طالبان کی حمایت میں برقع پوش طالبات کی ریلی

کابل: افغانستان کے دارالحکومت میں 300 سے زائد برقع پوش طالبات نے طالبان حکومت کی حمایت میں یونیورسٹی سے ایک ریلی نکالی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 300 سے زائد برقع پوش طالبان نے شہید ربانی یونیورسٹی کے کلچرل ڈپارٹمنٹ میں لیکچر سنا اور بعد ازاں یونیورسٹی سے مرکزی شاہراہ تک طالبان حکومت کے حق میں ریلی نکالی۔ ریلی کی شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اُٹھا رکھے تھے جس میں درج تھا کہ ’’ ہم برقع میں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں‘‘ ’’ اسلام خواتین کی حفاظت اور حقوق کی ضمانت دیتا ہے‘‘ اور ’’ ہم طالبان کی حکومت کا خیر مقدم کرتے ہیں‘‘۔

برقع پوش خواتین نے طالبان حکومت کے حق میں نعرے بازی بھی کی جب کہ چند خواتین نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبات اگر تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں سر تا پاؤں برقع پہننا چاہیے۔ طالبان کے سفید پرچم تھامے برقع پوش طالبات نے کہا کہ یہ مارچ ایسی بے پردہ خواتین کے خلاف ہے جو کابل کی سڑکوں پر احتجاج میں خود کو افغان خواتین کی نمائندہ قرار دیے رہی ہیں۔

طالبان کے مسلح اہلکاروں نے یونیورسٹی سے لیکر مرکزی شاہرہ تک اور مارچ کے اختتام تک ریلی کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جب کہ کچھ طالبان ریلی کی تصاویر بھی لیتے رہے اور ویڈیو بھی بنائی تاکہ عالمی میڈیا کو فراہم کی جاسکیں۔

واضح رہے کہ کابل میں اب تک خواتین کے کئی مظاہرے ہوچکے ہیں جن پر طالبان کے تشدد کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں تاہم یہ پہلی بار ہوا ہے کہ خواتین نے طالبان کے حق میں ریلی نکالی ہے۔

افغانستان میں پاکستان مخالف نعرے لگانے پر طالبان کی کارروائی

کابل: افغانستان میں پاکستان مخالف ریلی منتشر کرنے کے لیے طالبان نے ہوائی فائرنگ کی اور مظاہرین کو منتشر کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں پاکستان مخالف ریلی نکالی گئی جس میں پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی گئی، 70 کے قریب مظاہرین جن میں زیادہ تر خواتین شامل تھیں، پاکستانی سفارت خانے کے سامنے کھڑے ہوگئیں اور نعرے بازی شروع کردی جس پر طالبان نے ہوائی فائرنگ کی اور مظاہرین کو منتشر کردیا۔

واضح رہے کہ افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد سے ملک میں مختلف تنظیموں کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا ہے، چند روز قبل بھی افغان خواتین نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاجی ریلی نکالی تھی اور افغان صدارتی محل جانے کی کوشش کی تاہم طالبان نے ریلی کو صدارتی محل جانے سے روک دیا تھا۔

ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، طالبان

کابل: ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے نیوز کانفرنس کے دوران وادی پنجشیر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے ہم نے کوششیں کیں، جرگوں اور مذاکرات سے کامیابی نہ ہوئی تو پنجشیر میں طاقت کا استعمال کیا۔

افغانستان میں کئی جگہوں سے اسلحہ لے کر پنجشیر میں رکھا گیا تھا تاہم اب پنجشیر میں امن کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں اور پنج شیر میں جو اسلحہ ہمارے ہاتھ آیا اس کومحفوظ جگہ پہنچایاجائے گا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ پنجشیر میں لڑائی اور جنگ سے گریز کریں لیکن ہمیں مزاحمت کرنا پڑی، پنجشیر کے ساتھ بلا امتیاز سلوک ہوگا لہذا لوگ قطعاً تشویش میں متبلا نہ ہوں، جنگ کے دوران بھی ہماری کوشش تھی کہ افغانوں کو نقصان نہ پہنچے۔

