افغانستان میں خانہ جنگی ہوسکتی ہے، امریکہ

واشنگٹن: امریکی جنرل مارک ملی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر افغانستان میں ایسی حکومت قائم نہ ہوسکی جس میں تمام اقوام اور طبقات کی نمائندگی ہو تو اس سے ملک میں خانہ جنگی پیدا ہوجائے گی اور شدت پسند جماعتیں منظم ہوجائیں گی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے خبردار کیا ہے کہ طالبان افغانستان میں مختلف الخیال مقتدر حلقوں اور تمام اقوام کے نمائندوں کو یکجا کر کے حکومت بنانے میں ناکام رہے تو ملک میں خانہ جنگی ہونے کا خدشہ ہے جو کسی کے بھی قابو میں نہیں آئے گی۔

امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے جنرل مارک ملی نے کہا کہ اگر طالبان قومی حکومت بنانے میں ناکام ہوتے ہیں تو اگلے 3 برسوں میں القاعدہ اور داعش جیسی جماعتیں دوبارہ منظم ہوکر ایک نئے اور زیادہ خطرناک روپ میں سامنے آسکتی ہیں۔

امریکی جنرل مارک ملی کا مزید کہنا تھا کہ طالبان اندرون اور بیرون ملک سب کے لیے قابل قبول ایک قومی حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکیں گے یا نہیں، اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے تاہم یہ بات واضح ہے کہ قومی حکومت کی تشکیل میں ناکامی سے تباہی کا سلسلہ پھر سے شروع ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے میں ضمانت دی گئی تھی کہ طالبان حکومت افغانستان میں القاعدہ اور داعش کو منظم نہیں ہونے اور افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

طالبان کے ہاتھ 85 ارب ڈالر کا جنگی ساز و سامان لگا

واشنگٹن: ریپبلکن کے رکن پارلیمنٹ جم بینکس نے الزام عائد کیا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ کی غفلت کے باعث 85 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی فوج کا سازوسامان طالبان کے قبضے میں چلا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس جم بینکس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کے بے ہنگم اور بے ترتیب انخلا کی وجہ سے طالبان کو 85 ​​ارب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی فوجی آلات تک رسائی حاصل ہوگئی۔

جم بینکس جو 20 سالہ افغان جنگ کو قریب دیکھ چکے ہیں اور اہم معلومات رکھتے ہیں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان اپنے پیچھے چھوڑے گئے امریکی فوجی ساز و سامان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن میں 75 ہزار گاڑیاں، 200 ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز جب کہ 6 لاکھ چھوٹے ہتھیار شامل ہیں۔

رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ افغان شدت پسند تنظیم کے پاس اب دنیا کے 85 فیصد ممالک سے زیادہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز ہیں جب کہ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ طالبان کے پاس بائیو میٹرک ڈیوائسز بھی ہیں جن میں انگلیوں کے نشانات، آنکھوں کے اسکین اور امریکا کی مدد کرنے والے افغان شہریوں کی نجی معلومات رکھی گئی تھیں۔

ریپبلکن رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ صدر جوبائیڈن کی غلط پالیسی اور ان کی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے ہوا ہے۔ افغان فوج نے مقابلہ کرنے کے بجائے پوسٹیں چھوڑ دیں یا ہتھیار ڈال دیئے تھے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں دو دہائیوں کے دوران امریکا نے افغان مسلح افواج کو بھاری مقدار میں ہتھیار اور جنگی آلات فراہم کیے تھے جو اب طالبان نے 15 اگست کو ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اپنے قبضے میں لے لیا۔

امریکا نے 20 برس کی ناکامی کے بعد افغانستان خالی کردیا

واشنگٹن: امریکی میڈیا کے مطابق بیس برس بعد امریکا نے افغانستان کو مکمل طور پر خالی کردیا، امریکا نے طالبان کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد کرتے ہوئے پیر اور منگل کی درمیانی شب کابل ایئرپورٹ بھی خالی کردیا۔

پنٹاگون نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے تمام امریکی افواج کا انخلا مکمل ہوگیا ہے اور اب کابل میں واقع حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ خالی ہوچکا ہے۔
پیر کے روز امریکی افواج کے مرکزی کمانڈر، جنرل کینتھ مک کینزی نے کہا کہ ایک جانب تو افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلا ہوچکا ہے اور دوم تمام امریکی شہریوں کو بھی وطن واپس لایا جارہا ہے۔

