منی پور میں مظالم چھپانے کیلئے بھارت کا امریکی وفود کو ویزا دینے سے انکار

منی پور: امریکی وزارت خارجہ نے بھارتی حکومت کی جانب سے رواں ہفتے منی پور کے دورے کیلئے آرہے مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن کے وفد کو ویزا جاری نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست منی پور میں اقلیتی طبقے پر مودی سرکار کے پرتشدد واقعات کا جائزہ لینے کیلئے آرہے امریکا کے مذہبی آزادی کمیشن کے وفد کو بھارتی حکومت نے ویزا مسترد کردیا ہے۔

مودی سرکار کی جانب سے ویزا مسترد کیے جانے والے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن کے تین مندوبین میں سے ایک پادری تھامس ریز بھی ہیں جنہوں نے امریکی ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ہم ممالک کا دورہ کرتے ہیں تاکہ ہم اس ملک میں مذہبی آزادی کی صورتحال کے اصل حقائق اور حالات جان سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی ملک کا دورہ کرکے وہاں کے مذہبی رہنماؤں، شہریوں سے بات چیت کرتے ہیں اور پھر حکومتی رہنماؤں سے بھی ملاقات کرتے ہیں تاکہ صورتحال پر انکا تبصرہ بھی مدنظر رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ذمہ داری ہوتی ہے صدر مملکت اور وزارت خارجہ کو مذہبی آزادی کے حوالے سے دنیا بھر کی صورتحال پر مشورہ دیں اور بھارت ان جگہوں میں سے ایک ہے جہاں ہم منی پور کے حالات کو سمجھنا چاہتے تھے تاکہ ہم اس معاملے میں بہت منصفانہ اور درست رائے قائم کرسکیں لیکن یہ مایوسی کی بات ہے کہ وہاں کی حکومت نے ہمیں ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔

بھارت کو امریکہ کی دھمکی

نئی دہلی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے ویڈیو لنک کے ذریعے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے روس پر عائد پابندیوں کے حوالے سے گفتگو کی۔

ایک گھنٹے جاری رہنے والی گفتگو میں صدر جوبائیڈن نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا کہ روس سے تیل کی مزید خریداری یوکرین کی جنگ پر امریکی ردعمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

صدر جوبائیڈن نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان گہرے تعلقات پر بھارت کے خدشات سے آگاہ ہیں، بھارت کا تیل کی خریداری پر روس پر انحصار کرنے سے بھارت کے دنیا کے ساتھ تعلقات میں فرق پڑ سکتا ہے۔

اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے بتایا کہ انھوں نے روسی صدر کو یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تجویز دی تھی جس پر انھوں نے غور کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے یوکرین کے قصبے بُوچا میں روسی افواج کے قتل عام کی مذمت بھی تھی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے میڈیا کو بتایا کہ صدر جوبائیڈن نے وزیر اعظم مودی پر واضح کیا ہے کہ روس سے مزید تیل کی خریداری بھارت کے مفاد میں نہیں ہے۔

دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ روس سے ہماری ایک مہینے کی تیل کی خریداری اس سے کم ہے جو یورپ ایک دوپہر میں کرلیتا ہے۔ اس لیے توجہ بھارت پر نہیں بلکہ یورپ پر ہونا چاہیئے۔

واضح رہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد امریکا نے روس پر کئی اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں جن میں تیل کی خریداری بھی شامل ہے تاہم بھارت نے حال ہی میں روس سے تیل خریدا ہے۔

روس اور امریکہ کے درمیان جنگ کا خطرہ ، امریکی فوجی ہائی الرٹ

واشنگٹن:امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق یوکرین کے معاملہ پرجاری کشیدگی کے باعث 8 ہزار500 امریکی فوجیوں کوہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

نیٹوکی جانب سے درخواست ملنے پر امریکی فوجیوں کو ریپڈ ری ایکشن فورس کے حصے کے طورپرتعینات کیا جائے گا۔

پینٹاگون کے پریس سیکریٹری کے مطابق امریکی فوجیوں کو روس کی سرگرمیاں دیکھتے ہوئے علاقے میں تعینات کیا جاسکتا ہے تاہم امریکی فوجیوں کو براہ راست یوکرین میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔

امریکا نے یوکرین میں روس کی جارحیت کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ روس نے یوکرین میں کسی فوجی کارروائی کی تردید کی ہے تاہم ایک لاکھ روسی فوجی یوکرین کے قریب تعینات ہیں۔