ترجمان طالبان نے کہا کہ ہم نئی حکومت کی طرف جائیں گے اور ہمارا مقصد پرامن افغانستان ہوگا، حکومت میں توانا اور اچھے لوگوں کو لائیں گے، افغانستان میں حکومت سازی کے لیے اقدامات مکمل ہیں صرف تکنیکی معاملات زیرغور ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانوں سے کہتے ہیں کہ پورے افغانستان میں امن اور استحکام ہے، ہم نے خصوصی فورسز تشکیل دی ہیں جو ہر جگہ سرچ آپریشن کریں گی، ترکی اور مشرق وسطیٰ کی مدد سے کابل ائیرپورٹ کی بحالی کی کوشش کی جارہی ہے، امید ہے کہ کابل ائیرپورٹ بہت جلد پروازوں کے لیے بحال ہوجائے گا جب کہ کابل میں حالات ٹھیک اور ہمارے کنٹرول میں ہیں۔

ترجمان افغان طالبان کا کہنا تھا کہ افغان عوام افغانستان میں مزید جنگ نہیں چاہتے، دنیا بھر سے اپیل کرتے ہیں کہ افغانستان کی تعمیر و ترقی میں مالی معاونت کریں، اس کے علاوہ حکومت میں آتے ہی تمام سرمایہ کاروں کے لیے پر اعتماد فضا بحال کریں گے، افغانستان میں جو سرمایہ کار کام کررہے ہیں وہ اپنی جگہوں پر رہیں۔

ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد افغانستان میں امن و امان سے متعلق بات چیت کے لیے آیا تھا، پاکستانی وفد نے ہم سے سیکیورٹی اور دیگر معاملات پر بات کی، پاکستان سے درخواست ہے وہ افغانوں کے لیے سرحدوں کے دروازے کھلے رکھے جب کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے جس پر ان کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ہونے کے ناطے مختلف معاملات پر پاکستان کی تشویش جائز ہے تاہم جن معاملات پر پاکستان کو تشویش ہے انہیں حل کریں گے جب کہ ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ چین نے ہمیں معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے، چین کے اقتصادی منصوبوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں، اس کے علاوہ کاسا منصوبے میں کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں اور خواہش ہے کہ سی پیک کا بھی حصہ بنیں۔

ڈی جی آئی ایس آئی کی گلبدین حکمت یار سے ملاقات

کابل: دورہ کابل کے دوران ڈی جی آئی ایس آئی نے طالبان رہنما گلبدین حکمت یار سے ملاقات کی۔

افغان میڈیا کے مطابق دورہ کابل کے دوران ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے طالبان رہنما گلبدین حکمت یار سے ملاقات کی، ملاقات میں افغانستان کی موجودہ صورت حال اور افغان حکومت کے قیام میں درپیش آنے والے مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

افغان میڈیا کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے گلبدین حکمت یار کے علاوہ دیگر طالبان سے بھی ملاقات کی۔

افغانستان میں خانہ جنگی ہوسکتی ہے، امریکہ

واشنگٹن: امریکی جنرل مارک ملی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر افغانستان میں ایسی حکومت قائم نہ ہوسکی جس میں تمام اقوام اور طبقات کی نمائندگی ہو تو اس سے ملک میں خانہ جنگی پیدا ہوجائے گی اور شدت پسند جماعتیں منظم ہوجائیں گی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے خبردار کیا ہے کہ طالبان افغانستان میں مختلف الخیال مقتدر حلقوں اور تمام اقوام کے نمائندوں کو یکجا کر کے حکومت بنانے میں ناکام رہے تو ملک میں خانہ جنگی ہونے کا خدشہ ہے جو کسی کے بھی قابو میں نہیں آئے گی۔

امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے جنرل مارک ملی نے کہا کہ اگر طالبان قومی حکومت بنانے میں ناکام ہوتے ہیں تو اگلے 3 برسوں میں القاعدہ اور داعش جیسی جماعتیں دوبارہ منظم ہوکر ایک نئے اور زیادہ خطرناک روپ میں سامنے آسکتی ہیں۔

