آذربائیجان کا اسرائیلی میں سفارت خانہ کھولنے کا اعلان

باکو: مسلم ملک آذربائیجان کی پارلیمنٹ نے اسرائیل میں سفارتخانہ کھولنے کی منظوری دے دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آذربائیجان نے ایک ماہ سے جاری مذاکرات کے بعد اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا فیصلہ کرلیا تاہم سفارت خانہ اسرائیل کے متنازع دارالحکومت یروشلم کے بجائے ملک کے دوسرے بڑے شہر تل ابیب میں کھولا جائے گا۔

اسرائیلی شہر تل ابیب میں پہلے ہی آذربائیجان کا سیاحتی دفتر اور تجارتی نمائندہ دفتر بھی قائم ہے اور ممکنہ طور پر اسی دفتر میں ابتدائی طور پر سفارت خانہ کھولا جائے گا۔

یاد رہے کہ اسرائیل کا سفارت خانہ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں 1993 سے موجود ہے اور دونوں ممالک کے درمیان 30 سالہ تعلقات ہیں تاہم آذربائیجان نے وہاں اپنا سفارت خانہ نہیں کھولا تھا۔

اسرائیل کے وزیراعظم یائر لپپد نے آذربائیجان کو اہم شراکت دار ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ آذربائیجان مسلم دنیا کا وہ ملک ہے جہاں یہودیوں کی بڑی تعداد رہتی ہے اور وہاں 30 سال سے ہمارا سفارت خانہ بھی ہے۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں 4 عرب ممالک نے پہلی بار اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے سفارتی اور تجارتی تعلقات بحال کرلیے تھے جس کے مزید مسلم ممالک نے بھی سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔

اسرائیلی پولیس کا مسجد اقصیٰ پر ایک بار پھر حملہ، 17 نمازی زخمی

بیت المقدس: قابض اسرائیلی فورسز نے ایک بار پھر مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 17 نمازی شدید زخمی ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نماز فجر کے فوری بعد مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس کے اہلکار ایک بار پھر داخل ہوگئے اور عبادت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔

نمازیوں کے احتجاج کرنے پر اسرائیلی پولیس کے اہلکاروں نے بزرگوں تک کو تشدد کا نشانہ بنایا، آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ہوئی فائرنگ بھی کی۔ درجن سے زائد مسلمانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ اتوار کے روز یہودی اپنی عبادت کے لیے آتے ہیں۔ آج بھی کافی تعداد میں یہودی آئے ہوئے تھے جن پر نمازیوں نے پتھر پھینکے اور جملے کسے۔

اسرائیلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ نمازیوں کو ایسا نہ کرنے سے منع کرنے پر بے جا احتجاج شروع کردیا گیا جس پر اپنے دفاع میں پولیس کو بھی جوابی کارروائی کرنا پڑی۔

واضح رہے کہ جمعے کے روز بھی نماز فجر میں اسرائیلی فوج نے نمازیوں کو بلاجواز تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس میں 152 نمازی زخمی ہوگئے تھے۔

ایران امریکا کو بیوقوف بنا رہا ہے، اسرائیل

فلوریڈا: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع بینی گنٹز نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والی امریکی وزیر دفاع سے ملاقات میں اسرائیلی فضائیہ کی ایران پر حملے کی تیاری سے آگاہ کردیا ہے۔

فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو میں وزیر دفاع بینی گنٹز کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات میں امریکی حکام نے اسرائیلی مؤقف کی تائید کی اور ایران کے دنیا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہونے پر اتفاق کیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی جوہری معاہدے پر تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے جس کا ذمہ دار ایران کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے اور ایران جوہری معاہدے پر امریکا سے کھیل کھیل رہا ہے۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے ایک اہم عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر غیرملکی میڈیا کو بتایا کہ وزیر دفاع بینی گنٹز نے اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن کو ایران پر حملے کی ’’ٹائم لائن‘‘ سے بھی آگاہ کیا۔

ایک روز قبل اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور یورپی ممالک کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان عالمی جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور ویانا میں جاری ہے تاہم اب تک کوئی مثبت پیشرفت ہوسکی ہے جب کہ اسرائیل جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی کے خلاف ہے۔

