حکومت نے اب ایسے ہر گھر کو 25 ہزار روپے ماہانہ دینے کا شاندار اعلان کر دیا

کراچی(ویب ڈیسک ) پاکستان اورسندھ پولیس کی تاریخ میں پہلی بارایسا ہونے جارہا ہے کہ دس سالہ سروس کے دوران طبعی طور پر انتقال کرجانیوالے پولیس افسران،جوانوں کے حقیقی اور قانونی ورثاء کو چھ ماہ تک پچیس ہزار روپئے ماہانہ امداد دی جائیگی اور اس تسلسل کو جاری رکھنے کے ضمن میں چھ ماہ بعد دوبارہ سے جائزہ لیکرفیصلہ کیاجائیگا۔

اس بات کا متفقہ فیصلہ آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام کی ہدایات کی روشنی میں سینٹرل پولیس آفس کراچی میں سندھ پولیس بینویلنٹ کے نویں اجلاس میں شریک بورڈ ممبران ایڈیشنل آئی سی ٹی ڈی،ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ،ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز سندھ،ڈی آئی جی فائنانس،اے آئی جی ویلفیئرسندھ،سی پی ایل سی چیف،گل احمد ٹیکسٹائل ملز کے ڈائریکٹرزید بشیر، صحافی شرمین عبید چنائے کے علاوہ حکومت سندھ کے نمائندگان کے باقاعدہ منظوری سے کیا گیا۔

اجلاس میں متفقہ طور پر کیئے جانیوالے مزید ایک بڑے فیصلے کے مطابق شہید پولیس آفیسر یا جوان کی تجہیزوتکفین کی رقم کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ انکے حقیقی اور قانونی ورثاء کو فوری اوربروقت تین لاکھ روپئے کی امدادی رقم کی بھی ادائیگی کی جائے گی تاکہ محکمانہ مراعات کی باقاعدہ فراہمی تک کی مدت کے دوران شہدائے پولیس کی فیملیز کے گزربسرکو آسان بنایا جاسکے ۔

آئی جی سندھ نے دوران اجلاس اے آئی جی ویلفیئر سندھ کو ہدایات دیں کہ اسکولز، کالجزاور جامعات کے منتظمین سے روابط کرکے شہدائے پولیس کے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے کوٹہ مختص کرنیکے اقدامات اٹھائے جائیں۔اکتوبر تا دسمبرسال2018کی سہہ ماہی میں5418 پولیس بیواؤں کے اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر77.2 ملین کی رقم آن لائن منتقل کی گئی۔

مزیدبرآں جنوری تا مارچ سال2019کی سہہ ماہی کے لیئے بھی بورڈ نی77.1 ملین کی رقم جبکہ ایسے ہی 913کیسز کے بقایاجات کی مد میں 68.1ملین کی رقم پولیس بیواؤں کے اکاؤنٹس میں آن لائن منتقل کرنیکی باقاعدہ اجازت ومنظوری دیدی ہے ۔

نواز شریف نے کتنے ارب ڈالر دینے کی رضامندی ظاہر کی تھی؟ مریم نواز نے پوری ڈیل ہی الٹا دی، اہم انکشاف

لاہور(ویب ڈیسک ) سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں نے پہلے چار ارب ڈالر دینے کی رضامندی ظاہر کی تھی لیکن مریم نواز نے پوری ڈیل ہی الٹا دی۔اس حوالے سے قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف چند روز میں بیرون ملک روانہ ہوں گے۔

