں کی جائے گی۔

نیٹو کی تقریب سے خطاب کے دوران امریکی وزیر دفاع لائڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ افغانستان سے کسی بھی صورت جلد بازی میں فوج کا انخلا مکمل نہیں کیا جائے گا، امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے اور اس بات کویقینی بنایا جارہا ہے کہ فریقین معاہدے کی تمام شرائط کو تسلیم کرتے ہیں کہ نہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے افغانستان میں فوجی انخلا سے متعلق تمام اتحادیوں کو مشاورت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ امریکا بغیر کسی منظم طریقے یا جلد بازی میں افغانستان سے افواج واپس نہیں بلائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال طالبان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان امن معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت امریکا نے مئی 2021 تک تمام غیر ملکی افواج واپس بلانی تھیں تاہم جو بائیڈن انتظامیہ نے طالبان پر امن معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدہ کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔

جوبائیڈن نے عہدوں کیلئے امیدواروں کا فیصلہ کرلیا

واشنگٹن: حال ہی امریکی صدارتی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والے جوبائیڈن نے اپنی کابینہ کی تشکیل کے لیے سوچ بچار شروع کردی ہے اور اس ضمن میں وزیر خارجہ کے لیے تجربہ کار سفارت کار انٹونی بلنکن کا انتخاب کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر خارجہ کی اہم ذمہ داری اوباما کے دور میں نائب سیکرٹری خارجہ اور قومی سلامتی کے نائب مشیر رہنے والے 58 سالہ انٹونی بلنکن کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق انٹونی بلنکن کی بطور وزیر خارجہ نامزدگی کا اعلان کل کیے جانے کا امکان ہے جب کہ بائیڈن کے ایک اور قریبی ساتھی، جیک سلیوان کو بھی قومی سلامتی کا مشیر نامزد کرنے کی بھی توقع کی جارہی ہے۔

باراک اوباما دور میں سیکرٹری برائے ڈیفنس پالیسی کی خدمات انجام دینے والی مشیل فلورنائے کو سیکرٹری دفاع کی اہم ذمہ داری سونپنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ 59 سالہ مشیل فلورنائے بل کلنٹن کے دور میں بھی وزارت دفاع میں خدمات انجام دے چکی ہیں۔ اسی طرح کئی ممالک میں سفارت کاری کا 35 سالہ تجربہ رکھنے والی کار لنڈا تھامس گرین فیلڈ کو اقوام متحدہ میں سفیر نامزد کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں جو بائیڈن کورونا سے نمٹنے کیلیے ٹرانزیشن پیریڈ کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے چکے ہیں۔

ٹرمپ الیکشن میں دھاندلی کے بیانیے پرقائم

واشنگٹن: امریکی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج میں ڈیموکریٹ امیدواربائیڈن کی برتری واضح ہونے کے بعد بھی صدر ٹرمپ اپنی فتح اور انتخابات میں دھاندلی کے دعوے پر قائم ہیں۔

ایک بار پھر امریکی صدر نے مختلف ٹوئٹس میں اپنے دعوے دہرائے۔ انہوں نے سب سے پہلے ٹوئٹ داغا ’’میں الیکشن جیت چکا ہوں‘‘۔ ٹوئٹر نے اس پوسٹ کے ظاہر ہوتے ہی اس پر وضاحتی نوٹ دے دیا کہ سرکاری ذرائع انتخابات کے بارے میں کچھ اور بتاتے ہیں۔ اس سے اگلے ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے جارجیا میں جاری گنتی کو ’’جعلی‘‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وہاں ووٹوں کی تصدیق کرنے نہیں دی جارہی۔ ٹوئٹر نے اس دعوے پر بھی خلاف حقیقت کی تنبیہ سے نشان زد کردیا۔

