درختوں سے ماحول دوست پلاسٹک کی تیاری کا تجربہ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)پوری دنیا میں پلاسٹک کی تباہ کاریوں کا شور ہورہا ہے جس کے بعد ماحول دوست اور ازخود ختم ہونے والے پلاسٹک کی تیاری کی سرتوڑ کوششیں ہورہی ہیں۔

اس ضمن میں ایک خبر امریکا سے آئی ہے جہاں یونیورسٹی آف وسکانسن کے ماہرین نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیکٹیریا بنایا ہے جو لکڑی والے درختوں سے ماحول دوست پلاسٹک تیار کرسکتا ہے۔

ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کھاد میں موجود بیکٹیریا این ایرومیٹی سائی وورن پودے اور درختوں کے ایک جزو ’لائگنِن‘ کو ہضم کرسکتا ہے۔ لائگنِن سبزپودوں کی خلوی دیوار میں پایا جاتاہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بیکٹیریا بہت سے مفید مرکبات (کمپاؤنڈ) بناسکتا ہے۔

مثلاً تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ لائگنِن کو ہضم کرکے ایک طرح کا پیچیدہ کیمیکل بناتا ہے جسے ٹو پائرون فور، سکس ڈائی کاربو آکزیلک ایسڈ یا پی ڈی سی کہتے ہیں۔

اس کے لیے ماہرین کو بیکٹیریا سے تین اہم جین نکالنے پڑے اور اس کے بعد وہ مطلوبہ مرکب تیار کرنے کے قابل ہوگیا۔

اب اس مرکب کا حال بھی سن لیجئے کہ یہ اپنے خواص میں پلاسٹک پالیمر جیسا ہے اور اس سے پلاسٹک کی اشیا بنائی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ پلاسٹک ازخود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر ازخود گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔

لیکن اس عمل سے حقیقی انداز میں پلاسٹک کا حصول ابھی بہت دور کی بات ہے۔

فیس بک سربراہ کا پرائیویسی برقرار رکھنےکے لئے بڑا اعلان

کیلی فورنیا(مانیٹرنگ ڈیسک)فیس بک کے سربراہ مائیک زکر برگ نے اعلان کیا ہے کہ میسیجنگ سروس کو قابل بھروسہ، محفوظ اور پرائیوسی کے مروجہ اصولوں کو برقرار رکھنے کے انقلابی اقدام کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فیس بک کے مالک زکر برگ نے اپنے حالیہ بلاگ میں انکشاف کیا ہے کہ میسیجنگ سروس کو ایسے ڈھنگ میں ڈھالا جا رہا ہے

جہاں صارفین کو نجی گفتگو کے دوران پرائیوسی کا پختہ یقین ہوگا اور وہ جانتے ہوں گے کہ ان کے پیغامات نا صرف محفوظ ہیں بلکہ ایک خاص مدت بعد پیغامات خود بخود ڈیلیٹ ہوجائیں گے۔

مائیک زکر برگ نے مزید کہا کہ فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی میسیجنگ سروس کو خود سروس فراہم کرنے والے والا یا کوئی تیسرا فریق نہیں پڑھ سکے گا۔

صارفین اپنے پیغامات کو ایک خود کار نظام کے تحت اپنی مرضی کے وقت پر ڈیلیٹ کرواسکیں گے۔ فیس بک کے مالک اس حوالے سے جو اقدامات اُٹھا رہے ہیں

اُن میں چیٹس کا محفوظ ہونا، کسی تیسرے فریق کا چیٹس نہ پڑھ پانا، پیغامات خاص مدت بعد خود بخود حذف ہوجانا اور ڈیٹا کی حفاظت شامل ہے۔ فیس بک یہ اقدامات حالیہ تنقید کے بعد اُٹھا رہا ہے جس میں صارفین کا ڈیٹا اور چیٹس لیک ہونے پر احتجاج کیا گیا تھا۔

فیس بک ایک بار پھر صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے تنقید کا نشانہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فیس بک ایک بار پھر صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے تنقید کی زد میں ہے اور اب کی بار ایک سیکیورٹی فیچر اس کی وجہ بنا ہے۔ فیس بک نے 2011 میں صارفین کے لیے ٹو فیکٹر آتھنٹیکشن فیچر متعارف کرایا تھا، یعنی ایسا عام سیکیورٹی فیچر جس میں لاگ ان کی کوشش پر ایک ایس ایم ایس صارف کو موصول ہوتا ہے۔ مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ یہ فیچر فیس بک دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کررہی ہے۔

