عمران خان کی وارنٹ منسوخی کی درخواست خارج، ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے

جج ظفر اقبال نے عمران خان کے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست

خارج کرتے ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں۔

ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے محفوظ فیصلہ سنایا۔

ایڈیشنل سیشن جج نے ریمارکس دیے کہ میں نے تفصیلی فیصلے میں سب کچھ لکھ دیا ہے

کہ وارنٹ ہوتا کیا ہے اور کب جاری کیا جاتا ہے سب کچھ لکھ دیا ہے، مید ہے فیصلہ پڑھ کر آپ کو مزا آئے گا۔

وزیرِاعظم شہباز شریف سے جنرل ساحر شمشاد کی ملاقات، سلامتی امور پر گفتگو

وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مزرا نے ملاقات کی۔

وزیر اعظم آفس کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی

جنرل ساحر شمشاد مزرا سے ملاقات میں افواجِ پاکستان کے پیشہ وارانہ امور پر گفتگو کی گئی۔

ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال اور سلامتی سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔

حقیقی آزادی کےلئے نوجوانوں میں آج جو تڑپ ہے میں نے ہمیشہ اسی کے لئے دعا کی، عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میری جماعت قانون کی حکمرانی کے اصول پر قائم کی گئی اور ہم اپنے اس عزم و عہد پر پوری استقامت سے کاربند رہیں گے۔

اپنے ٹویٹس میں عمران خان نے کہا ہے کہ حقیقی آزادی کے حوالے سے ہمارے نوجوانوں میں موجود تڑپ ہی تو ہے جس کے لیے میں نے ہمیشہ رب العزت سے دعا کی کہ ایک روز میری قوم کو اس سے آشنا کردے.

وہ قومیں جن کے نوجوان آزادی کو اپنی زندگیوں سے بالا شمار کرتے ہیں، واقعتاً کارنامے سرانجام دیتی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ جب قانون کی حکمرانی ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا وسیلہ بنتی ہے اور وہ خود کواحساسِ کمتری سے پاک کرلیتے ہیں تو عمومی انسانوں سے کہیں اوپر اٹھ جاتے ہیں جس کی جھلک ہمیں جنابِ اقبال کے تصوّرِ شاہین میں ملتی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے نہایت ٹھوس مؤقف اپنانے پر میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا شکرگزار ہوں،

ہم آپ کی جانب سے زمان پارک میں حکام کے ہاتھوں طاقت کے بے تحاشا استعمال کی مذمّت کو بھی قدر و تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انہوں ںے مزید کہا کہ آئین اور 90 روز میں انتخابات کے انعقاد کی حمایت اور محاصرے کے ساتھ زمان پارک میں (ریاستی) قوت کے بے جا استعمال کی مذمت میں ایک متفقہ قرارداد منظور کرنے پر میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا شکر گزار ہوں.

ہم سے یکجہتی کے اظہار کے لیے زمان پارک تک پیدل مارچ کرنے والے وکلاء کا بھی میں نہایت مشکور ہوں۔

آپ میرے بغیر بھی حقیقی آزادی کےلئے جدوجہد جاری رکھیں، عمران خان کا کارکنا ن کے نام پیغام

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے قتل یا جیل میں ڈال دیا گیا تو عوام نے جدوجہد جاری رکھنی ہے۔

عمران خان نے اہم پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پولیس مجھے پکڑنے اور جیل بھیجنے کے لیے آ گئی ہے، ان کا خیال ہے عمران خان جیل چلا جائے گا تو قوم سو جائے گی،


آپ نے ان کو غلط ثابت کرنا ہے ، آپ نے ثابت کرنا ہے کہ آپ زندہ قوم اور نبیؐ کی امت ہیں، لاالااللہ کے نعرے پر بننے والی قوم ہیں

عمران خان نے کہا کہ آپ نے اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد کرنی ہے اور باہر نکلنا ہے، میں آپ کی جنگ لڑ رہا ہوں ،

