گوگل+ تنقید کے باوجود نئے انداز میں

سوشل میڈیا پر ایک عرصے مذاق کا نشانہ بننے والا گوگل پلس اب بھی ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نظر نہیں آتا اور اب گوگل نے اسے ایک نئی شکل دے دی ہے۔

گُوگل پلس کی نئی ویب سائٹ کی توجہ کا مرکز اب ’کلیکشنز‘ (دلچسپیوں کے مجموعے) اور ’کمیونیٹیز‘ (سماجی حلقے) ہوں گے تاکہ اسے ذاتی نوعیت کے نیٹ ورک سے زیادہ پسندیدہ مشاغل کے نیٹ ورک کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

گوگل کا نیا لوگو متعارف کروا دیا گیا

اپنے بلاگ پوسٹ میں گُوگل لکھتا ہے کہ ’ہم مکمل طور پر نئی شکل کے ساتھ گُوگل پلس کو متعارف کروانے کا آغاز کر رہے ہیں جس میں کمیونیٹیز اور کلیکشنز کو ترجیح دی گئی ہے۔ دلچسپیوں اور مشاغل پر انحصار کرنے والا گُوگل پلس استعمال میں پہلے کی نسبت آسان اور سادہ ہے۔‘

بلاگ پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم نے اسے انٹرنیٹ، اینڈروئڈ اور آئی او ایس کے حساب سے اسے از سرِ نو تشکیل دیا ہے اور اب اس کا استعمال موبائل فونز پر پہلے سے زیادہ سہل ہو گیا ہے۔ اب آپ بڑی سکرین استعمال کر رہے ہوں یا چھوٹی، آپ یکساں اور تیز رفتار تجربے سے گزریں گے۔‘

ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے گُوگل نیٹ ورک کے صارفین کے طریقہ استعمال کا تجزیہ کیا ہے کہ وہ کن مخصوص سہولیات کو استعمال کر رہے ہیں اور ان کے لیے بار بار کیوں گُوگل پلس کی جانب لوٹ کر آتے رہے ہیں۔

SOURCE – READ MORE

ٹیلبٹس اور فون بچوں کی ڈجیٹل صلاحیتوں میں رکاوٹ

ایک رپورٹ کے مطابق بچوں کا موبائل آلات استعمال کرنا ان کی ٹیکنالوجی کی اہم صلاحیتوں کے حصول میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

آسٹریلیا کے ایک تعلیمی ادارے نے کہا ہے کہ سنہ 2011 کے بعد آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے والے ایسے طلبہ میں بڑے پیمانے پر زوال دیکھا گیا ہے۔

’کمپیوٹر سے طالب علموں کی کارکردگی میں بہتری نہیں آتی‘

اس کی رپورٹ کے مطابق کام کی جگہوں پر درکار ٹیکنالوجی کی صلاحیت کی نسبت بچے ٹیبلٹس اور سمارٹ فونز پر مختلف نوعیت کی مہارت حاصل کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے سکولوں میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی جس طرز پر پڑھائی جاتی تھی اس میں کی جانی والی تبدیلیاں اس زوال کو بہتر طور پر واضح کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لوگوں کے زیرِ استعمال آلات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں بھی اس کی ایک وجہ ہیں۔

آسٹریلیا کے نیشنل اسیسمنٹ پروگرام کے تحت بچوں کے مختلف گروہوں میں ٹیکنالوجی کی تعلیم کو جانچا گیا۔

ایک گروہ پرائمری سکول سے نکلنے والا تھا جبکہ دوسرا اپنے سیکینڈری سکول کے چوتھے سال میں تھا۔ اس مطالعے میں ساڑھے دس ہزار بچوں نے حصہ لیا۔

اس مطالعے میں سنہ 2011 اور سنہ 2014 کے دوران طلبہ کی ڈجیٹل تعلیم کا تقابل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق: ’جب پچھلے دور کے بچوں کے ساتھ موازنہ کیا گیا تو آئی سی ٹی کی تعلیمی کارکردگی میں بڑے پیمانے پر زوال دیکھا گیا۔‘

اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2014 کے گروہ میں میں شامل 16 برس کی عمر کے طلبہ کی کارکردگی کسی بھی پچھلے گروہ سے کم تھی۔

رپورٹ کے مطابق کارکردگی میں یہ زوال پریشان کن ہے اور انتہائی توجہ چاہتا ہے۔

امتحان کے دوران طلبہ نے زیادہ سے زیادہ موبائل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا اس کا مطلب ہے کہ وہ آئی سی ٹی کی تعلیم کے مطابق صلاحیتوں کا استعمال کم سے کم کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ جو بچے ٹیلبٹس اور دیگر آلات استعمال کرتے ہیں وہ زیادہ قابل ہیں۔

SOURCE – READ MORE

چلتے پھرتے ڈیجیٹل ڈالر کمائیں

انٹرنیٹ پر خرید و فروخت ہونے والے سکّے ’کرپٹو کرنسی‘ نے ایک نئی ایپ متعارف کرائی ہے جس سے پیدل چلنے والے یہ کرنسی کما سکتے ہیں۔

کمپیوٹر کے ذریعے پیدا کی جانے والی ’بِٹ کوائنز‘ یا ان جیسے دیگر سکّوں کے برعکس آپ ’بِٹ واکنگ ڈالر‘ چل پھر کر کما سکتے ہیں۔

اس کے لیے اب آپ ایک نئی ایپلیشن یا ایپ اپنے فون پر ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے ہیں جو صارف کے قدموں کا شمار کرتی ہے اور تقریباً ہر ایک ہزار قدم کے بعد آپ ایک بِٹ واکنگ ڈالر یا بی ڈبلیو ڈالر کے حقدار ہو جاتے ہیں۔