اسی دوران ایک اور دوا ساز کمپنی موڈرینا کی جانب سے اپنی تیار کردہ ویکسین کے 95 فیصد مؤثر نتائج آنے کی اطلاع پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کورونا وائرس کو ایک بار پھر چینی وبا قرار دیتے ہوئے ایک اور دعویٰ کیا کہ کورونا وبا کو روکنے کے لیے اہم دریافتیں ان کی زیر نگرانی ہوئی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ پنسلوینیا میں ان کی کمپین کی جانب سے کیا گیا مقدمہ واپس لینے کی جعلی خبر پھیلائی گئی۔ ہم الیکشن کے اپنے نگرانوں کو ہراساں کیے جانے اور گنتی کے عمل دور رکھنے کے کیس پر قائم ہیں۔ انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ وہ عدالت لپیٹ دیں گے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

اگرچہ سیاسی و قانونی مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی جانب سے شروع کی گئی قانونی چارہ جوئی سے انتخابی نتائج میں کوئی غیر معمولی تبدیل خارج از امکان ہے تاہم صدر ٹرمپ اپنے دعوؤں کے عین مطابق اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹیں اور مشکلات پیدا کررہے ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کی جانب سے تاحال انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے اور اقتدار کی متنقلی کا عمل شروع نہ کرنے کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ نومنتخب صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو مسائل کا سامنا ہوگا۔ کیوں کہ امریکا میں کورونا کی دوسری لہر کی شدت بڑھ رہی ہے اور نئی انتظامیہ کو آئندہ برس جنوری میں امور مملکت سنبھالنے کے لیے اس دوران پہلے سے تیاری کرنا ہوگی۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے کے ساتھ ساتھ نو منتخب صدر کو تاحال دفاع، معیشت وغیرہ جیسے ریاستی امور سے متعلق باضابطہ ریاستی ذرائع تک رسائی نہیں دی گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق آئندہ دنوں میں نومنتخب صدر جو بائیڈن کو اس تاخیر کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ کے حامیوں کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ

واشنگٹن: ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں کے سپریم کورٹ کی جانب مارچ اور انتخابی نتائج کے خلاف مظاہروں کے دوران کئی مقامات پر مقابل مظاہرین اور پولیس سے تصادم کے نتیجے میں ایک شخص کے زخمی اور 20 افراد گرفتار ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گزشتہ شب سے واشنگٹن سمیت کئی امریکی ریاستوں میں ٹرمپ کے حامیوں ںے بڑی تعداد میں جمع ہوکر انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کیا جس میں ’’چوری بند کرو‘‘ اور ’’ہر ووٹ گنتی کرو‘‘ کے نعرے لگائے۔

دارالحکومت میں آج ہونے والے احتجاج میں کشیدگی بڑھتے ہوئے کئی مقامات پر تصادم کی صورت حال بھی پیدا ہوگئی۔ کئی مقامات پر تصادم کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کی گئیں۔ حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوچکے ہیں۔

ہفتے کی صبح صدر ٹرمپ نے ان مظاہرین کی خاموش حمایت کا اشارہ دیا ہے۔ اپنے گولف کلب جاتے ہوئے ان کے صدارتی قافلے نے وہ راستہ اختیار کیا جہاں ان کے حامی سڑک کنارے موجود تھے۔ صدر کی گاڑیوں کا قافلہ دیکھتے ہی مظاہرین نے ’’یو ایس اے ‘‘، ’’چار سال اور‘‘ کے نعرے لگانا شروع کردیے۔

واضح رہے کہ امریکی انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج سامنے آچکے ہیں جس کے بعد جو بائیڈن کو 306 الیکٹرول ووٹ حاصل ہوئے ہیں جو کہ صدارت کے لیے واضح برتری ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ اول دن سے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہیں اور ان کی کمپین ٹیم کئی مقامات پر نتائج کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرچکی ہے۔

ٹرمپ کے حامی دائیں بازو کے شدت پسند گروپوں نے انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کے لیے ’’ملین میگا مارچ‘‘ کا اعلان کیا تھا اور مختلف شہروں میں اس حوالے سے مظاہروں کا آغاز ہوگیا ہے۔ ہفتے کی رات کو صدر ٹرمپ کے حامیوں نے سپریم کورٹ کی عمارت کی جانب مارچ اور انتخابی دفاتر کے سامنے مظاہرے کیے۔