ٹیک کرنچ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سیکیورٹی فیچر کے لیے دیئے جانے والے صارفین کے فون نمبروں کو فیس بک دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ستمبر 2018 میں اس کی لینگوئج کو اپ ڈیٹ کرکے اس میں اینڈ مور کا اضافہ کیا گیا حالانکہ پہلے لکھا تھا Add your phone number to help secure your account۔

اب جو صارفین سیکیورٹی کے لیے اپنے فون نمبر کا اضافہ کرتے ہیں، انہیں ایک سیکیورٹی سیٹنگ کا سامنا ہوتا ہے جو ان سے پوچھتی ہے کہ اس نمبر کو کون کون دیکھ سکتا ہے اور اس کے لیے آپشنز ہوتے ہیں ایوری ون، فرینڈ آف فرینڈ یا فرینڈز، اپنی حد تک رکھنے کا کوئی آپشن نہیں۔ اسی طرح فیس بک انسٹاگرام سے معلومات شیئر کرتی ہے اور انہیں کہتی ہے کہ اگر مین فیس بک ایپ میں ان کا فون نمبر مختلف ہے تو انسٹاگرام پروفائل میں بھی اسے اپ ڈیٹ کریں۔

گزشتہ سال ستمبر میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیس بک اس سیکیورٹی معلومات کو ٹارگٹ اشتہارات کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اب ایک سائٹ ایموجی پیڈیا کے ایڈیٹر جرمی برگ نے اس حوالے سے نئی روشنی ڈالی ہے اور انکشاف کیا کہ اس حوالے سے صارفین کی پرائیویسی کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ فیس بک نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ‘ہم نے ٹو فیکٹر آتھنٹیکشن کے حوالے سے مختلف سوالات کو سنا ہے، یہ ایک اہم سیکیورٹی فیچر ہے اور گزشتہ سال ہم نے ایک آپشن کا اضافہ کیا تھا جس کے تحت صارف بغیر فون نمبر کے بھی رجسٹریشن کراسکتے ہیں’۔

بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ سال اپریل میں ہم نے فیس بک سرچ بار میں کسی فرد کے فون نمبر یا ای میل ایڈریس سے اسے تلاش کرنے کا فیچر ختم کردیا تھا تاکہ پرائیویسی محفوظ رہ سکے۔ اب لوگ ہو کین لک میں اپ سیٹنگز کنٹرولز سے اپنے فون نمبر یا ای میل ایڈریس کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔

اب مسلسل 90 گھنٹے استعمال کرنے پر بھی بیٹری دوبارہ چارج کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی

کیا آپ ایسا اسمارٹ فون لینا پسند کریں گے جسے ایک بار چارج کردیں تو وہ کئی دن بلکہ ہفتوں تک کام کرتا رہے؟تو دنیا کی سب سے طاقتور بیٹری والے فون انرجائزر پاور میکس پی 18 کے سے ملیں، جو کسی عفریت سے کم نہیں، بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران بیشتر کمپنیاں فولڈنگ فون اور فائیو جی فونز متعارف کراتی رہیں

مگر انرجائزر نے 18000 ایم اے ایچ بیٹری سے لیس اسمارٹ فون پیش کردیا، اور اتنی طاقتور بیٹری کے نتیجے میں اس فون کی موٹائی بھی 3 عام اسمارٹ فونز کے برابر ہوگئی ہے، کمپنی کا دعویٰ ہے کہ سنگل چارج پر لگاتار 48 گھنٹے تک ویڈیوز دیکھی جاسکتی ہیں جبکہ مسلسل کالز کرنے پر بھی بیٹری دوبارہ چارج کرنے کی ضرورت 90 گھنٹے بعد پڑے گی جبکہ سو گھنٹے موسیقی سن سکتے ہیں،

اور ہاں اسٹینڈبائی موڈ پر تو اس فون کو 50 دن تک دوبارہ چارج کرنے کی ضرورت ہی نہیں، اس فون کو دیگر ڈیوائسز کو چارج کرنے کے لیے بطور پاور بینک بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، اس سے ہٹ کر 6.2 انچ کے ایل سی ڈی ڈسپلے والے فون کے دیگر فیچرز بھی کافی بہتر ہیں، اس میں بیزل نہ ہونے کے برابر ہیں اور سیلفی کیمرا پوپ اپ لوڈیول کی شکل میں دیا گیا ہے