نواز شریف کی رہائی سے متعلق پلی بارگین پر حسن اور حسین سے مشورہ کریں گے،ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریفنے برطانیہ میں اپنے بھتیجوں حسن اور حسین نواز سے ملاقات کے دوران انہیں اس بات پر راضی کرنا ہے کہ ساڑھے چھ ارب ڈالر کے عوض ان کے والد نواز شریف کی احتسابعدالت سے جان چھوٹ سکتی ہے۔بصورت دیگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر شریف خاندان پر مزید مشکلات آ سکتی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے بیٹوں نے پہلے چار ارب ڈالردینے کی رضامندی ظاہر کی تھی جو کہ چار سال میں ادا کرنے تھے۔لیکن مریم نواز نے پوری ڈیل الٹا دی۔مگر اب ساڑھے چھ ارب ڈالر پر شہباز شریف نے ڈیل کروانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔جب کہ دوسری جانب معروف صحافی کا کہنا ہے کہ شریف خاندان اور آصف علی زرداری تین تین بلین ڈالر دینے کو تیار ہیں اور دونوں کی طرف سے یہ پیشکش بہت ہی معتبر شخصیات وزیراعظم عمران خانکے پاس لے کر پہنچیں تھیں۔

عمران خان نے یہ بات سننے سے انکار کر دیا۔یہ پیشکش کرنے والوں میں کچھ پی ٹی آئی کے سفارشی لوگ بھی موجود تھے،لیکن عمران خان نے سب کو شٹ اپ کال دے دی ان میں سے ایک ایسی شخصیت تھی جس کی عمران خان بہت عزت کرتے ہیں تو ان کو عمران خان نے پیشکش قبول کرنے سے معذرت کی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں آفر ذاتی طور پر کسی این آر او کے طور پر قبول نہیں کروں گا۔یہ پرنسیپل فیصلہ ہے جس پر میں کبھی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔عمران خان نے کہا کہ اگر اداروں میں کوئی پلی بار گین کا طریقہ کار موجود ہے تو اور وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہتا ہے اور کی گئی کرپشن پرپیسے دینا چاہتا ہے تو وہ ٹھیک ہے لیکن مجھ سے این آر او کی کوئی توقع نہ کی جائے۔

لاہور ہائیکورٹ نے ملک ریاض کے داماد کی ضمانت منظور کرلی، نیب کو گرفتاری سے روک دیا

لاہور (زرائع) لاہور ہائیکورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے مالک اور ریئل اسٹیٹ ٹائکون ملک ریاض کے داماد زین ملک کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔عدالت میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے زین ملک کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران درخواست گزار زین ملک اور ان کے وکیل اظہر صدیقی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران وکیل کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ ان کے موکل کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) میں انکوائریاں چل رہی ہیں، اس پر نیب کے خصوصی پراسیکیوٹر نے کہا کہ جے آئی ٹی تحقیقات کر رہی ہے۔ساتھ ہی درخواست گزار زین ملک نے کہا کہ وہ متعلقہ فورم پر جاکر اپنے کیس کا دفاع کرنا چاہتا ہوں لیکن خدشہ ہے کہ نیب انہیں گرفتار کرلے گی، لہٰذا حفاظتی منظور کی جائے۔

بعد ازاں عدالت نے زین ملک کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب کو ایک ہفتے تک گرفتاری سے روک دیا۔خیال رہے کہ احتساب کے قومی ادارے کی راولپنڈی برانچ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں اومنی گروپ کے چیف ایگزیکٹو افسر عبدالغنی مجید اور ملک ریاض کے بیٹے اور داماد اور دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔

ووٹ لینے کے لیے بھارت اور اسرائیل کی قیادت اپنے عوام کو گمراہ کر رہی ہے، وزیر اعظم عمران خان

اسلا م آباد (زرائع)وزیر اعظم عمران خان نے بھارت اور اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹ لینے کے لیے دونوں ملکوں کی قیادت اپنے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نے منگل کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی اور اسرائیلی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کی قیادت الیکشن میں فتح کے لیے اپنے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: چین کا صوبہ ہینان 10 سالوں میں غیر مقبول سے مقبول ترین کیسے بن گیا؟

یاد رہے کہ اسرائیل میں آج انتخابات ہیں جبکہ بھارت میں 11اپریل سے انتخابی عمل شروع ہونے والا ہے اور دونوں ہی ملکوں کی حکتوں جانب سے الیکشن میں کامیابی کے جارحیت کا استمال کیا جا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے اثاثے منجمد کرنے کے خلاف سماعت مقرر