ایران امریکا کو بیوقوف بنا رہا ہے، اسرائیل

فلوریڈا: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع بینی گنٹز نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والی امریکی وزیر دفاع سے ملاقات میں اسرائیلی فضائیہ کی ایران پر حملے کی تیاری سے آگاہ کردیا ہے۔

فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو میں وزیر دفاع بینی گنٹز کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات میں امریکی حکام نے اسرائیلی مؤقف کی تائید کی اور ایران کے دنیا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہونے پر اتفاق کیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی جوہری معاہدے پر تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے جس کا ذمہ دار ایران کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے اور ایران جوہری معاہدے پر امریکا سے کھیل کھیل رہا ہے۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے ایک اہم عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر غیرملکی میڈیا کو بتایا کہ وزیر دفاع بینی گنٹز نے اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن کو ایران پر حملے کی ’’ٹائم لائن‘‘ سے بھی آگاہ کیا۔

ایک روز قبل اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور یورپی ممالک کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان عالمی جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور ویانا میں جاری ہے تاہم اب تک کوئی مثبت پیشرفت ہوسکی ہے جب کہ اسرائیل جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی کے خلاف ہے۔

امریکہ کے ساتھ تعاون کیلیے تیار ہیں، چین

بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ شدید اختلافات کے باوجود علاقائی سلامتی اور عالمی مسائل پر امریکا کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکا کے ساتھ مسائل پر بات چیت کے ساتھ حل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اختلافات سے مناسب طریقے سے نمٹنے کے لیے امریکا کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان خیالات کا اظہار کیا چین کے صدر نے ایک خط میں کیا جو امریکا میں چین کے سفیر کن گینگ نے واشنگٹن میں یو ایس چائنا تعلقات کے قومی کمیٹی کے عشائیے میں پڑھ کر سنایا۔

صدر شی جن پنگ کا اپنے خط میں مزید کہنا تھا کہ ہمارے درمیان اختلافات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود چین علاقائی اور عالمی مسائل پر امریکا کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

چین کے صدر کا مفاہمتی خط اس وقت سامنے آیا ہے جب چین امریکا کے صدور کی ورچوئل میٹنگ آئندہ ہفتے منعقد ہو رہی ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کا سبب بننے والے مسائل پر گفتگو کی جائے گی۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاشی جنگ کو پسندیدہ قرار دیتے ہوئے چین پر اقتصادی پابندیاں عائد اور چینی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا تھا جس کے جواب میں چین نے بھی ایسا ہی کیا اور یہ مشق تاحال جاری ہے۔

ہیلووین ڈے، امریکا میں فائرنگ سے 12 افراد ہلاک

واشنگٹن: امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ہیلووین تہوار کے موقع پر گزشتہ ہفتے امریکا کی مختلف ریاستوں میں فائرنگ کے مختلف واقعات پیش آئے جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 52 زخمی ہوگئے۔ زیادہ تر واقعات گھروں میں یا ان جگہوں پر پیش آئے جہاں ہیلووین پارٹی کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔

امریکی حکام کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کی لہر کے دوران فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، رواں سال ابھی تک فائرنگ کے نتیجے میں 599 افراد ہلاک ہوئے جب کہ گزشتہ سال 611 اور 2019 میں 417 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

پاکستان فضائی حدود کی اجازت دے رہا ہے، امریکہ

واشنگٹن: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے انڈر سیکرٹری برائے دفاعی پالیسی کولن کاہل نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو افغانستان اور جنوبی و وسطی ایشیائی ممالک بالخصوص پاکستان اور افغانستان سے متعلق اہم بریفنگ دی۔

سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین جیک ریڈ نے پاکستان کے طالبان کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے حالیہ میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ پاکستان کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے متعلق پینل کو اپ ڈیٹ کریں جس پر ڈاکٹر کولن ہل نے کہا کہ پاکستان کا افغانستان میں ایک چیلنجنگ کردار ہے۔

کولن ہل نے مزید کہا کہ افغان سرزمین کے پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونا کسی کے بھی مفاد میں نہیں اور کوئی بھی اس کے حق میں نہیں ہے۔

اس موقع پر امریکا کے انڈر سیکرٹری برائے دفاعی پالیسی کولن ہل نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان ہمیں اپنی فضائی حدود تک رسائی دیتا رہتا ہے اور دونوں ممالک اس رسائی کو جاری رکھنے کے بارے میں بات چیت بھی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے امریکی فوج کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی ہے تاہم پاکستان نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

