افغانستان میں طالبان فاتح ، 20 سالہ جنگ کا اختتام

کابل : طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع صدارتی محل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ملک میں جنگ ختم ہونے کا اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی نشریاتی ادارے ’الجزیرہ ‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے کہا کہ آج افغان عوام اور مجاہدین کے لیے عظیم دن ہے۔ انہیں اپنی 20 برس کی قربانیوں اور جدوجہد کا پھل مل گیا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ملک میں جاری جنگ ختم ہوئی، ہم اپنے مقصد تک پہنچ چکے ہیں جو کہ اپنے ملک اور عوام کی آزادی تھا۔ افغانستان کی نئی حکومت کی نوعیت جلد واضح ہو جائے گی، ہم تمام افغان رہنماؤں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور ان کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔

محمد نعیم نے کہا کہ ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی ہماری زمین پر کسی کو نشانہ بنائے اور ہم دوسروں کو کوئی نقصان پہنچانا نہیں چاہتے۔ طالبان الگ تھلگ نہیں رہنا چاہتے، وہ دنیا کے ساتھ پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں، امید ہے غیر ملکی قوتیں افغانستان میں اپنے ناکام تجربےنہیں دہرائیں گی۔

دوسری جانب افغان طالبان کے سیاسی ونگ کے سربراہ ملا برادر نے اپنے وڈیو بیان میں کہا ہے کہ طالبان کی کامیابیوں کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی، افغانستان میں طالبان کی فتوحات پر مبارکباد پیش کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ ہماری اصل ذمہ داریاں تو اب شروع ہوتی ہیں جس میں افغان عوام کی خدمت اور ان کے جان و مال کا تحفظ شامل ہے، افغان عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ حالات کو بہتر کرنے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔

افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال پر بات چیت کے لیے افغانستان کی سیاسی قیادت کے دو وفود پاکستان میں موجود ہیں جو پاکستان حکام سے مذاکرات کے ساتھ ساتھ آئندہ کی صورت پر مشاورت کریں گے۔

دوسری جانب گزشتہ روز طالبان نے انتہائی سرعت کے ساتھ کابل میں داخل ہوکر افغان صدارتی محل پر قبضہ کرلیا تھا، جس کے بعد افغان صدر اشرف اور نائب صدر امراللہ صالح الگ الگ طیاروں کے ذریعے پڑوسی ملک تاجکستان چلے گئے ہیں۔

اشرف غنی اورامراللہ صالح تاجکستان پہنچ گئے

کابل: افغانستان کے صدر اشرف غنی کابل میں طالبان کے داخلے کے بعد بذریعہ طیارہ تاجکستان چلے گئے۔

کابل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اشرف غنی کے ساتھ ان کے نائب صدر امراللہ صالح بھی کابل ائرپورٹ سے طیارے پر سوار ہوئے تھے اور وہ پڑوسی ملک تاجکستان پہنچ چکے ہیں۔ان کی کابل سے روانگی کی ایک ویڈیو بھی منظرعام پرآئی ہے۔

اشرف غنی نے فارسی زبان میں ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔وہ اپنے اعمال کے اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔لوگوں کو اس صورت حال میں ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ان حالات میں ہماری مدد فرمائیں اورافغانستان کے ایک پُرامن مستقبل کی جانب ہماری رہ نمائی فرمائیں۔‘‘

قبل ازیں ذرائع نے العربیہ کو بتایا تھا کہ طالبان کے کابل میں داخلے کے بعد اشرف غنی عہدۂ صدارت سے دستبردار ہوسکتے ہیں۔ افغان وزارتِ داخلہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ انتقال اقتدارکا عمل پُرامن طریقے سے اور کسی لڑائی کے بغیر مکمل ہوگا۔اس مقصد کے لیے طالبان اوراشرف غنی کی حکومت کے نمایندوں کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔

طالبان کابل میں داخل

کابل: طالبان جلال آباد اور مزار شریف کو فتح کرنے کے بعد کابل کے مضافات میں داخل ہوگئے جب کہ ترجمان طالبان نے دارالحکومت میں پُرامن طریقے سے داخل ہونے اور عام معافی کا اعلان کیا ہے دوسری جانب صدارتی محل میں اقتدار کی منتقلی اور عبوری حکومت کے قیام پر مذاکرات جاری ہیں جس میں اشرف غنی حکومت چھوڑنے کو تیار ہوگئے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ طالبان کابل میں تمام اطراف سے داخل ہوگئے۔ سائرن بج رہے ہیں اور چاروں طرف سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں جب کہ فضا میں ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے ہیں۔