ایئرپورٹ خالی ہونے کے بعد طالبان کے مکمل زیر انتظام آچکا ہے اس خوشی میں طالبان نے ایئرپورٹ پر ہوائی فائرنگ بھی کی۔ جنرل کینتھ کے مطابق آخری طیارہ رات ڈیڑھ بجے پرواز کرگیا اور پاکستانی وقت کے مطابق یہ رات کے ساڑھے بارہ بجے کا وقت تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ 20 برس سے امریکی اور اتحادی افواج افغانستان میں موجود تھیں اور پورے مشن میں دوہزار امریکی فوجی جبکہ لاتعداد افغان طالبان اور لاکھوں عام بے گناہ شہری بھی مارے گئے۔ اس پورے مشن پر دو ٹریلیئن ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔

اب افغان سرزمین پر کوئی امریکی یا غیرملکی فوجی موجود نہیں۔ دوسری جانب کوئی امریکی سفارت کار بھی افغانستان میں موجود نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی فوجی کارروائی خاتمے کے ساتھ ہی امریکا نے کابل میں سفارتی امور بھی بند کردیے ہیں۔

امریکی جنرل کینتھ کے مطابق آخری پانچ طیارے امریکی افواج اور بعض شہریوں کو لے کر امریکا کی جانب روانہ ہوئےتاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض امریکی باشندے لاکھ کوشش کے باوجود بھی طیارے میں سوار نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کا بہت انتظار کیا لیکن وہ نہ پہنچ سکے، آخری پرواز کہاں روانہ ہوئی؟ یہ ابھی نہیں بتاسکتا۔

جنرل میکنزی کا کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ سے انخلا کے 18 روز بہت مشکل تھے، ہمارا پلان کچھ اور تھا تاہم سیکیورٹی صورتحال خراب ہونے کے سبب ہم نے اپنا پلان تبدیل کیا، ہم نے طالبان پر واضح کردیا تھا کہ دی گئی ڈیڈ لائن پر ہم اپنا اور اتحادی افواج کا انخلا مکمل کرلیں گے اور اس دوران مداخلت برداشت نہیں کریں گے تاہم طالبان نے انخلا میں ہمارے ساتھ تعاون کیا۔

امریکی جنرل نے مزید کہا کہ افغانستان میں 2 ہزار کے قریب داعش کے لوگ اب بھی موجود ہیں۔

نائن الیون واقعے کے بعد امریکہ نے القاعدہ اور اسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ دوسری جانب طالبان کا مؤقف تھا کہ وہ پہلے اسامہ بن لادن اور طالبان کے خلاف سانحہ 11 ستمبر میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش کرے۔ امریکی اور اتحادیوں نے اس وقت افغانستان پرحملہ کیا تاہم افغان طالبان نے گوریلا طرز کی جنگ پر اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔

افغان فوج لڑنا نہیں چاہتی تو اس میں امریکا کچھ نہیں کر سکتا، جوبائیڈن

کابل: امریکا نے ملبہ افغان سیاسی اور فوجی قیادت پر ڈال دیا۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوجوں کے انخلا کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فوج لڑنا نہیں چاہتی تو اس میں امریکا کچھ نہیں کر سکتا، ہم نے انہیں ہتھیار اور 20 سال تک ہر طرح کی تربیت دی، افغان فوجیوں کی تنخواہیں تک ہم ادا کرتے رہے۔

طالبان نے سرکاری ملازمین سے کہا ہے کہ تمام ملازمین معمول کی زندگی کا اعتماد کے ساتھ آغاز کریں اور کام پر واپس آ جائیں، انہیں ان کی تنخواہیں دی جائیں گی اور کچھ نہیں کہا جائے گا۔ کابل میں حالات معمول پر آرہے ہیں، کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔

امن کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی موجودہ صورت حال خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔عالمی رہنما افغانستان میں پیدا ہونے والی صورت حال پر فوری کارروائی کریں۔

کابل ایئر پورٹ امریکی فوج کے کنٹرول میں ہے اور ہوائی اڈے کو آپریشنل کردیا گیا ہے، جس کے بعد بڑی تعداد میں غیر ملکی سفارت کار اور شہری فوجی طیاروں کے ذریعے افغانستان چھوڑ رہے ہیں۔

بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات سفیروں اور سفارت خانے کے افسروں سمیت تمام عملے کو افغانستان سے نکال رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹونی جے بلنکن نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ٹیلی فون کیا اور دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے کوششوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں امریکہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینتونیو گتیرس نے کہا ہے کہ افغان عوام کی نئی نسل، خواتین، بچیوں، بچوں اور مردوں کے خواب ادھورے نہیں رہنے چاہئیں۔