امریکی جنرل مارک ملی کا مزید کہنا تھا کہ طالبان اندرون اور بیرون ملک سب کے لیے قابل قبول ایک قومی حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکیں گے یا نہیں، اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے تاہم یہ بات واضح ہے کہ قومی حکومت کی تشکیل میں ناکامی سے تباہی کا سلسلہ پھر سے شروع ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے میں ضمانت دی گئی تھی کہ طالبان حکومت افغانستان میں القاعدہ اور داعش کو منظم نہیں ہونے اور افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

طالبان کے ہاتھ 85 ارب ڈالر کا جنگی ساز و سامان لگا

واشنگٹن: ریپبلکن کے رکن پارلیمنٹ جم بینکس نے الزام عائد کیا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ کی غفلت کے باعث 85 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی فوج کا سازوسامان طالبان کے قبضے میں چلا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس جم بینکس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کے بے ہنگم اور بے ترتیب انخلا کی وجہ سے طالبان کو 85 ​​ارب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی فوجی آلات تک رسائی حاصل ہوگئی۔

جم بینکس جو 20 سالہ افغان جنگ کو قریب دیکھ چکے ہیں اور اہم معلومات رکھتے ہیں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان اپنے پیچھے چھوڑے گئے امریکی فوجی ساز و سامان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن میں 75 ہزار گاڑیاں، 200 ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز جب کہ 6 لاکھ چھوٹے ہتھیار شامل ہیں۔

رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ افغان شدت پسند تنظیم کے پاس اب دنیا کے 85 فیصد ممالک سے زیادہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز ہیں جب کہ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ طالبان کے پاس بائیو میٹرک ڈیوائسز بھی ہیں جن میں انگلیوں کے نشانات، آنکھوں کے اسکین اور امریکا کی مدد کرنے والے افغان شہریوں کی نجی معلومات رکھی گئی تھیں۔

ریپبلکن رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ صدر جوبائیڈن کی غلط پالیسی اور ان کی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے ہوا ہے۔ افغان فوج نے مقابلہ کرنے کے بجائے پوسٹیں چھوڑ دیں یا ہتھیار ڈال دیئے تھے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں دو دہائیوں کے دوران امریکا نے افغان مسلح افواج کو بھاری مقدار میں ہتھیار اور جنگی آلات فراہم کیے تھے جو اب طالبان نے 15 اگست کو ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اپنے قبضے میں لے لیا۔

امریکا نے 20 برس کی ناکامی کے بعد افغانستان خالی کردیا

واشنگٹن: امریکی میڈیا کے مطابق بیس برس بعد امریکا نے افغانستان کو مکمل طور پر خالی کردیا، امریکا نے طالبان کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد کرتے ہوئے پیر اور منگل کی درمیانی شب کابل ایئرپورٹ بھی خالی کردیا۔

پنٹاگون نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے تمام امریکی افواج کا انخلا مکمل ہوگیا ہے اور اب کابل میں واقع حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ خالی ہوچکا ہے۔
پیر کے روز امریکی افواج کے مرکزی کمانڈر، جنرل کینتھ مک کینزی نے کہا کہ ایک جانب تو افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلا ہوچکا ہے اور دوم تمام امریکی شہریوں کو بھی وطن واپس لایا جارہا ہے۔

ایئرپورٹ خالی ہونے کے بعد طالبان کے مکمل زیر انتظام آچکا ہے اس خوشی میں طالبان نے ایئرپورٹ پر ہوائی فائرنگ بھی کی۔ جنرل کینتھ کے مطابق آخری طیارہ رات ڈیڑھ بجے پرواز کرگیا اور پاکستانی وقت کے مطابق یہ رات کے ساڑھے بارہ بجے کا وقت تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ 20 برس سے امریکی اور اتحادی افواج افغانستان میں موجود تھیں اور پورے مشن میں دوہزار امریکی فوجی جبکہ لاتعداد افغان طالبان اور لاکھوں عام بے گناہ شہری بھی مارے گئے۔ اس پورے مشن پر دو ٹریلیئن ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔

اب افغان سرزمین پر کوئی امریکی یا غیرملکی فوجی موجود نہیں۔ دوسری جانب کوئی امریکی سفارت کار بھی افغانستان میں موجود نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی فوجی کارروائی خاتمے کے ساتھ ہی امریکا نے کابل میں سفارتی امور بھی بند کردیے ہیں۔

امریکی جنرل کینتھ کے مطابق آخری پانچ طیارے امریکی افواج اور بعض شہریوں کو لے کر امریکا کی جانب روانہ ہوئےتاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض امریکی باشندے لاکھ کوشش کے باوجود بھی طیارے میں سوار نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کا بہت انتظار کیا لیکن وہ نہ پہنچ سکے، آخری پرواز کہاں روانہ ہوئی؟ یہ ابھی نہیں بتاسکتا۔

جنرل میکنزی کا کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ سے انخلا کے 18 روز بہت مشکل تھے، ہمارا پلان کچھ اور تھا تاہم سیکیورٹی صورتحال خراب ہونے کے سبب ہم نے اپنا پلان تبدیل کیا، ہم نے طالبان پر واضح کردیا تھا کہ دی گئی ڈیڈ لائن پر ہم اپنا اور اتحادی افواج کا انخلا مکمل کرلیں گے اور اس دوران مداخلت برداشت نہیں کریں گے تاہم طالبان نے انخلا میں ہمارے ساتھ تعاون کیا۔

امریکی جنرل نے مزید کہا کہ افغانستان میں 2 ہزار کے قریب داعش کے لوگ اب بھی موجود ہیں۔

نائن الیون واقعے کے بعد امریکہ نے القاعدہ اور اسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ دوسری جانب طالبان کا مؤقف تھا کہ وہ پہلے اسامہ بن لادن اور طالبان کے خلاف سانحہ 11 ستمبر میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش کرے۔ امریکی اور اتحادیوں نے اس وقت افغانستان پرحملہ کیا تاہم افغان طالبان نے گوریلا طرز کی جنگ پر اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔

امیرِ طالبان ہیبت اللہ اخوند زادہ کی تصویر پہلی بار منظرعام پر

قندھار: امیر طالبان ہیبت اللہ اخوند زادہ کی ایک تازہ تصویر منظر عام پر آئی ہے یہ تصویر قندھار کی ایک لائبریری میں لی گئی ہے۔

عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے افغانستان میں نامہ نگار حمید محمد شاہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ تصویر قندھار کی ایک لائبریری میں بیٹھے امیر ہیبت اللہ اخوند زادہ کی ہے۔

الجزیرہ کے نمائندہ خصوصی کے مطابق یہ تصویر ایک ہفتے قبل قندھار میں لی گئی تھی جہاں امیر طالبان حکومت سازی کے سلسلے میں مشاورت میں مصروف ہیں۔

تصویر میں امیر طالبان ہیبت اللہ اخوند زادہ نہایت خوشگوار موڈ میں دکھائی دے رہے ہیں اور قریب ہی قہوہ کی پیالی بھی رکھی ہے۔ تصویر سے گمان ہوتا ہے کہ امیر طالبان اپنے رفقا کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں۔طالبان کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس تصویر کے بارے میں کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

قبل ازیں ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی تصدیق کی تھی کہ امیر طالبان ہیبت اللہ اخوند زادہ شروع سے ہی قندھار میں موجود ہیں اور افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی سے کابل کا کنٹرول حاصل کرنے تک کی نگرانی و سربراہی کرتے رہے ہیں اور اس وقت حکومت سازی پر مشاورت بھی کر رہے ہیں۔

ترجمان طالبان نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ امیر طالبان ہیبت اللہ اخوند زادہ جلد منظر عام پر بھی آئیں گے۔