فلسطین میں‌یہودی آبادکاری پر امریکہ کی اسرائیل کو دھمکی

واشنگٹن: غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے گزشتہ روز اسرائیلی وزیر دفاع بینی گنٹز کو ٹیلی فون کال کی اور مغربی کنارے میں مزید یہودی بستیوں کی تعمیر پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نئی آبادیاں ناقابل قبول ہیں لہذا اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

خبررساں ادارے کے مطابق دونوں کے درمیان گفتگو انتہائی کشیدہ ماحول میں ہوئی جب کہ اس دوران امریکی وزیر خارجہ اور اسرائیلی وزیر دفاع کے درمیان سخت جملوں کو تبادلہ بھی ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا نے اس معاملے پر اسرائیل کو زرد کارڈ دکھایا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ہم امریکی خدشات کو سمجھتے ہیں تاہم ہماری کوشش ہوگی کہ جن مکانات کی منظوری دی گئی اس کی تعداد کو کم کیا جائے۔

واضح رہے کہ امریکا نے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے آبادکاری کے فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس فیصلے سے اسرائیلی اور فلسطین کے درمیان امن عمل کو نقصان پہنچے گا۔

عمر شریف علاج کیلئے امریکہ روانہ

کراچی: عمر شریف علاج کے لئے ایئر ایمبولینس کے ذریعے براستہ جرمنی امریکا روانہ ہوگئے۔ عمر شریف کی اہلیہ زرین عمر بھی ایئر ایمبولینس میں ان کے ساتھ سفر کررہی ہیں۔

عمر شریف کی روانگی سے قبل ڈاکٹرز کی ٹیم نے ایئر ایمبولینس میں ان کا طبی معائنہ کیا۔ ایف آئی اے کی جانب سے ضروری سفری کارروائی مکمل کی گئی۔ جب کہ سی اے اے کی جانب سے ایئر پورٹ منیجر عمران خان نے انتظامات مکمل کئے۔

اس سے قبل عمر شریف کو آغا خان ہسپتال سے ایمبولینس کے ذریعے ایئرپورٹ روانہ کیا گیا تھا۔ روانگی سے قبل عمر شریف کی اہلیہ زرین عمرنے کہا تھا ہائی رسک فلائٹ ہے دعا کریں سب ٹھیک رہے۔ خیال رہے ایئرایمبولینس گزشتہ روز عمرشریف کو لینے کراچی پہنچی تھی۔

ذرائع کے مطابق امریکا میں مقیم امراض قلب کے ماہرڈاکٹراورپاکستانی اداکارہ ریما خان کے شوہرڈاکٹر طارق شہاب نے واشنگٹن میں عمرشریف کے علاج معالجے کے تمام انتظامات کیے ہیں اوروہ پاکستانی ڈاکٹروں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

عمرشریف کو ایئرایمبولینس کے ذریعے جارج واشنگٹن ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔ جہاں ان کے دل کے والو کا ایک بالکل نئی تکنیک ’مائٹرل والو کلپنگـ‘ کے ذریعے علاج کیا جائے گا۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت اوپن ہارٹ سرجری کے بغیر ہی والو کا علاج کیا جاتا ہے۔

امریکہ چین جنگ دنیا تباہ کردے گی، اقوام متحدہ

جنیوا:عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے امریکا اور چین کو اپنے تنازعات فوری طور پر حل کرنے سے متعلق متنبہ کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک اپنے مکمل طور پر غیر فعال تعلقات کو بحال نہیں کرتے دو بڑے اور انتہائی بااثر ممالک کے درمیان مسائل باقی دنیا تک پھیل جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے عالمی رہنماؤں کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت ہمیں پہلے ہی کورونا، موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے جب کہ دو اہم اور طاقتور ممالک ان مسائل سے نبرد آزما ہونے میں مدد کرنے کے بجائے اختلاف اور مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے یہ بھی کہا کہ چین اور امریکا دنیا کی دو بڑی معاشی طاقت ہیں جو کورونا ویکسینیشن اور ماحولیاتی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں تاہم اس میں دونوں کی سرد جنگ رکاوٹ بن رہی ہے اس لیے ہمیں ان 2 طاقتوں کے درمیان ایک فعال تعلق کو دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی چین کے ساتھ معاشی جنگ کو پسندیدہ قرار دیتے ہوئے حریف ملک پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح کو دگنا کردیا تھا اور یہ معاشی جنگ ٹرمپ کے دور کے خاتمے کے باوجود تاحال جاری ہے۔