بلکہ سیلفی کے لیے ڈوئل کیمرا سیٹ اپ دیا گیا ہے، جن میں سے ایک 16 اور دوسرا 2 میگا پکسل کیمرا ہے، اس فون کے بیک پر 12، 5 اور 2 میگا پکسل پر مشتمل تین کیمروں کا سیٹ اپ دیا گیا ہے ، اس سے ہٹ کر میڈیا ٹیک ہیلیو پی 70 پراسیسر، سکس جی بی ریم، 128 جی بی اسٹوریج اور اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم دیگر نمایاں فیچرز ہیں، کمپنی کے مطابق فون میں فاسٹ چارجنگ سپورٹ موجود ہے اور اس کے باوجود بیٹری کو مکمل چارج ہونے میں 8 گھنٹے لگ جاتے ہیں،

یہ فون موسم گرما میں مختلف ممالک میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا اور قیمت کا اعلان بھی اسی وقت ہوگا، دوسری جانب یہ خبر بھی ہے کہ ایک عقاب کی عمر 70سال کے قریب ہوتی ہے۔اس عمر تک پہنچنے کے لیے اسے سخت مشکلات سے گزرنا ہو تا ہے۔جب اس کی عمر چالیس سال ہوتی ہے تو اس کے پنچے کند ہو جاتے ہیں جس سے وہ شکار نہیں کر پاتا،

اسی طرح اس کی مظبوط چونچ بھی عمر کے بڑھنے سے شدید ٹیڑھی ہو جاتی ہے،اس کے پر جس سے وہ پرواز کرتا ہے بہت بھاری ہو جاتے ہیں اور سینے کے ساتھ چپک جاتےہیں جس سے اڑان بھرنے میں اسے سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ان سب مشکلات کے ہوتے ہوے اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں یا تو وہ موت کو تسلیم کر لے یا پھر 150 دن کی سخت ترین مشقت کے لیے تیار ہو جائے۔

چنانچہ وہ پہاڑوں میں جاتا ہے ۔اور سب سے پہلے اپنی چونچ کو پتھروں پہ مارتا ہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جاتی ہے۔کچھ دن بعد جب نئی چونچ نکلتی ہے تو وہ اس سے اپنے سارے ناخن جڑ سے کاٹ پھینکتا ہے۔پھر جن اس کے نئے ناخن نکل آتے ہیں وہ وہ چونچ اور ناخن سے اپنا ایک ایک بال اکھاڑ دیتا ہے۔اس سارے عمل میں اسے پانچ ماہ کی طویل تکلیف اور مشقت سے گزرنا ہوتا ہے۔پانچ ماہ بعد جب وہ اڑان پھرتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے نیا جنم لیا ہے۔

ایک 12 سال کے لڑکے نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو اپنا سر پکڑنے پر مجبور کردیا

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ایک 12 سال کے لڑکے نے کچھ ایسا کردکھایا جس نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو اپنا سر پکڑنے پر مجبور کردیا ہے۔ جی ہاں محض 12 سال کی عمر میں ایک امریکی لڑکے جیکس اوسالٹ نے اپنے گھر کے ایک کمرے میں جوہری فیوژن ری ایکٹر بنانے میں کامیابی حاصل کرلی۔

ممفس سے تعلق رکھنے والا یہ لڑکا، جس کی عمر اب 14 سال ہے۔ کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ ایک فعال جوہری ری ایکٹر تیار کرنے والا کم عمر ترین فرد ہے۔ یہ مشین کسٹمائز ویکیومز، پمپس اور چیمبر سے تیار کی گئی جو اس لڑکے نے ای بے سے خریدے اور اس پر کل خرچہ 10 ہزار ڈالرز ہوا۔ اس کی مشین ایٹموں کو اتنی طاقت سے دباتی ہے جس سے توانائی خارج ہوکر اٹیم کے اندر پھنس جاتی ہے۔

اس بچے نے مشین کی تیاری کی تفصیلات انٹرنیٹ سے حاصل کیں اور اپنی 13 سالگرہ سے چند دن قبل گزشتہ سال جنوری میں جوہری ری ایکٹر بنانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس سے قبل اس طرح جوہری ری ایکٹر بنانے میں کامیابی حاصل کرنے والا کم عمر ترین فرد 14 سال ٹیلر ولسن تھا۔