جوبائیڈن نئے امریکی صدرمنتخب

واشنگٹن: امریکی صدارتی انتخابات میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن بالآخر صدر ٹرمپ کو شکست دے کر امریکا کے 46 ویں صدر منتخب ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ریاست پنسلونیا کے 20 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے کے بعد انتخابات میں کام یاب ہوچکے ہیں۔ امریکا میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں جوبائیڈن نے مخالف امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانٹے دار مقابلے کے بعد فتح اپنے نام کرلی ہے۔ صدارتی الیکشن کے فاتح جوبائیڈن نے امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا۔

امریکی نیوز چینل سی این این کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن جس ریاست میں پیدا ہوئے وہاں سے انہیں برتری حاصل ہوچکی ہے جس کے بعد انہیں پنسلونیا کے 20 الیکٹورل ووٹ مل گئے ہیں۔ اس طرح ان کے مجموعی الیکٹورل ووٹ کی تعداد 273 ہوچکی ہے جب کہ ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے ان کے الیکٹورل ووٹ کی تعداد 284 بتائی جارہی ہے۔
بائیڈ کو پاپولر ووٹ میں اپنے حریف صدر ٹرمپ پر 40 لاکھ ووٹوں کی برتری بھی حاصل ہوگئی ہے اور ان کے مجموعی ووٹوں کی تعداد ساڑھے 7 کروڑ 48 لاکھ سے تجاوز کرگئے ہے جب کہ مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونا باقی ہے۔ صدر ٹرمپ نے 7 کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کیے ہیں تاہم ان کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد تاحال 214 ہی ہے۔

اس سے قبل سب سے زیادہ ووٹس حاصل کرنے کا اعزاز سابق صدر اوباما کے پاس تھا۔ انہوں نے 2008 کے انتخاب میں 6 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس بار کورونا وبا کے باعث 6 کروڑ سے زائد ووٹس ڈاک کے ذریعے کاسٹ کیے گئے جن کی گنتی کی وجہ سے الیکشن نتیجے میں تاخیر ہوئی جب کہ اس بارامریکا میں ٹرن آؤٹ بھی تاریخی رہا۔

یوں تو کانٹے دار مقابلے میں جوبائیڈن کو ہمیشہ ہی صدر ٹرمپ پر برتری حاصل رہی لیکن کسی بھی مرحلے پر یہ سبقت بہت زیادہ فرق سے نہیں رہی اور واضح نتائج سامنے آنے امریکا سمیت دنیا کی نظریں نتائج پر جمی رہیں۔ جب جوبائیڈن کو ٹرمپ پر صرف 20 الیکٹورل ووٹ کی سبقت حاصل تھی تو آخری 6 ریاستوں کے نتائج کے انتظار نے مقابلے کو مزید سنسنی خیز بنا دیا اور بالآخر پنسلوینیا سے کام یابی کے بعد بائیڈن نے صدارتی انتخاب میں کام یابی کے لیے درکار 270 الیکٹورل ووٹس کا سنگ میل طے کرلیا۔

اس سے قبل ہی صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ میں بھارتی اکثریت سے الیکشن جیت چکا ہوں۔ ٹوئٹر نے ان کی اس پوسٹ پر انتباہ چسپاں کردیا جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اس پوسٹ میں فراہم کی گئی معلومات کی توثیق نہیں ہوتی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں یہ بھی کہا کہ پینسلوینیا میں ووٹوں کی گنتی کے دوران فراڈ کیا جا رہا ہے۔ ان ووٹوں کی وجہ سے پینسلوینیا اوردوسری ریاستوں میں نتائج بدلے گئے۔ پینسلوینیا میں غیرقانونی طورپرانتخابات کے دن رات آٹھ بجے کے بعد بڑی تعداد میں ووٹ وصول ہوئے۔ واضح رہے الیکشن مہم کے آغاز کے بعد سے ٹوئٹر کی جانب سے ٹرمپ کے 38 ٹوئٹس پر انتباہ جاری کیا جاچکا ہے۔