اسرائیل کے شام پر میزائل حملے

دمشق: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے شام کے مضافات میں ایک دیہات پر کئی میزائل داغے۔ شام کے کسی علاقے میں اسرائیلی فوج کا رواں ہفتے یہ دوسرا بڑا حملہ ہے تاہم حملے میں جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔

شامی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے جنگی طیاروں نے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں عسکری تنصیبات اور اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ عسکری تنصیبات ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کی تھیں۔

ادھر اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ذکیہ نامی دیہات میں اُن عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے ہم پر حملے کیے گئے تھے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل شام میں ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا آیا ہے تاہم ایسا چند بار ہی ہوا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہو۔

فلسطین میں‌یہودی آبادکاری پر امریکہ کی اسرائیل کو دھمکی

واشنگٹن: غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے گزشتہ روز اسرائیلی وزیر دفاع بینی گنٹز کو ٹیلی فون کال کی اور مغربی کنارے میں مزید یہودی بستیوں کی تعمیر پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نئی آبادیاں ناقابل قبول ہیں لہذا اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

خبررساں ادارے کے مطابق دونوں کے درمیان گفتگو انتہائی کشیدہ ماحول میں ہوئی جب کہ اس دوران امریکی وزیر خارجہ اور اسرائیلی وزیر دفاع کے درمیان سخت جملوں کو تبادلہ بھی ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا نے اس معاملے پر اسرائیل کو زرد کارڈ دکھایا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ہم امریکی خدشات کو سمجھتے ہیں تاہم ہماری کوشش ہوگی کہ جن مکانات کی منظوری دی گئی اس کی تعداد کو کم کیا جائے۔

واضح رہے کہ امریکا نے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے آبادکاری کے فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس فیصلے سے اسرائیلی اور فلسطین کے درمیان امن عمل کو نقصان پہنچے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم کی ایران کو دھمکی

تل ابیب:سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ ایران سے ایک بار پھر دنیا بھر کے امن کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں تاہم ہم اکٹھے ہوکر ایرانی جارحیت کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور جتنا ہم ایک ساتھ کھڑے ہوں گے یہ اتنا ہی ہمارے لیے فائدہ مند ہوگا۔

اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا تھا کہ ایران پہلے سے ہی اسرائیلی اہداف پر نظر رکھے ہوئے تھا اور ان کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، ایران نے جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنایا تاہم اس میں برطانوی رومانیہ کے شہری ہلاک ہوئے، اور اب ایران حملے کی ذمہ داری سے بچنے کی بزدلانہ کوششوں میں مصروف ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے تیل بردار جہاز پر حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ خود اسرائیل نے کیا جس کے ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔

اسرائیلی وزیرخارجہ کا یو اے ای کا پہلا دورہ؛ابوظبی میں نئے سفارت خانہ کا افتتاح

اسرائیل کے نئے وزیرخارجہ یائرلاپیڈ متحدہ عرب امارات کے پہلے دوروزہ سرکاری دورے پر ابوظبی پہنچے ہیں۔انھوں نے منگل کے روز اماراتی دارالحکومت میں ایک عارضی عمارت میں اسرائیل کے نئے سفارت خانے کا افتتاح کیا ۔

دونوں ملکوں کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی کے بعد کسی اسرائیلی وزیرکا یواے ای کا یہ پہلا دورہ ہے۔

یائرلاپیڈ نے ابوظبی میں سفارت خانہ کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ہم کہیں جانے والے نہیں،مشرقِ اوسط ہمارا وطن ہے.انھوں نے کہا کہ ’’ہم یہاں رہنے کے لیے ہیں۔ہم خطے کے تمام ممالک پر زوردیتے ہیں کہ وہ اس (حقیقت) کو تسلیم کریں۔‘‘

یائرلاپیڈ نے گذشتہ سال یو اے ای اور بحرین سے معاہدہ ابراہیم طے کرنے پر سابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے کردار کو سراہا اور امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ صدر جوبائیڈن کا بھی شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے والے عرب اور مسلم ممالک کے حلقے کو وسیع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان لائرحیات نے بتایا ہے کہ آج اسرائیل اور یواے ای کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ سے متعلق بارھواں سمجھوتا طے پارہا ہے۔