لاہور (زرائع) لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے اثاثے منجمد کرنے کے خلاف حافظ سعید اور وفاقی حکومت کی متفرق درخواستوں کو 18 اپریل کو سماعت کے لیے مقرر کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امین الدین خان نے وفاقی حکومت کی متفرق درخواست پر جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت کے اثاثے منجمد کرنے کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔وفاقی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سعدیہ ملک عدالت میں پیش ہوئیں۔

انہوں نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ تنظیم کے سربراہ حافظ سعید نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت کے اثاثے حکومتی تحویل میں لینے کے اقدام کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سعدیہ نے عدالت کو مزید بتایا کہ عدالت نے اس کیس میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو نوٹس جاری کررکھے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کیس انتہائی اہم ہے، اٹارنی جنرل آف پاکستان اس کیس میں خود پیش ہونا چاہتے ہیں جبکہ وہ 16 اپریل کو مصروفیت کے باعث پیش نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ حافظ سعید کی درخواست کی سماعت کے لیے کوئی اور تاریخ مقرر کی جائے، جس پر عدالت عالیہ نے مرکزی کیس کو 18 اپریل کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔

خیال رہے کہ 4 مارچ 2019 کو وفاقی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پابندی کے شکار افراد اور تنظیموں کو کنٹرول میں لے کر ان کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کے لیے سلامتی کونسل آرڈر 2019 جاری کیا تھا۔

نیب نے حمزہ شہباز کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں فوراََ طلب کر لیا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)نیب نے حمزہ شہباز کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں 10 اپریل کو طلب کر لیا۔حمزہ شہباز کو دس اپریل کو 11 بجے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔دریں اثنا منی لانڈرنگ کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست پر سماعت جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔اس موقع پر نیب ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی۔ عدالت میں موجود ن لیگی کارکنان نے نعرے بازی بھی کی جس پر عدالت میں شور ہونے پر جسٹس شہزاد ملک نے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ کارکنان کو اس طرح کیوں بلایا گیا ؟ انہیں کنٹرول کرنا کس کا کام ہے؟ دوبارہ ایسا ہوا تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ زیادہ افراد کو ساتھ بلا لینے سے عدالتی کارروائی میں رکاوٹ پیدا ہو تی ہے۔

عدالت نے پوچھا کہ حمزہ شہباز کے خلاف کتنے کیس ہیں؟ نیب حکام کہاں ہیں؟ جس پر نیب نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور شوگر ملز سے متعلق کیس ہے۔ عدالت نے نیب حکام سے استفسار کیا کہ آپ حمزہ کو کس کیس میں گرفتار کرنا چاہتے ہیں جس پر نیب حکام نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں گرفتار کرنا ہے۔

عدالت نے کہا کہ صاف پانی اور رمضان شوگر ملز میں ابھی فیصلہ نہیں کیا؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ حمزہ شہباز کے خلاف ٹھوس شواہد ہیں جس پر تحقیقات کرنی ہیں۔ جب کہ صاف پانی اور رمضان شوگر مل میں ابھی تک وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے ہیں۔ دوران سماعت حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے گرفتاری سے 10 دن قبل اطلاع دینے کا حکم دیا تھا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ گرفتاری سے قبل بتانا ضروری نہیں ہے۔ جسٹس شہزاد نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ہائیکورٹ کا 10 دن والا حکم چیلنج کیا تھا ؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم نے سب کچھ قانون کے مطابق کیا۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ جلدی کی تاریخ دیجئیے گا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ ابھی کیس نوٹس کی اسٹیج پر ہے۔

حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے بغیر کسی نوٹس کے گرفتار کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔ اگر نیب کے پاس کوئی دستاویزاتی ثبوت ہیں توپیش کریں ہم جواب دیں گے۔ نیب کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت پیشگی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب کہ نیب کے قانون کےتحت جرم ناقابل ضمانت ہے۔

جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 17 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے حمزہ شہباز سے رپورٹ اور شق وار جواب بھی طلب کر لیا جبکہ نیب کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ اور پارٹی رہنما ملک احمد خان سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال ، رانا مشہود بھی لاہور ہائیکورٹ کے کمرہ عدالت میں موجود تھے۔جبکہ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے نیب کی مسلسل کوشش پر شدید تنقید

لاہور (زرائع) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کی 2 مسلسل کوششوں پر نیب کو متضاد رویے کا سامنا ہے۔

ایک جانب حکومتی اراکین ان چھاپوں کو نیب کی ناکامی سے تعبیر کررہے ہیں تو دوسری جانب اپوزیشن اسے انسدادِ بدعنوانی ادارے کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہے۔

زرائع کی رپورٹ کے مطابق نیب کے چھاپوں پر اپوزیشن جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے نہ صرف ادارے بلکہ تحریک انصاف کی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

تو دوسری جانب حکومتی اراکین نے بھی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 85 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے ملزمان کو پکڑنے کی سنجیدہ کوششیں نہ کرنے پر نیب کی سرزنش کی۔

اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن نے نیب کے چھاپوں کو ناکام آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیورو نے حمزہ شہباز کو ’سیاسی فائدہ‘ پہنچایا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شریف خاندان کے 5 اراکین پہلے ہی مفرور ہیں جبکہ پی ٹی آئی کہ رہنما اور صوبائی وزیر علیم خان جیل میں ہیں اور دیگر افراد نیب ریفرنس کا سامنا کررہے ہیں۔نیب کے ناکام چھاپوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ’ملک میں اب بھی اشرافیہ حقیقی احتساب سے مبرا ہے‘۔

دوسری جانب پنجاب کے وزیر صنعت میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کو بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور 85 ارب روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر لے جانے کا الزام پنجاب کے میگا منصوبوں میں ہونے والی بدعنوانی کے حجم کے بارے میں بتاتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکنان اور رہنماؤں کی جانب سے پیپلز پارٹی سے ہاتھ ملانے کے لیے دباؤ

لاہور (زرائع) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنان اور رہنماؤں کی جانب سے قیادت پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے ہاتھ ملانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے تا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے جارحانہ استعمال کے خلاف سڑکوں پر نکلا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ پارٹی رہنماؤں نے قیادت، میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف، سے ’درخواست‘ کی ہے کہ حکومت کے خلاف مہم کا آغاز کرنے کے لیے کارکنان کو متحرک کیا جائے۔ان کے مطابق عوام پی ٹی آئی کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی سے شدید پریشان ہیں اس وقت انہیں سڑکوں پر لانے کا بہترین موقع ہے اور انہیں اُمید ہے کہ اپوزیشن کا یہ اقدام کافی کامیاب رہے گا۔

اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کا سلسلہ عید کے بعد (جون میں) شروع کرنے کا عندیہ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ عید کے بعد ممکن ہے کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن سڑکوں پر آجائے جس نے ملک بالخصوص معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ لوگ جو عمران خان اینڈ کمپنی کو اقتدار میں لائے ہیں وہ بھی اپنے فیصلے کے بارے میں سوچیں گے‘۔پی پی پی کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’غیر رسمی طور پر اپوزیشن متحد ہے اور جلد اکٹھا بیٹھ کر مشترکہ حکمتِ عملی ترتیب دی جائے گی‘۔