اس سے قبل بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی الیکشن میں مخالف جماعت ڈیموکریٹ پر ووٹس چوری کا الزام عائد کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا اور تین ریاستوں پینسلوینیا، مشی گن اور جارجیا میں گنتی کے دوران اپنے مبصرین کی غیر موجودگی پر گنتی کا عمل رکوانے اور ریاست وسکونسن کے لیے بھی عدالت سے رجوع کیا تھا۔

امریکہ انتخابات، جوبائیڈن 264 الیکٹورل ووٹ لیکر ٹرمپ سے آگے

واشنگٹن: امریکی صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور جوبائیڈن کو جیت کے لیے صرف 6 الیکٹورل ووٹ درکار ہیں۔

امریکا میں 59 ویں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ مکمل ہوجانے کے 2 دن بعد بھی ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، 5 ریاستوں کے نتائج آنا باقی ہیں تاہم اب تک آنے والے نتائج کے مطابق 538 الیکٹورل ووٹس میں سے 77 سالہ ڈیمو کریٹ امیدوار جو بائیڈن 264 ووٹ لیکر ری پبلکن پارٹی کے امیدوار اور موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے آگے ہیں جب کہ صدر ٹرمپ 214 ووٹ حاصل کرسکے ہیں تاہم مختلف شہروں میں نتائج میں تاخیر کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن اپنی فتح سے صرف 6 الیکٹورل ووٹ کی دوری پر ہیں، 6 الیکٹورل ووٹ ملنے کی صورت میں جوبائیڈن کامیابی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرلیں گے اور دنیا بھر کی نگاہیں 5 ریاستوں کے نتائج پر جمی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ریاست نواڈا، پنسلوینیا، ایری زونا، جارجیا اور شمالی کیرولینا سے انتخابی نتائج جاری نہ ہو سکے۔ نواڈا میں میل ان ووٹنگ موصول ہونے کا سلسلہ 10 نومبر تک جاری رہے گا جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کر کے نتیجے کا اعلان 12 نومبر تک متوقع ہے۔

دوسری جانب ریاست پنسلوینیا میں صدر ٹرمپ کی پارٹی نے ووٹوں کی گنتی کے عمل میں اپنے مبصرین شامل نہ کرنے پر احتجاج کیا جس پر گنتی کا عمل روک دیا گیا جس کے باعث نتائج میں تاخیر کا سامنا ہے۔ دوسری جانب ریاست ایری زونا اور جارجیا میں ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج کا اعلان کل تک کر دیا جائے گا جب کہ شمالی کیرولینا سے حتمی نتائج آنے کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی گئی۔

انتخابات میں ڈالے گئے تقریباً 14 کروڑ ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے جو خود امریکی تاریخ میں صدارتی انتخاب کے دوران ڈالے گئے ووٹوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا میں ووٹروں کی مجموعی تعداد 24 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ 2016 کے صدارتی انتخاب میں، جس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بنے تھے، 59.2 فیصد امریکی ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔ اب تک کی گنتی کے مطابق یہ شرح 60 فیصد کے قریب پہنچ رہی ہے اور بعض سیاسی مبصرین نے یہاں تک پیش گوئی کردی ہے کہ یہ شرح 65 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

جو بائیڈن اگرچہ اپنی فتح کےلیے بہت پرامید ہیں لیکن انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ جب تک مکمل نتائج نہیں آجاتے، تب تک وہ اپنی فتح کا اعلان بھی نہیں کریں گے۔ جب کہ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے مختلف ریاستوں میں انتخابی عمل پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

امریکہ انتخاب، جوبائیڈن فتح کے قریب

واشنگٹن: امریکی صدارتی انتخاب جیسے جیسے فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے سنسنی خیزی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن اپنی فتح سے صرف چھ الیکٹورل ووٹس کی دوری پر ہیں۔ اگر ان کی پارٹی صرف نیواڈا سے جیتنے میں بھی کامیاب ہوگئی تو وہاں کے چھ الیکٹورل ووٹس کے ساتھ بائیڈن بھی حتمی طور پر فاتح قرار پائیں گے۔