اسرائیل نے ابوظبی میں اپنے نئے سفارت خانہ میں ابھی صرف تین سفارت کاروں اور مشن کے سربراہ ایتان نوح کا تقرر کیا ہے لیکن ان کے مکمل سفیر کے طور پر تقرر کی تصدیق نہیں کی ہے۔دبئی میں اسرائیل کا قونصل خانہ بھی عارضی جگہ پر قائم ہوگا اور اس کو بعد میں کسی مستقل عمارت میں منتقل کیا جائے گا۔

اسرائیلی جنگی طیاروں کی شام پربمباری

دمشق: اسرائیل کے جنگی طیاروں نے لبنان کی سرحد سے نچلی پرواز کرتے ہوئے شام کے وسطی علاقے پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کے وسطی علاقے میں اسرائیل کے جنگی طیاروں نے میزائل برسائے جسے شامی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا تاہم کچھ میزائل رہائشی علاقے میں گرے۔

رہائشی علاقے میں میزائل گرنے کے باعث 4 افراد ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں 2 زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر کیئے جس میں اسلحہ ڈپوز کوبھی تباہ کیا گیا۔ سیریئن آبزرویٹری نے اسرائیلی طیاروں کی رہائشی علاقے میں حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسند نہیں بلکہ عام شہری تھے۔

ترکی نے اسرائیل کے لیے اپنا سفیر مقرر کردیا

انقرہ: ترکی نے 2 سال بعد اسرائیل کے لیے اپنا سفیر مقرر کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی نے 2 سال بعد اسرائیل کے لیے اوفوک اولوتاش کو اپنا نیا سفیر مقرر کردیا ہے تاہم اس حوالے سے ترک حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر اعلان جلد متوقع ہے جب کہ اسرائیل نے ابھی تک ترکی میں اپنا سفیر بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق ترک حکومت کی جانب سے اسرائیل کے لیے 2 سال بعد سفیر تعینات کرنے کا مقصد اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سمیت نئے امریکی صدر جو بائیڈن اور امریکی انتظامیہ سے تعلقات کو بہتر کرنا ہے جو 2018 کے بعد سے تناؤ کا شکار تھے۔

40 سالہ اوفوک اولوتاش ترک وزارت خارجہ میں اسٹریٹجک ریسرچ سینٹر کے چیئرمین اور ترکش تھنک ٹینک سیتا فاؤنڈیشن کے سربراہ بھی ہیں جنہوں مشرق وسطیٰ سے متعلق متعدد پالیسی پیپرز تحریر کیے ہیں، اس کے علاوہ اوفوک اولوتاش فلسطینیوں کے حامی اور ایران سے تعلقات سے متعلق ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ 2018 میں امریکا کی جانب سے سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی پر احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج نے فائرنگ کرکے 68 فلسطینیوں کو شہید اور 3 ہزار کو زخمی کردیا تھا جس کے بعد ترکی نے اپنا سفیر فوری طور پر واپس بلاتے ہوئے اپنے ملک سے اسرائیلی سفارت کار کو چلے جانے کا حکم دیا تھا۔

اسرائیلی جنگی طیاروں کی فلسطین پر فضائی بمباری

تل ابیب: اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے غزہ کی پٹی پر فضائی بمباری کی جس کے نتیجے میں کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے علاقے سے اسرائیلی سرزمین پر داغے گئے راکٹ کے جواب میں حماس کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی اور اسلحہ ڈپو کو تباہ کردیا گیا۔ فلسطینی حکام نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر خان یونس کے علاقے میں میزائل بھی داغے جو زیادہ تر ایک کھیت پر گرے جب کہ کچھ عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر حماس نے اسرائیلی فوج فوج کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی جانب سے کوئی راکٹ اسرائیلی سرزمین پر داغا نہیں گیا۔ اسرائیل نے جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے جس کا جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور چند عرب ممالک کے اسرائیل سے سفارتی وتجارتی تعلقات بحال کرنے کے بعد سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