مشاہد اللہ خان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عمران خان کو لگتا ہے کہ اپوزیشن کی قیادت کو جیل بھیجنے سے ان کی آواز کو دبایا جاسکتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی اور ترجمان مسلم لیگ (ن) پنجاب، ملک محمد احمد نے کہا کہ نیب کو نہ صرف تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کے لیے استعمال کیا گیا بلکہ حکومت کو استحکام دینے کے لیے بھی اسے اپوزیشن کے خلاف استعمال کا جارہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اپوزشن کو نشانہ بنا کر اپنے لیے مشکلات کو دعوت دے رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں جبکہ متحدہ اپوزیشن سڑکوں پر ہوگی۔

حمزہ شہباز کے گھر داخل ہو کر انہیں گرفتار کرنے کی اجازت دے دی گئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) احتساب عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کی گرفتاری کی اجازت دے دی ۔نجی ٹی وی کے مطابق نیب نے حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کیا تھا اور اب احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کے گھر داخل ہو کر انہیں گرفتار کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

احتساب عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دوران گرفتاری کسی بھی قسم کی غیر ضروری طاقت سے اجتناب کیا جائے۔احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کی گرفتاری پولیس کی مدد سے گھر داخل ہو کر کی جائے۔

دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ (ن)کی ترجمان مریم اور نگزیب نے نیب کی جانب سے حمزہ شہباز شریف کے گھر پر نیب ٹیم کے چھاپہ شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ نیب وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر ریاستی دہشتگردی کررہی ہے ، نیب کے پاس کسی قانونی عدالت کا کوئی نوٹس نہیں ، گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے پہلے ٹھوس ثبوت رکھیں اور نوٹس دیں پھر گرفتار کریں ، حکومت اپنی کارکردگی سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسے ہتھکنڈے کر رہی ہے، پشاور میں ایک کھرب کے کھڈوں پر نیب کیوں حرکت میں نہیں آتا،بی آر ٹی کرپشن میں وزیر اعظم عمران خان ملوث ہیں ، نیب حرکت میں کیوں نہیں آرہی ہے، نیب کو ایک معیار رکھنا ہوگا اور وزیر اعظم پاکستان کو ہیلی کاپٹر کیس میں گرفتار کرنا ہوگا، نیب کو جہانگیر ترین اور علیمہ باجی کو گرفتار کرناہوگا ۔ ہفتہ کو ترجمان مسلم لیگ (ن )مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نیب گزشتہ روز سے غیر قانونی انداز سے دھاوے بول رہا ہے۔جس کے پاس قانونی وارنٹ ہو وہ دھاوے نہیں بولتے۔

مریم اورنگزیب نے کہاکہ وزیر اعظم نے گزشتہ روز جلسے میں کہا کہ وہ سب کو جیلوں میں ڈالیں گے۔انہوں نے کہاکہ ریاستی اداروں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب عدالتی فیصلوں کی اپنی منشاء کے تحت تشریح کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نیب وزیر اعظم کے حکم پر ریاستی دہشتکردی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز میڈیا میں تشدد کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔انہوں نے کہاکہ نیب نے جھوٹا بیان جاری کیا،نیب غنڈہ گردی کر رہی ہے اس کے پاس کسی قانونی عدالت کا کوئی نوٹس نہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ نیب کے پاس کون سے ایسے شواہد ہیں فواد چودھری کو مل جاتے ہیں لیکن عدالت یا حمزہ شہباز کو نہیں دئیے جاتے۔انہوں نے سوال کیا کہ حمزہ شہباز دہشت گرد ہے یا مفرور ہے ؟ ۔انہوں نے کہاکہ ریاستی اداروں کو استعمال کرکے وزیراعظم انتقامی کارروائی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ عوام کو بتا دیں کہ ان کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ حکومت اپنی کارکردگی سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسے ہتھکنڈے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہباز گل ٹویٹ کے ذریعے نیب ٹیم کو ہدایات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری وکلاء کی ٹیم لاہور ہائیکورٹ پہنچ چکی ہے،ہم عدالت سے مزید قانونی وضاحت لیکر دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن )قانونی طریقہ کار استعمال کر رہی ہے۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ آمرانہ ذہنیت کا وزیر اعظم آمریت کے قانون کو اپوزیشن کو استعمال کر رہی ہے۔ ایک سوال پر مریم اور نگزیب نے کہاکہ پشاور میں ایک کھرب کے کھڈوں پر نیب کیوں حرکت میں نہیں آتا ؟انہوںنے کہاکہ بی آر ٹی کرپشن میں وزیراعظم ملوث ہیںاس لئے نیب حرکت میں نہیں آرہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ نیب کو ایک معیار رکھنا ہوگا اور وزیر اعظم پاکستان کو ہیلی کاپٹر کیس میں گرفتار کرنا ہوگا ۔مریم اور نگزیب نے کہاکہ معیار ایک ہوگا تو علیمہ باجی کو گرفتار کرنا پڑیگامگر نیب وہی کرے گا جو وزیراعظم کا حکم ہوگا ۔