اس وقت جبکہ صرف چند ریاستوں کے حتمی انتخابی نتائج آنے سے رہ گئے ہیں، تقریباً 14 کروڑ ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے جو خود امریکی تاریخ میں صدارتی انتخاب کے دوران ڈالے گئے ووٹوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا میں ووٹروں کی مجموعی تعداد 24 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ 2016 کے صدارتی انتخاب میں، جس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بنے تھے، 59.2 فیصد امریکی ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔ اب تک کی گنتی کے مطابق یہ شرح 60 فیصد کے قریب پہنچ رہی ہے اور بعض سیاسی مبصرین نے یہاں تک پیش گوئی کردی ہے کہ یہ شرح 65 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ اب ووٹوں کی گنتی بھی اختتامی مرحلے پر داخل ہوچکی ہے اور امید ہے کہ اگلے چند گھنٹوں کے دوران تمام ریاستوں سے مکمل، حتمی لیکن غیر سرکاری نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔ فی الحال 538 الیکٹورل ووٹس میں سے 264 الیکٹورل ووٹس حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن فیصلہ کن فتح کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکا میں صدارتی امیدوار کی حتمی فتح کےلیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ 270 یا زیادہ الیکٹورل ووٹس حاصل کرے۔ دوسری جانب موجودہ امریکی صدر اور ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ 214 الیکٹورل ووٹس حاصل کرسکے ہیں۔ اب ان کی جیت کا مکمل دار و مدار سوئنگ اسٹیٹس پر ہے۔ البتہ امریکی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ کو سوئنگ اسٹیٹس سے بھی تمام الیکٹورل ووٹس مل جائیں تب بھی وہ مجموعی طور پر 268 الیکٹورل ووٹ ہی حاصل کرپائیں گے۔

جو بائیڈن اگرچہ اپنی فتح کےلیے بہت پرامید ہیں لیکن انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ جب تک مکمل نتائج نہیں آجاتے، تب تک وہ اپنی فتح کا اعلان بھی نہیں کریں گے۔
قبل ازیں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مینیجر نے اعلان کیا تھا کہ وسکونسن میں دھاندلی ہوئی ہے اور ٹرمپ وہاں دوبارہ گنتی کی باضابطہ درخواست دائر کریں گے جبکہ ٹرمپ کمپین ٹیم نے ریاست مشی گین میں ووٹوں کی گنتی رکوانے کےلیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ علاوہ ازیں ٹرمپ کی ٹیم نے پنسلوانیا میں بھی گنتی رکوانے کےلیے عدالت جانے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

حالیہ امریکی صدارتی انتخاب میں عوامی جوش و خروش بہت نمایاں ہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جو بائیڈن وہ پہلے صدارتی امیدوار بن چکے ہیں جنہوں نے 7 کروڑ سے زیادہ عوامی ووٹ حاصل کیے ہیں۔ لیکن ٹرمپ بھی 6 کروڑ 86 لاکھ ووٹ حاصل کرچکے ہیں۔ اس طرح دونوں صدارتی امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد میں صرف 2.4 فیصد کا فرق ہے۔ دریں اثنا ڈیلاویئر سے سارہ میک برائیڈ نامی ایک ٹرانس جینڈر نے امریکی سینیٹ کی نشست جیت لی، یہ بھی امریکی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔
یہی نہیں بلکہ نارتھ ڈکوٹا سے ایک ایسے امیدوار کو فاتح قرار دیا جاچکا ہے جو ایک ماہ پہلے ہی کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرچکا تھا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں نے وائٹ ہاؤس کے باہر ٹرمپ کے خلاف احتجاج کیا جبکہ مختلف مقامات پر ٹرمپ اور جو بائیڈن کے حامیوں نے علیحدہ علیحدہ مظاہرے بھی کیے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے 5 سیاہ فام مسلمان امیدواروں نے بھی وسکونسن، فلوریڈا اور ڈیلاویئر کے قانون ساز ایوانوں کا انتخاب جیت کر امریکا میں ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ ان میں تین مسلم خواتین بھی شامل ہیں۔