طالبان کابل کے داخلی دروازوں پر کھڑے ہیں اور اپنے امیر کے احکامات کے منتظر ہیں۔ افغان فوج کی جانب سے مزاحمت نہیں کی گئی اور کابل حکومت بھی مذاکرات پر آمادہ نظر آتی ہے۔ ملا عبدالغنی برادر سمیت اہم طالبان رہنما کابل پہنچ گئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق طالبان وفد اقتدار کی پُرامن منتقلی کے لیے افغان صدارتی محل میں داخل ہوگئے جہاں طالبان اور کابل میں صدارتی محل کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ طالبان نے اقتدار کی پُرامن منتقلی پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدارتی محل میں طالبان اور کابل حکومت کے درمیان مذاکرات میں کابل پر حملہ نہ کرنے اور اقتدار کی پُرامن منتقلی پر اتفاق کرلیا گیا ہے جس کے تحت عبوری حکومت قائم کی جائے گی جس کے سربراہ سابق وزیرداخلہ علی احمد الجلالی ہوں گے۔

اشرف غنی اقتدار چھوڑنے پر رضا مند، علی جلالی نئے سربراہ ہونگے

افغان صدر اشرف غنی کے نائب اورقومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ صدارتی محل میں ہونے والے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں جب کہ اطلاعات ہیں کہ سابق افغان وزیرداخلہ علی احمد الجلالی کو عبوری حکومت کا سربراہ بنایا جانے کا امکان ہے۔

عالمی میڈیا کے ذرائع کے مطابق طالبان کی خواہش ہے کہ افغان فوج ہتھیار ڈال دے تاکہ خوں ریزی نہ ہو۔ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے بعد داخلی دروازوں پر موجود طالبان جنگجوؤں کو دارالحکومت کے مرکز میں داخل ہونے کا حکم دیا جائے گا۔

طالبان لیڈر ملا برادر

افغانستان میں ترجمان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ دارالحکومت کو طاقت کے ذریعے فتح کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی سے انتقام لیں گے۔ ہمارے جنگجو کابل کے داخلی دروازوں پر کھڑے ہیں اور پُر امن طریقے سے داخل ہونا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب دوحہ میں طالبان کے ترجمان کا بھی یہی کہنا ہے کہ کابل میں داخل ہونے والے جنگجوؤں کو تشدد سے گریز کا حکم دیا گیا ہے جب کہ جو بھی مخالف لڑائی کے بجائے امن پر آمادہ ہو انھیں جانے دیا جائے گا اور خواتین سے محفوظ علاقوں میں جانے کی درخواست کی ہے۔

عینی شاہدین نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ دارالحکومت میں طالبان جنگجوؤں کو بہت ہی معمولی مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ کابل یونیورسٹی آج صبح ہی خالی کردی گئی تھی اور تمام طالبات گھروں کو جا چکی ہیں۔ عوام گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔

کابل حکومت نے اس تمام صورت حال پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم صدر اشرف غنی کے چیف آف اسٹاف نے ٹویٹر پر کابل کے لوگوں پر زور دیا ہے کہ براہ کرم فکر نہ کریں۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے. کابل کی صورتحال کنٹرول میں ہے تاہم تین افغان حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جنگجو دارالحکومت کے کالکان ، قرا باغ اور پغمان اضلاع میں موجود ہیں۔

دوسری جانب امریکی حکام نے بتایا کہ سفارت کاروں کو سفارت خانہ سے قلعہ بند وزیر اکبر خان میں واقع ہوائی اڈے پر لے جایا جا رہا یے جب کہ مزید امریکی فوجی انخلاء میں مدد کے لیے بھیجے جا رہے ہیں۔

ادھر برطانوی سفارت کاروں اور برطانوی فوج کے لیے مترجم کا کام انجام دینے والے افغان شہریوں کی منتقلی کا عمل بھی جاری ہے۔ وزیر اعظم بورس جانسن کی ہدایت پر برطانوی فوج ان افراد کو لینے پہنچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ طالبان اس سے قبل اہم شہر جلال آباد اور مزار شریف پر قبضہ کر چکے ہیں اور طور خم بارڈر تک کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔ صرف کابل ایسا شہر باقی بچا تھا جہاں طالبان کی عمل داری قائم نہیں ہوسکی تھی۔