جیکسن اوسالٹ نے بتایا کہ اس کو بنانے کا آغاز اس وقت ہوا جب اسے معلوم ہوا کہ کس طرح دیگر افراد نے فیوژن ری ایکٹر بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ سب جاننے کے بعد ای بے سے پرزے کریدے اور پھر ان کو جوڑ کر اس میں کامیابی حاصل کرلی۔

تاہم یہ بچہ اس توانائی کو بجلی میں منتقل کرنے میں ناکام رہا اور اس کے بقول یہ خامی اس وجہ سے ہے کیونکہ وہ ارب پتی نہیں۔

پاکستانی موبائل ایپ نےعالمی مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان سیٹیزن پورٹل ایپلی کیشن نے عالمی گورنمنٹ کانفرنس میں دوسری پوزیشن کے حصول کا اعزاز حاصل کرلیا۔

مذکورہ کانفرنس میں 87 ممالک سے 4 ہزار 646 ایپلی کیشن مقابلے کے لئے بھیجے گئے،فائنل مقابلے کے لئے 21 اپلیکیشنز کو 7 مختلف کٹیگریز میں منتخب کیاگیا،ہر کیٹیگری میں تین تین اپلیکیشنز کے مابین مقابلہ ہوا۔

پاکستان سیٹیزن پورٹل کا انتخاب سرکاری امور و عوامی فلاح و بہبود کے لئے بنائے گئے اپلیکیشن میں ہوا،گزشتہ سال عالمی مقابلے کا فاتح بھارت تھا،پاکستان سیٹیزن پورٹل اپلیکیشن کو لانچ ہوئے ابھی 100 دن ہی گزرے ہیں اور اسے ابتدا ہی میں عالمی اعزاز حاصل ہوا،پاکستان سیٹیزن پورٹل آئی ٹی شعبے میں دنیا بھر کے لئے ایک نیا موضوع بن گئی۔

پاکستان سیٹیزن پورٹل گوگل پلے اسٹور پر دنیا کے 7 بہترین ایپلیکیشنز کیٹیگری میں شامل ہوگئی،پاکستان سیٹیزن پورٹل پراڈکٹیویٹی میں ساتویں نمبر پر ریکارڈ کیا گیا،عوام کی طرف سے ایپلیکشن کو 28 ہزار اسٹارز ملے ہیں،اب تک لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے رجسٹریشن کی ہے جبکہ رجسٹریشن کا سلسلہ بتدریج جاری ہے۔

ایپل کمپنی کی جانب سے آئی فون کی قیمتیں کم ہونے کا امکان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایپل کمپنی کے سربراہ ٹم کُک کا کہنا ہے کہ ان کے سب سے مشہور پراڈکٹ آئی فون کی فروخت میں کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے چند ممالک میں اس کی قیمت کم کی جا سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی فون کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کا سبب آمدنی میں 15 فیصد کمی ہے۔

ایپل کے تازہ ترین مالی تجزیے کے مطابق آئی فون سے حاصل ہونے والی آمدنی میں گذشتہ مالیاتی چوتھائی کے مقابلے میں 15 فیصد کمی آئی ہے جبکہ آئی فون ہی کمپنی کا سب سے زیادہ منافع بخش ’پروڈکٹ‘ ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق مجموعی طور پر کمپنی کی آمدن میں پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ فیصد کمی آئی ہے اور اس وقت کی آمدن تقریباً 84 ارب 30 کروڑ ڈالر ہے۔

یہ صورتحال پہلے سے متوقع تھی کیونکہ کمپنی نے رواں ماہ کے آغاز میں سرمایہ کاروں کو مطلع کر دیا تھا کہ آمدن توقع سے کم اور 84 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہے گی۔

کمپنی نے اس صورت حال کا جزوی طور پر ذمہ دار چین میں اقتصادی سست روی کو قرار دیا ہے۔ تاہم ٹم کُک نے یہ بھی کہا ہے کہ گاہک کمپنی کی جانب سے رکھی جانے والی مہنگی قیمتوں کی وجہ سے بھی مشکلات کا شکار ہیں۔

ایپل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ڈالرکی باقی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوطی کی وجہ سے ان کی مصنوعات ابھرتی معیشت والے ممالک میں مہنگی ہوتی ہیں اور اس کا اثر ان بازاروں میں ان مصنوعات کی فروخت پر پڑ رہا ہے۔