امریکا میں مسلح شخص کی فائرنگ میں 3 افراد ہلاک اورایک زخمی

لاس ویگاس: امریکا میں مسلح شخص نے فائرنگ کرکے 3 افراد کو قتل کردیا جب کہ پولیس کی فائرنگ میں حملہ آور بھی مارا گیا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ریاست نیواڈا میں پولیس کو اطلاع ملی کہ رہائشی عمارت میں ایک مسلح شخص موجود ہے جس نے تین افراد کو نشانہ بنایا ہے۔

پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو وہاں 2 لاشیں پڑی تھیں اور 2 افراد شدید زخمی تھے جبکہ ایک مسلح شخص پارکنگ ایریا میں اپنی گاڑی کے اندر موجود تھا۔ پولیس افسران نے مسلح شخص کو اسلحہ پھینکنے اورگرفتاری دینے کو کہا تاہم حملہ آور بحث و تکرار کرنے لگا جس کے دوران پولیس کی فائرنگ میں ملزم مارا گیا۔ دریں اثنا ریسکیو ادارے کے اہلکاروں نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کیا جہاں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے جب کہ ایک کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

پولیس نے تاحال ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت ظایر نہیں کی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ یاد رہے کہ آج امریکا میں صدارتی الیکشن کے بعد ووٹنگ کا عمل جاری ہے جس میں صدر ٹرمپ 213 الیکٹرول ووٹ حاصل کرسکے ہیں جب کہ مخالف امیدوار جوبائیڈن کو 238 الیکٹرول ووٹس کے ساتھ برتری حاصل ہے۔

امریکا میں کورونا وائرس کے حملے میں تیزی

واشنگٹن: اس وقت جبکہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کی دوسری لہر نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں اس وبا کی تیسری لہر بھی شروع ہوچکی ہے۔

واضح رہے کہ کووِڈ 19 کی عالمی وبا سے مقابلے میں امریکا اور بھارت کو ناکام ترین ممالک قرار دیا جارہا ہے جہاں اب تک اس وبا کی شدت نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔

جمعہ 23 اکتوبر کو امریکا میں کورونا وائرس کے 83,757 مصدقہ نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 26 اکتوبر کو یہ تعداد 74,323 رہی۔ واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ ایک تجزیئے کے مطابق، امریکا میں اب تک کورونا وائرس کی دو لہریں آچکی ہیں جبکہ کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں حالیہ اضافے کو تیسری لہر قرار دیا جارہا ہے۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تیسری لہر کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے جبکہ دسمبر 2020 تک امریکا میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ سے بھی زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ سرِدست یہ تعداد ڈھائی لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ اکتوبر کا مہینہ بھی ختم نہیں ہوا ہے۔

امریکا میں ادویہ اور غذاؤں سے متعلق مرکزی ادارے ’’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘‘ (ایف ڈی اے) کے سابق سربراہ اسکاٹ گوٹلیب نے گزشتہ روز سی این بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں خیال ظاہر کیا کہ بیشتر امریکی ریاستوں میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ بہت کم وقت میں اور بہت تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔

طبی ماہرین ٹرمپ انتظامیہ کے طرزِ عمل پر شدید نالاں ہیں جس نے پہلے اس وبا کی موجودگی سے انکار کیا، پھر اس کا پھیلاؤ روکنے میں تاخیر کرنے کے ساتھ ساتھ ناکافی اقدامات کا سہارا لیا۔ اب امریکی حکومت کا سارا زور اس وائرس کی دوا (بشمول ویکسین) تیار کرنے پر ہے لیکن اب بھی کورونا وبا کو قابو کرنے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں کورونا وبا کی پہلی لہر کبھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی اس لیے یہاں دوسری اور تیسری لہر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے قطع نظر کہ امریکا میں کورونا متاثرین کی تعداد میں حالیہ اضافے کو تیسری لہر کہا جائے یا نہیں، اتنا بہرحال طے ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بڑی وبا کے مقابلے میں خود کو بدترین طور پر ناکام ثابت کردیا ہے۔