طالبان انخلا کے مشن میں رکاوٹ نہ ڈالیں، جو بائیڈن کی اپیل

واشنگٹن: غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان میں سفارتی عملے اور شہریوں کے انخلا کے لیے بھیجے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 3ہزار سے بڑھاکر 5 ہزار کردی ہے، صدر جوبائیڈن نے نیشنل سیکیورٹی ٹیم سے مشاورت کے بعد امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکی مشن کے خاتمے اور عملے کی واپسی کے لیے 5 ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے جب کہ کابل کا رخ کرنے والے طالبان انخلا کے مشن میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔

امریکی صدر نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے اپنے فیصلے کا ایک بار پھر دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سمیت 4 امریکی صدور کے دور میں افغانستان میں امریکی افواج موجود رہی ہیں تاہم اب امریکا کے پانچویں صدر تک یہ جنگ منتقل نہیں کروں گا اور نہ ہونے دوں گا۔

امریکہ کے وفادار شہری واشنگٹن منتقل

واشنگٹن: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان سے امریکا کے وفادار افغان شہریوں اور ان کے اہل خانہ کے انخلا کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔ امریکا کے لیے کام کرنے والے افغان شہریوں نے اپنی جانوں کو لاحق خطرے کے باعث کابل میں امریکا منتقلی کے لیے مظاہرہ بھی کیا تھا۔

امریکی وزارت داخلہ کے دستاویز اور فلائٹ ٹریکر سے پتہ چلتا ہے کہ پہلی کھیپ میں 57 بچوں اور 15 شیر خوار سمیت 221 افراد کو خصوصی پرواز کے ذریعے واشنگٹن کے ڈولیئس ایئرپورٹ پر اتارا گیا ہے۔ افغان شہریوں کی امریکا منتقلی کے لیے مزید پروازیں بھی متوقع ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی صدر جوبائیڈن نے امریکا کے لیے کام کرنے والے افغان شہریوں اور ان کے اہل خانہ کی امریکا منتقلی اور آبادکاری کے لیے 10 کروڑ ڈالر کے فنڈ کی ہنگامی طور پر منظور دی تھی جب کہ اس سے قبل وہ 2 کروڑ ڈالر کی منظوری بھی دے چکے تھے۔

توقع کی جارہی ہے کہ امریکا کی مدد کرنے والے ڈھائی ہزار افغان شہریوں اور ان کے اہل خانہ کے پہلے دستے کو رواں ماہ کے آخر تک ورجینیا میں واقع امریکی فوجی اڈے فورٹ لی میں ٹھہرایا جائے گا جہاں وہ اپنے ویزا درخواستوں کی آخری کارروائی کا انتظار کریں گے۔

یوں تو امریکی قانون میں ایسے تارکین وطن کو امریکا میں سکونت دینے کی گنجائش ہے جنھوں نے امریکا کی مدد کی ہو تاہم ایسے خصوصی ویزوں کی تعداد نہایت کم تھی البتہ جمعرات کو امریکی ایوان نمائندگان نے قانون سازی کے ذریعے خصوصی امیگریشن ویزوں کی تعداد 8 ہزار تک بڑھانے کی منظوری دی تھی۔

واضح رہے کہ 24 جولائی کو امریکی نشریاتی ادارے ’’سی این این‘‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج کے لیے مترجم کی خدمات انجام دینے والے سہیل پردیس کو کابل میں طالبان نے اس وقت اغوا کرکے سر قلم کردیا جب وہ عید سے قبل پر اپنی بہن کو لینے گاؤں جا رہے تھے۔

امریکہ کی بھارت کو وارننگ

نئی دہلی: امریکا نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک پر بھارتی حکومت کو تنبیہ کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن گزشتہ روز جوبائیڈن حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار بھارت کے دورہ پر پہنچے جہاں انہوں نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک پر بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی انسانی حقوق کے معاملے کو پس پشت نہ ڈالے۔ تمام افراد کو احتجاج کا حق حاصل ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو، ہمیں سب کا احترام کرنا چاہیے۔

افغانستان کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی فورسز افغانستان سے جا نا ضروری ہیں تاہم سفارتی سطح پر ہماری موجودگی برقرار رہے گی، ایسے بہت سے پروگرام امریکی حکومت شروع کررہی ہے جس سے افغانستان کی اقتصادی ترقی اور سیکیورٹی میں تعاون ملے گا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ طالبان تیزی سے پیش قدمی کررہے ہیں جو انتہائی پریشان کن عمل ہے، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں عالمی سطح پر تسلیم کیا جائے اور پابندیاں ہٹائی جائیں تاہم طاقت کے زور پر طالبان اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے، اسکا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ مذاکرات کے ذریعے ان تمام معاملات کا حل ہے۔