افغان صدر کا بیرون ملک منتقل ہونے کا فیصلہ

نئی دہلی: بھارتی نشریاتی ادارے نیوز18 نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے اپنے ساتھیوں سے مشورے کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے بعد وہ کسی تیسرے ملک اہل خانہ سمیت منتقل ہوجائیں گے۔

نیوز18 کا دعویٰ ہے کہ یہ انکشاف صدر اشرف غنی کے ایک اہم اور قریبی ساتھی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیا ہے۔ اشرف غنی جلد مستعفی ہونے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

ذرائع نے نیوز18 کو یہ بھی بتایا کہ صدر اشرف غنی کا حال ہی میں آنے والا ویڈیو پیغام گزشتہ شب ریکارڈ کیا گیا تھا اس لیے اس پیغام میں استعفی کا اعلان نہیں تاہم صدر سنجیدگی سے مستعفی ہونے کا سوچ رہے ہیں۔

دوسری جانب طلوع نیوز کے مطابق صدر اشرف غنی نے منظر عام پر آنے والے ریڈیو پیغام میں ’’حالات قابو میں ہیں‘‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے عہد کیا ہے وہ افغانستان میں مزید جنگ اور خوں ریزی نہیں ہونے دیں گے۔

واضح رہے کہ صدر اشرف غنی کے مستعفی ہونے کی خبریں اس وقت آئی ہیں جب طالبان جنگجو افغان دارالحکومت کابل اور امریکی سفارت خانے سے محض 50 کلومیٹر کی دوری پر ہیں۔

طالبان نے دارالحکومت کا کنٹرول حاصل کرلیا

کابل: طالبان نے سیکیورٹی فورسز سے گھمسان کی جنگ کے بعد افغانستان کے صوبے نمروز کے دارالحکومت زرنج کا کنٹرول حاصل کرلیا اور اب گورنر ہاؤس جنگجوؤں کے قبضے میں ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے نمروز کے نائب گورنر حاجی نبی براہوی نے بتایا کہ ایک گھنٹے سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جھڑپ کے بعد طالبان نے صوبائی دارالحکومت زرنج پر قبضہ کرلیا جب کہ افغان فوج پسپائی اختیار کرتے ہوئے ضلع دلارام تک محدود ہوگئی۔

نمروز پولیس نے شکوہ کیا ہے کہ جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ کے لیے فوج نہیں بھیجی گئی اور نہ ہی پولیس کے تازہ دم دستوں سے ہماری مدد کی گئی تاہم نمروز کے نائب گورنر کا دعویٰ ہے کہ صوبائی دارالحکومت سے طالبان کا قبضہ چھڑوالیا جائے گا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ نمروز میں پولیس نے پسپائی اختیار کی یا ہتھیار ڈالا ہے۔ اس حوالے سے متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں۔ 2016 کے بعد طالبان پہلی بار کسی صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

پانچ برس قبل 2016 میں طالبان نے افغان صوبے قندوز کے دارالحکومت کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا لیکن جلد ہی اتحادی افواج نے قبضہ واگزار کرالیا تھا تاہم اب طالبان ہلمند، قندھار، ہرات اور جوزجان کے صوبائی دارالحکومتوں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

افغان صوبے جوزجان کے دارالحکومت شبرغان پر بھی طالبان کے قبضے کی متضاد خبریں ہیں جہاں طالبان نے وار لارڈ عبدالرشید دوستم کے گھر کو آگ لگادی ہے تاہم شبرغان پر طالبان کے قبضے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

امریکہ کے وفادار شہری واشنگٹن منتقل

واشنگٹن: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان سے امریکا کے وفادار افغان شہریوں اور ان کے اہل خانہ کے انخلا کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔ امریکا کے لیے کام کرنے والے افغان شہریوں نے اپنی جانوں کو لاحق خطرے کے باعث کابل میں امریکا منتقلی کے لیے مظاہرہ بھی کیا تھا۔