مجھے کچھ ہوا یا جیل بھیجا گیا یا ماردیتے ہیں تو آپ نے ثابت کرنا ہے کہ عمران خان کے بغیر بھی یہ قوم جدوجہد کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنی ساری زندگی جنگ لڑی اور لڑتا رہوں گا،

چوروں کی بدترین غلامی اور ایک آدمی جو ملک کے فیصلے کررہا ہے، اسے کبھی قبول نہ کریں، پاکستان زندہ باد۔

خاتون جج دھمکی کیس؛ عمران خان آج پیش نہیں ہوئے تو وارنٹ جاری کردوںگا، جج

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے جج نے ریمارکس دیے کہ آج اگر عمران خان عدات نہیں آتے تو وارنٹ جاری کر دوں گا۔

عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے کیس کی سماعت ہوئی۔

سول جج رانا مجاہد رحیم کی عدالت میں عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ پیش ہوئے۔

سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر عمران خان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔

جج نے ریمارکس دیے کہ آج اگر عمران خان نہیں آتے تو وارنٹ جاری کر دوں گا،

عدالتی اوقات کے دوران عمران خان آج نا آئے تو ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دوں گا۔

عدالت نے 12:30 تک سماعت میں وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کی جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی اوقات تک انتظار کر لیتے ہیں،

اگر عمران خان آج پیش نہیں ہوتے تو وارنٹ جاری کریں گے۔

عدالت نے عمران خان کو آج عدالتی اوقات میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی عدم پیشی کی صورت میں وارنٹ جاری کریں گے۔

عمران خان کو کیس کی کاپیاں دینے کے لیے عدالت نے آج طلب کر رکھا ہے،

عمران خان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج ہے۔

پاکستان کی جو صورت حال ہے وہ زندگی میں کبھی نہیں دیکھی، شاہد خاقان

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آج جو صورت حال ہے وہ زندگی میں کبھی نہیں دیکھی کیونکہ ہر شخص پریشان ہے اور اُسے کوئی امید نظر نہیں آرہی۔

کراچی میں ری امیجنگ پاکستان مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ہر شخص سوال کررہا ہے کہ مسائل کا حل کیسے نکلے گا،

مجھے معیشت کا تو نہیں معلوم لیکن سیاست کا دیوالیہ نکل چکا ہے، یہ جو کچھ ہورہا ہے صرف اس حکومت یا پچھلی حکومت کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط فیصلوں کے تسلسل آئین شکنی کا نتیجہ ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کا نوجوان مایوس ہے اور یہ سب سے خطرناک بات ہے، ہم معیشت کو مل کر بہتر کرلیں گے مگر اس کے لیے سب کو آگے بڑھنا اور ساتھ چلنا ہوگا،

میں بھی اس نظام کا حصہ رہا 35 سال خود کو بھی ملزم سمجھتا ہوں، اس نہج پر پہنچے ہیں تو صفائی دینے کے بجائے قبول کریں سب اس میں شریک ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ’آئین اس سال 50 سال کا ہوجائے گا، کون سی شق ہے جو ہم نے نہ توڑی ہو، جتنا مفصل آئین پاکستان کا ہے کسی ملک کا نہیں، اس کے باوجود ہر وقت اس کی تشریح کرتے رہتے ہیں،

ہر آئینی عہدے کا حلف بھی آئین میں تحریر ہے۔ اس موقع پر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس حلف کی پاسداری کی ؟‘

حکومت نے توشہ خانہ کا 21 سالہ ریکارڈ ویب سائٹ پر جاری کردیا

وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002ء سے 2023ء تک کا 466 صفحات پر مشتمل ریکارڈ سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردیا۔

وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر ریکارڈ اپلوڈ کردیا۔ تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزراء اعظم، وفاقی وزراء اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں۔