طالبان نے این ڈی ایس اہلکار وں کو گرفتارکرلیا

کابل : افغان طالبان کے محافظوں نے کابل کا امن خراب کرنے میں ملوث خفیہ ایجنسی کے تین سابق اہلکاروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی این دی ایس کے تین اہلکاروں کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے الزام میں پکڑ گیا ہے۔ طالبان کی جانب سے پکڑے گئے تینوں اہلکاروں کی فوٹیج بھی جاری کی گئی ہے۔

ترجمان رہنما نے کہا کہ سابق این ڈی ایس اہلکار ہدف کی تلاش میں تھے، سابق این ڈی ایس اہلکاروں سے دیگر لوگوں کے کارڈ بھی برآمد ہوئے۔حراست میں لیے گئے سین ڈی ایس اہلکاروں سے بڑی تعداد میں جعلی آئی ڈی کارڈ برآمد ہوئے، خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی میں گھوم رہے تتھے۔

طالبان رہنما نے کہا کہ یہ لوگ منصوبہ بنا رہے تھے کہ طالبان پر حملے کیے جاسکیں، پکڑے گئے افراد کے پاس سے طالبان رہنما کی تصویر بھی ملی ہے، انہوں نے کئی شخصیات کو ہدف بنا رکھا تھا۔ ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہا کہ کسی کو افغانستان کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

طالبان حکومت کا ساتھ دینے کےلیے تیار ہیں، چین

بیجنگ: چینی وزارت خارجہ کی ترجمان چھون اینگ نے ایک تازہ پریس کانفرنس کے دوران افغانستان کےحالات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئےکہا افغانستان میں 40 سال سے بھی زیادہ مدت سے جنگ جاری ہے۔ جنگ بندی اور امن کا حصول نہ صرف تین کروڑ سے زائد افغان عوام کی خواہش ہے بلکہ یہ عالمی برادری، اس خطے اور افغانستان کی خواہش بھی ہے۔

چین نے نوٹ کیا ہے کہ گزشتہ روز افغان طالبان نے کہا کہ افغانستان میں جنگ ختم ہو چکی ہے، وہ ایک کھلی اور جامع اسلامی حکومت کے قیام پر بات چیت کریں گے اور افغان شہریوں اور افغانستان میں غیر ملکی مشنز کی حفاظت کو یقینی بنانے کےلیے ذمہ دارانہ اقدامات کریں گے۔

ہوا چھون اینگ نے کہا، ’’چین توقع کرتا ہے کہ ان بیانات پر عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ افغانستان میں اقتدار کی پر امن منتقلی کو یقینی بنایا جاسکے اور ہر قسم کی دہشت گردی اور مجرمانہ کارروائیوں کو روکا جاسکے۔ افغان عوام جنگ سے دور رہیں اور اپنے خوبصورت وطن کی تعمیر نو کریں۔‘‘

ہوا چھون اینگ نے کہا کہ چین افغانستان کی خودمختاری اور مختلف گروہوں کی خواہشات کا احترام کرنے کی بنیاد پر افغان طالبان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ طالبان، افغانستان کے مختلف سیاسی گروہوں اور قومیتوں کے ساتھ مل کر اپنی صورتحال سے مطابقت رکھنے والا سیاسی ڈھانچہ قائم کرسکیں گے اور افغانستان میں پائیدار امن کی بنیاد رکھیں گے۔

ہوا چھون اینگ نے کہا کہ افغان طالبان نے کئی مرتبہ اس امید کا اظہار کیا ہے کہ چین کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے جائیں نیز چین افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی میں شامل ہو۔ طویل عرصے سے چین نے افغانستان کے داخلی امور میں کبھی مداخلت نہیں کی اور تمام افغان عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل کرتا آرہا ہے۔ چین افغان عوام کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کا احترام کرتا ہے اور افغانستان کے ساتھ تعاون و ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے کا خواہش مند ہے نیز چین افغانستان میں قیام امن اور تعمیر نو کےلیے مثبت کردار ادا کرے گا۔