امریکی وزارت داخلہ کے دستاویز اور فلائٹ ٹریکر سے پتہ چلتا ہے کہ پہلی کھیپ میں 57 بچوں اور 15 شیر خوار سمیت 221 افراد کو خصوصی پرواز کے ذریعے واشنگٹن کے ڈولیئس ایئرپورٹ پر اتارا گیا ہے۔ افغان شہریوں کی امریکا منتقلی کے لیے مزید پروازیں بھی متوقع ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی صدر جوبائیڈن نے امریکا کے لیے کام کرنے والے افغان شہریوں اور ان کے اہل خانہ کی امریکا منتقلی اور آبادکاری کے لیے 10 کروڑ ڈالر کے فنڈ کی ہنگامی طور پر منظور دی تھی جب کہ اس سے قبل وہ 2 کروڑ ڈالر کی منظوری بھی دے چکے تھے۔

توقع کی جارہی ہے کہ امریکا کی مدد کرنے والے ڈھائی ہزار افغان شہریوں اور ان کے اہل خانہ کے پہلے دستے کو رواں ماہ کے آخر تک ورجینیا میں واقع امریکی فوجی اڈے فورٹ لی میں ٹھہرایا جائے گا جہاں وہ اپنے ویزا درخواستوں کی آخری کارروائی کا انتظار کریں گے۔

یوں تو امریکی قانون میں ایسے تارکین وطن کو امریکا میں سکونت دینے کی گنجائش ہے جنھوں نے امریکا کی مدد کی ہو تاہم ایسے خصوصی ویزوں کی تعداد نہایت کم تھی البتہ جمعرات کو امریکی ایوان نمائندگان نے قانون سازی کے ذریعے خصوصی امیگریشن ویزوں کی تعداد 8 ہزار تک بڑھانے کی منظوری دی تھی۔

واضح رہے کہ 24 جولائی کو امریکی نشریاتی ادارے ’’سی این این‘‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج کے لیے مترجم کی خدمات انجام دینے والے سہیل پردیس کو کابل میں طالبان نے اس وقت اغوا کرکے سر قلم کردیا جب وہ عید سے قبل پر اپنی بہن کو لینے گاؤں جا رہے تھے۔

افغانستان کو بچانے کے لیے غیرملکیوں پر انحصار نہیں کر سکتے، امیر طالبان

کابل: طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کا کہنا ہے ہمارا پیغام واضح ہے کہ افغانستان کو بچانے کے لیے غیرملکیوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

طالبان کے سپریم کمانڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کا عیدالاضحیٰ سے پہلے جاری پیغام میں کہنا ہے کہ افغان تنازع کا سیاسی حل چاہتے ہیں، فوجی پیش قدمیوں کے باوجود امارات اسلامی تنازع کا سیاسی حل چاہتی ہے۔

ہیبت اللہ اخونزادہ کا کہنا ہے کہ طالبان جنگ کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں لیکن مخالفین وقت ضائع کر رہے ہیں، قیامِ امن اور سلامتی کے ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قطر میں طالبان اور افغان حکومتی نمائندوں میں مذاکرات کا آج ایک اور دور ہو گا، ہمارا پیغام واضح ہے کہ سرزمین بچانے کے لیے غیر ملکیوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، باہر کے لوگوں کی بجائے ہمیں اپنے مسائل مل جل کر حل کرنے چاہئیں۔

چمن سےمتصل افغان سرحد پر طالبان کا قبضہ

قندھار: افغان طالبان کی جانب سے افغانستان کے بیشترعلاقوں کے بعد چمن سے متصل باب دوستی گیٹ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد سیل کردی گئی ہے، اور سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

دوسری جانب طالبان نے افغانستان شہر اسپین بولدک بارڈر پر بھی قبضہ کرلیا ہے، اور بارڈر اور شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، گزشتہ رات طالبان نے افغانستان کے سرحدی شہر بولدک ویش بارڈر پر حملہ کیا تھا، طالبان کے حملے کے بعد بولدک شہر سمیت دیہاتوں، سرحدی چوکیوں اور افغان امیگریشن پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

افغان فورسز کے پیچھے ہٹنے کے بعد درجنوں طالبان پاک افغان سرحد کے گیٹ باب دوستی پر پہنچے اور مرکزی دروازے پر اپنا پرچم لہرا دیا، اس حوالے سے طالبان کی جانب سے ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں جس میں وہ سرحدی گیٹ سے ملحقہ علاقے میں گشت کرتے ہوئے اور چوکیوں پر پرچم لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں بھی اس کی تصدیق کردی گئی ہے، جب کہ ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان نے اس وقت اسپین بولدک مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے، افغان طالبان نے پاکستانی سرحد سے ملحقہ افغان علاقے ویش منڈی پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔

طالبان نے امریکی فوج کے 2 ہیلی کاپٹرز کو تباہ کردیا

قندوز: کابل حکومت کی تردید کے جواب میں طالبان نے صوبے قندوز میں امریکا کی جانب سے افغان فضائیہ کو دیئے گئے دو ہیلی کاپٹرز کو تباہ کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کردی۔

افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے عمل کا تیزی سے جاری ہے اور اسی دوران طالبان نے پیش قدمی کرتے ہوئے اہم سرحدوں، تجارتی راہداریوں اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

طالبان نے صوبے قندوز میں ایک ایئرپورٹ پر حملہ کرکے امریکی فوج کی جانب سے افغان فضائیہ کو فراہم کیئے دو ہیلی کاپٹرز ’’یو ایچ-60 بلیک ہاک‘‘ کو تباہ کردیا تاہم کابل حکومت نے اس حملے کی تردید کی تھی جس پر ترجمان طالبان ذبیح اللہ نے ہیلی کاپٹرز تباہ ہونے کی ویڈیو جاری کردی۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دشمنوں نے ہیلی کاپٹرز تباہ کرنے کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا تھا ایسے لوگوں کے لیے ایئرپورٹ پر تباہی کے مناظر کی ویڈیو حاضر ہے۔

دوسری جانب طالبان ترجمان کی جانب سے افغانستان میں سرگرم طالبان جنگجوؤں کے ترجمان ڈاکٹر نعیم کا بیان بھی شیئر کیا گیا ہے جس میں اُن جھوٹی افواہوں، تصاویر اور ویڈیوز کی تردید کی گئی ہے جس میں طالبان کو حملہ آور بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ڈاکٹر نعیم کا کہنا تھا کہ ایسی تمام ویڈیوز اور تصاویر کا مقصد ملک میں طالبان سے متعلق خوف و ہراس پھیلانا ہے۔ عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور مطمئن رہیں۔

طالبان نے 421 اضلاع میں سے ایک تہائی کا کنٹرول سنبھال لیا

کابل: افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہے اور انہوں نے بغیر لڑے ہی بدخشاں کے متعدد اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ سیکڑوں افغان فوجی ہتھیار ڈال کر پڑوسی ملک تاجکستان فرار ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبہ بدخشاں میں طالبان تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے سرحد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تاجکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے بتایا ہے کہ مزید 300 سے زائد افغان فوجی سرحد عبور کرکے تاجکستان میں داخل ہوگئے ہیں، جنہیں انسانیت کے ناطے پناہ دی گئی ہے۔

اپریل کے وسط میں جب سے امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان کو ’ہمیشہ کی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے وہاں سے واپسی کا اعلان کیا ہے تب سے طالبان تیزی سے ملک میں غالب آتے جارہے ہیں۔ تاہم بدخشاں میں فتوحات اس لیے غیر معمولی نوعیت کی حامل ہیں کہ یہ امریکا کے اتحادی سرداروں کا ہمیشہ سے مضبوط گڑھ رہا ہے، جنہوں نے 2001 میں طالبان کو شکست دینے میں امریکا کی مدد کی تھی۔ اب طالبان کا ملک کے 421 اضلاع میں سے ایک تہائی پر قبضہ ہوچکا ہے۔

بدخشاں کونسل کے رکن محب الرحمن نے افغان فوج پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ طالبان بغیر لڑے ہی جنگ جیت رہے ہیں، کیونکہ افغان فوج بددلی اور مایوسی کا شکار ہے اور بغیر لڑے ہتھیار ڈال کر راہ فرار اختیار کررہی ہے، گزشتہ 3 روز میں طالبان نے 10 اضلاع پر قبضہ کیا جن میں سے 8 اضلاع بغیر لڑے ہی فتح کرلیے۔

سیکڑوں افغان فوجی اور ے افسران اپنی فوجی چوکیاں چھوڑ کر تاجکستان یا بدخشاں کے صوبائی دارالحکومت فیض آباد فرار ہوگئے۔ سفارت کاروں اور ایئرپورٹ کی حفاظت کے لیے ایک ہزار امریکی فوجی افغانستان میں باقی رہ سکتے ہیں۔