ریکارڈ کے مطابق سابق صدر مملکت پرویز مشرف، سابق وزرائے اعظم شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، نوازشریف، راجہ پرویز اشرف اور عمران خان سمیت دیگر کے نام شامل ہیں جبکہ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدرعارف علوی کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی اپلوڈ کیا گیا ہے۔

وزرائے اعظم کے علاوہ وفاقی وزرا، اعلی حکام اور سرکاری ملازمین کو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ بھی پبلک کیا گیا ہے۔ کم مالیت کے بیشترتحائف وصول کنندگان نے قانون کے مطابق بغیر ادائیگی کے ہی رکھ لیے کیونکہ 2022ء میں دس ہزار روپے سے کم مالیت کے تحائف بغیر ادائیگی کے رکھنے کا قانون تھا۔

علاوہ ازیں دس ہزار سے چارلاکھ روپے تک کے تحائف پندرہ فیصد رقم کی ادائیگی کے ساتھ رکھنے کی اجازت تھی جبکہ چارلاکھ سے زائد مالیت کے تحائف صرف صدر یا حکومتی سربراہان کو رکھنے کیا اجازت تھی۔

جنرل (ر) پرویز مشرف

ریکارڈ کے مطابق 2004 میں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والے تحائف کی مالیت 65 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی گئی، دوہزارپانچ میں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والی گھڑی کی قیمت پانچ لاکھ روپے بتائی گئی۔ سابق صدر پرویز مشرف کو مختلف اوقات میں درجنوں قیمتی گھڑیاں اورجیولری بکس ملے جو انہوں نے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے رکھ لیے تھے۔

سابق صدر کی اہلیہ بیگم صہبا مشروف کو چھ اپریل 2006ء کو ساڑھے سولہ لاکھ روپے کے تحائف ملے۔ یکم اگست دوہزار سات کو بیگم صہبا مشرف کو ملنےو الے تحائف کی مالیت 34 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ تین اپریل دوہزار سات کوبیگم صہبا مشرف کو ملنے والے تحائف کی قیمت ایک کروڑ 48 روپے لگائی گئی جبکہ 31 جنوری 2007 کوجنرل پرویز مشرف کو چودہ لاکھ روپے کے تحائف ملے۔

شوکت عزیز

سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو دوہزارپانچ میں ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کی ایک گھڑی ملی جو تین لاکھ پچپن ہزارمیں نیلام ہوئی جبکہ انہوں نے سیکڑوں تحائف دس ہزار سے کم مالیت ظاہر کر کے بغیر ادائیگی رکھ لیے تھے۔

شوکت عزیز کو 27 ستمبر 2007 کو ملنے والی گھڑی کی قیمت ساڑھے تیرہ لاکھ روپے لگائی گئی، بیس دسمبر دوہزار چھ کو شوکت عزیز کو37 لاکھ 64 ہزار روپے کے تحائف ملے جو رکھ لئے گئے جبکہ 2006ء میں انہوں نے ملنے والے کئی تحائف توشہ خانہ میں دے دیے۔ اس کے علاوہ شوکت عزیز کو 2 جون 2006ء کو ساڑھے تیرہ لاکھ روپے مالیت کی گھڑی بھی ملی جبکہ 7 جنوری 2006ء کو سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو18 لاکھ روپے کے تحائف بھی ملے۔

چوبیس فروری دوہزار دس کو شوکت ترین نے بارہ لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کرائی۔

ظفر اللہ خان جمالی

سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے تحفہ میں ملنے والا خانہ کعبہ کا ماڈل وزیراعظم ہاؤس میں نصب کروایا جبکہ جنرل (ر) پرویزمشرف کی اہلیہ کو2003 میں ملنے والے ایک جیولری بکس کی قیمت 2634387 روپے لگائی گئی۔