ٹم کُک کے مطابق ایپل رواں ماہ سے اپنے موبائل فون کی قیمتوں کا دوبارہ تعین کر رہی ہے تاکہ صارفین کو کرنسیوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات سے بچایا جا سکے۔

‘ہم نے جنوری میں کچھ مصنوعات اور کچھ مقامات کے لیے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں کہ وہ گذشتہ سال کے مقابلے میں کرنسی کے اتار چڑھاؤ کو جذب کر لیں گے۔’

امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی روبوٹ کی مریخ پر کامیاب لینڈنگ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی خلائی ادارے ناسا کا خلائی روبوٹ انسائٹ کامیابی سے مریخ کی سطح پر لینڈ کرگیا۔ یہ ناسا کی تاریخ میں مریخ پر آٹھویں کامیاب لینڈنگ ہے۔ خلائی روبوٹ انسائٹ نے لینڈنگ کے بعد ناسا کو مشن کی تکمیل کا سگنل دیا ساتھ ہی مریخ کی پہلی تصویر بھی بھیجی جو شیشے پر گرد جمع ہونے کی وجہ سے دھندلی تھی۔ یہ تصویر خلائی گاڑی کے اندر نصب کیمرے سے لی گئی تھی۔ مگر چند گھنٹوں بعد ان سائٹ نے ایک اور تصویر بھیجی جو خاصی واضح تھی۔ ناسا کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں روبوٹ زیادہ اچھی کوالٹی کی تصاویر ارسال کرنا شروع کر دے گا۔ خلائی روبوٹ نے اپنی لانچ کے بعد سات ماہ میں 29 کروڑ 80 لاکھ میل کا سفر طے کیا اور بالآخر مریخ کی سطح پر لینڈنگ کرنے میں کامیاب ہوا۔ یہ روبوٹ مریخ کی تشکیل، اس پر آنے والے زلزلوں اور اس کی اندرونی ساخت کے بارے میں تحقیق کرے گا۔ ساتھ ساتھ روبوٹ اس بات کی بھی تحقیق کرے گا کہ کیا مریخ چاند اور زمین جیسے اجرا رکھتا ہے اور سرخ سیادے کا وجود کیسے عمل میں آیا۔ فی الحال سائنسدان اندھیرے میں ہیں کہ مریخ کی اندرونی سطح آیا زمین جیسی ہی ہے یا اس سے مختلف ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق مریخ پر خلائی گاڑیوں کی لینڈنگ کے ماضی کے تجربات کی وجہ سے ان سائٹ کے حوالے سے تشویش پائی جارہی تھی کیونکہ یہ 2012 کے بعد مریخ پر اترنے والا پہلا روبوٹ تھا۔ لینڈ کرنے کے وقت روبوٹ نے ہرا سٹیج اور ہر ایک میٹر کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ واپس بھیجی۔
رپورٹوں کے مطابق روبوٹ مریخ کی فضا میں گولی کی رفتار سے داخل ہوا اور اس دوران درجہ حرارت کو کنٹرول رکھنے والی چادر، پیراشوٹ اور راکٹ کی مدد سے اسے حفاظت سے مریخ پر اترنے میں مدد ملی۔
ان سائٹ روبوٹ کو مریخ کے انتہائی سرد موسم میں اپنی بقا کے لیے اپنے سولر پینلز کو کھولنے ہوں گے جو کہ لینڈنگ کے وقت محفوظ رکھے گئے تھے۔روبوٹ کو مکمل طور پر توانائی پیدا کرنے والے نظام کو چلانا شروع کرنا ہو گا تاکہ خود کو سرد موسم سے بچا سکے ۔ اس کے ابتدائی کام مکمل ہونے کے بعد سائنس دانوں کی مکمل توجہ سائنسی تجربات پر ہو گی۔
ان سائٹ روبوٹ ماضی میں سرخ سیارے پر بھیجے جانے والے روبوٹس سے منفرد ہے کیونکہ اس کے ساتھ دو بریف کیس سائز کے مصنوصی سیارے بھی مریخ کی فضا میں پہنچے ہیں۔
کامیاب لینڈنگ کی اطلاع ملتے ہی کیلیفورنیا میں واقع ناسا کے کنٹرول روم میں موجود ماہرین نے خوشی میں تالیاں بجائیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔کامیابی کی خوشی میں امریکی صدرٹرمپ نے بھی فون کر کے مبارکباد دی۔ سال 2012 کے بعد یہ مریخ پر اترنے والا پہلا روبوٹ ہے۔