انہوں نے کہاکہ معیار ایک ہوگا تو جہانگیر ترین کو گرفتار کر نا ہوگا ۔ ایک سوال پر انہو ں نے کہاکہ رونا دھونا سیاسی لیڈر نہیں کرتے،اگر گرفتاری کا ڈر ہوتا تو حمزہ اپنے گھر میں نہ ہوتے ۔انہوں نے کہاکہ ٹھوس ثبوت رکھیںاور حمزہ شہباز شریف کو نوٹس دیں پھر گرفتاری کریں۔قبل ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’نیب کی طرف سے ریاستی دہشتگردی کی جارہی ہے، لاہور ہائیکورٹ کی روشنی میں نیب حمزہ شہباز کو گرفتار نہیں کرسکتی، نیب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر سپریم کورٹ گئی ہے لیکن عدالتِ عظمیٰ نے اس پر کوئی فیصلہ نہیں دیا، سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کو اپنی منشا کے مطابق استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے گزشتہ روز سرعام کہا کہ وہ ساری اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالنے آئے ہیں،ان کی کارکردگی آج سب کے سامنے ہے، جان بوجھ کر اپنی نالائقی سے نظر ہٹانے کے لیے یہ سب کیا جارہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں ہے، سب کو جیلوں میں ڈالنے کے لیے ریاستی دہشتگردی کی جارہی ہے۔لیگی ترجمان نے کہا کہ عمران خان نیب کو ریاستی دہشتگردی کیلئے استعمال کررہے ہیں، پہلے کنٹینر پر چڑھ کر ریاست کو دھمکاتے رہے اور آج کرسی پر آکر اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالنے کے لیے ریاست کو استعمال کررہے ہیں،عمران خان جان بوجھ کر عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے یہ سب کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب اگر آزاد ہوتی تو اس کی ترجمانی وزیراعظم عمران خان، فواد چوہدری اور شہباز گل نہیں کررہے ہوتے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ حمزہ شہباز کے گارڈ نے کون سی دہشتگردی کی اور تشدد کیا یہ بھی میڈیا کو بتایا جائے۔انہوں نے 9 اپریل کو نیب کی جانب سے پیشی کا نوٹس موصول ہونے کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہبازاپنی بیمار بیٹی کو چھوڑ کر واپس آئے اور نیب کے سامنے پیش ہوئے،یہ اس شخص کے ساتھ ہوا جو ہر پیشی پر آیا اور تعاون کیا، اگر انکوائری کے دوران کسی کو گرفتار کرنا ہے تو وزیراعظم کو گرفتار کریں، نیب نے پیشیوں کے دوران حمزہ شہباز کے سامنے منی لانڈرنگ کے ثبوت کیوں نہیں رکھے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایک آمر کی حکومت ہے، کابینہ میں مشرف کی ٹیم ہے، عمران کی ذہنیت آمرانہ ہے، چیزوں کو متنازع بنایا جارہا ہے، نیب جو ذرائع میڈیا کو دیتا ہے وہ حمزہ شہباز کے بھی سامنے رکھے، گمشدہ درخواست کو نیب ذرائع کے طور پر میڈیا کو بتاتا ہے اور لوگوں کو ٹرائل کیا جاتا ہے جب کہ ثبوت سامنے نہیں رکھے تھے وہ صرف نیب کی تجوری میں رہتے ہیں۔