شام کے دیرالزورمیں امریکی فوج اور ایرانی ملیشیا میں تصادم

دبئی :شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ ’سیرین آبزر ویٹری‘ کے مطابق سوموار کی شام دیر الزور کے مشرق میں العمر آئل فیلڈ پرتوپ خانے سے داغے متعدد گولے گرے۔ یہ آئل فیلڈ امریکی فوج کے ایک اڈے کے طورپر استعمال کیا جا رہی ہے۔حملے میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا تاہم جانی نقصان کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی ملیشیا نے مغربی فرات کے علاقے میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ دیر الزور سے کیا گیا۔

امریکی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی کہ پیر کو امریکی فوجیوں پر متعدد راکٹوں سے حملہ ہوا لیکن ابتدائی اطلاعات میں کسی کے زخمی ہونے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے اتحاد کے ترجمان کرنل وین ماروٹو نے ٹویٹ کیا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق 7:44 بجے ہوا ہے اور اس میں ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہاہے۔ ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملہ کس نے کیا تھا۔

ایک امریکی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ شام میں امریکی افواج نے اپنے دفاع میں توپ خانے سے گولے فائر کرکے راکٹ فائر کا جواب دیا۔

دریں اثنا دیز الزور کے دیہی علاقوں میں دھماکوں کی آوازوں کے درمیان امریکی افواج اور “بین الاقوامی اتحاد” کے جنگی طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئیں۔

یہ پیش رفت سوموار کے روز امریکی فوج کی طرف سے شام اور عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر کی گئی بمباری کے بعد سامنے آئی ہے۔

امن معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو طالبان سخت ردعمل دیںگے، ترجمان طالبان

دوحہ: طالبان نے کہا ہے کہ اگر امریکی فوجی افغانستان سے واپس نہ گئے تو ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہا کہ اگر 11 ستمبر 2021 تک امریکی فوجی افغانستان سے واپس نہیں جاتے تو یہ دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی جس پر طالبان جنگجو سخت ردعمل دینے کا حق رکھتے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹ پریس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ افغانستان میں امریکی سفارتی عملے کی حفاظت کے لیے 650 فوجی اہلکار موجود رہیں گے جب کہ باقی ماندہ فوجی اہلکار رواں برس 11 ستمبر تک واپس لوٹ آئیں گے۔

امریکی عہدیدار کے اس بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان طالبان سہیل شاہین نے جواب دیا کہ امن معاہدے میں طے پایا تھا کہ امریکا افغانستان سے اپنے تمام فوجی دستوں، مشیروں اور کنٹریکٹرز کو واپس بلالے گا۔

سہیل شاہین نے مزید کہا کہ اب اگر 650 فوجی اہلکار کسی بھی بہانے سے واپس نہ گئے یا ایک بھی غیر ملکی فوجی افغانستان میں رہا تو یہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے جس پر طالبان بھی کارروائی کرنے میں آزاد ہوں گے۔

ترجمان طالبان نے مزید کہا کہ غیرملکی فوجی کسی بھی مقصد کے لیے افغانستان میں موجود ہوں اسے ملک میں قبضہ سمجھا جائے گا۔ امریکا کو معاہدے کی پاسداری کرنا چاہیئے بصورت دیگر ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 29 فروری کو امریکا اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ میں امن معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت امریکی سمیت تمام غیر ملکی فوجی افغانستان سے واپس چلے جائیں گے اور اس دوران طالبان ان پر حملے نہیں کریں گے۔

امریکا کا فوجی کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف

پینٹاگون: امریکا نے گزشتہ سال 2020 میں دنیا بھر میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 23 عام شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف کرلیا ہے۔

پینٹاگون نے اپنی رپورٹ میں گزشتہ سال دنیا بھر میں امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 23 عام شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے تاہم یہ اموات غیر ارادی طور پر ہوئیں جب کہ امریکی افواج کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد کا تعلق عراق، افغانستان، صومالیہ، یمن اور نائیجیریا سے تھا۔

پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں 10 عام شہری زخمی بھی ہوئے جب کہ مارے جانے والے زیادہ تر افراد کا تعلق افغانستان سے تھا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کانگریس نے پینٹاگون کو ہلاک افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ کے طور پر دینے کے لیے 3 ملین ڈالر کی رقم دی تھی تاہم جو ابھی تک ادا نہیں کی گئی۔

دوسری جانب این جی او کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں مارے جانے والے عام شہریوں کی تعداد پینٹاگون کی جانب سے جاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے، دنیا بھر میں امریکی حملوں کے نتیجے میں تقریباً 102 عام شہری مارے گئے ہیں۔