حمزہ شہباز کو ان کے ہی 2ملازموں نے مشکل میں ڈال دیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حمزہ شہباز کو ان کے ہی 2ملازموں نے مشکل میں ڈال دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب کی زیر حراست 2 ملزمان قاسم قیوم اور فضل داد نے شریف خاندان کی آمدن سے زائد اثاثے بنانے میں مدد کی۔ قاسم قیوم منی چینجر کا غیر قانونی کاروبار کرتا تھا، قاسم نے غیر قانونی طور پر اکاؤنٹ میں ڈالرز اور درہم منتقل کیے۔

رقم شہباز شریف، حمزہ اور سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔دوسرا ملزم فضل داد عباسی شریف گروپ کا پرانا ملازم ہے، ملزم فضل داد سلمان شہباز کے پاس 2005ء سے کام کر رہا تھا۔ فضل داد مختلف لوگوں سے رقوم جمع کر کے قاسم قیوم کو پہنچاتا تھا اور قاسم مشکوک ٹرانزیکشنز سے رقوم شہباز خاندان کو منتقل کرتا تھا۔

معلوم ہوا ہے کہ ملزمان رقوم اپنے ملازمین کے شناختی کارڈ کے ذریعے بھجوایا کرتے تھے۔عدالت نے گزشتہ روز دونوں ملزمان کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا تھا، عدالت نے دونوں کو 19 اپریل کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ملزمان سے تحقیقات میں انکشافات پر چیئرمین نیب نے حمزہ شہباز کے وارنٹ کی منظوری دی تھی۔دریں اثنانیب کی بھاری نفری نے حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے شہبازشریف کی رہائش گاہ کا محاصرہ کرلیا۔

ہفتہ کو نجی ٹی وی کے مطابق نیب کی ٹیم نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کی ماڈل ٹائون میں واقع رہائش گاہ 96 ایچ کا دوبارہ محاصرہ کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق نیب حکام کا کہناہے کہ رہائش گاہ کا محاصرہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے سلسلے میں مارا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ نیب نے حمزہ شہباز کی آمدن سے زائد اثاثوں اور مبینہ منی لانڈرنگ میں گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا ہے۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس حمزہ شہباز کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں اور اسی بنا پر چھاپا مارا گیا ہے۔نیب حکام کا موقف ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز منی لانڈرنگ کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا تھا جن سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں حمزہ شہباز، سلیمان شہباز اور ان کی والدہ کے اکانٹس میں کروڑوں روپے کی منتقلی ہوئی، اسی سلسلے میں نیب کو حمزہ شہباز کی گرفتاری کرنا ہے۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ نیب کا موقف غلط اور بے بنیاد ہے ،نیب کا عمل غیرقانونی اور حملہ کے مترادف ہے ،جو بھی صورتحال ہوگی اس کی ذمہ دار حکومت اوروزیراعظم پر ہو گی ۔مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما رانا ثنا اللہ نے حمزہ شہباز کی گرفتاری کیلئے نیب کی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیب کا موقف غلط اور بے بنیاد ہے ،نیب کا عمل غیرقانونی اور حملہ کے مترادف ہے ،جو بھی صورتحال ہو اس کی ذمہ دار حکومت اوروزیراعظم پر ہو گی،انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن میںکوئی تنہافیصلہ نہیں کر سکتا،ن لیگ کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی آئندہ کے لائحہ عمل مرتب کرے گی ،ان کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کا موقف قانون کے مطابق ہے ،قوم کی بدقسمتی ہے کہ عمران خان ملک پر مسلط ہیں۔