آصف علی زرداری

ریکارڈ کے مطابق دودسمبر دوہزارآٹھ کو سابق صدرآصف علی زرداری نے پانچ لاکھ مالیت کی گھڑی ادائیگی کرکے خود رکھ لی جبکہ چھبیس جنوری2009 کو سابق صدرآصف علی زرداری کو دو بی ایم ڈبلیو گاڑیاں ملیں جن کی مالیت پانچ کروڑ 78 اور دو کروڑ 73 لاکھ تھی جبکہ ایک ٹویٹا لیکسز بھی ملی جس کی مالیت 5 کروڑ روپے تھی۔

آصف زرداری نے تینوں گاڑیاں دو کروڑ دو لاکھ روپے سے زائد ادا کر کے خود رکھ لیں۔

یوسف رضا گیلانی

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ۔ 23 دسمبر2009 کو خانہ کعبہ کے دروازے کا ماڈل تحفے میں ملا جو انہوں نے چھ ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیا جبکہ انہوں نے 21 لاکھ روپے ادائیگی کر کے جیولری باکس رکھ لیا۔

یوسف رضاگیلانی کے بھائی، بھابھی، بیٹے، بیٹی،بھانجے،مہمانوں اور ڈاکٹرنے بھی تحفہ میں ملنے والی گھڑیاں رکھ لیں۔

نواز شریف

میاں نوازشریف کو ملنے والی مرسیڈیز کار کی کل مالیت 4,255,919 روپے لگائی گئی تھی، بیس اپریل 2008 کو سابق وزیراعظم نوازشریف نے تحفہ میں ملنے والی مرسیڈیزکار 636,888 روپے ادا کر کے رکھ لی۔

شہباز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے شہباز شریف کو پندرہ جولائی 2009ء میں جتنے بھی تحائف ملے وہ انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیے۔ دس جون دوہزار دس کو سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف نے چالیس ہزار کی پینٹنگز توشہ خانہ میں جمع کروائیں۔

شاہد خاقان عباسی

ریکارڈ کے مطابق سال 2018 میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 2 کروڑپچاس لاکھ مالیت کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ اپریل 2018 میں شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبداللہ عباسی کو 55لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ اسی طرح شاہد خاقان کے ایک اور بیٹے نادر عباسی کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی جو انہوں نے 33 لاکھ 95 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

ریکارڈ کے مطابق 2018 میں وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کو 19 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ علاوہ ازیں 2018 میں وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈئیر وسیم کوبیس لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، جو انہوں نے توشہ خانہ میں 3 لاکھ 74 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان کو سال 2018 میں قیمتی تحائف موصول ہوئے۔ توشہ خانہ ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2018 میں عمران خان کو 10 کروڑ 9 لاکھ روپے کے قیمتی تحائف موصول ہوئے، جن میں 8 کروڑپچاس لاکھ کی گھڑی تھی جو 18 قیراط سونے کی بنی تھی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے ان تحائف کے 2 کروڑ 1 لاکھ 78 ہزار روپے توشہ خانہ میں جمع کرواکرتحائف رکھ لئے تھے۔

ستمبر 2018 میں سابق وزیراعظم کے چیف سیکیورٹی آفیسر رانا شعیب کو 29 لاکھ روپے کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ 27 ستمبر 2018 کو سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 73 لاکھ روپے مالیت کے تحائف موصول ہوئے جو انہوں نے توشہ خانہ میں رکھوا دیے تھے۔

صدر عارف علوی

صدر مملکت عارف علوی کو دسمبر 2018 میں 1 کروڑ 75 لاکھ روپے کی گھڑی ، قرآن پاک اور دیگر تحائف ملے ، جس میں سے انہوں نے قرآن مجید اپنے پاس رکھا اور دیگر تحائف توشہ خانہ میں جمع کرادیے۔
اسی طرح دسمبر 2018 میں خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کو بھی 8 لاکھ روپے مالیت کا ہار اور 51 لاکھ روپے مالیت کا بریسلٹ ملا جو انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیا۔

جنوری دو ہزار نو کو صدر عارف علوی کو قیمتی کلاشنکو اے کے 47 تحفے میں ملی جس کی مالیت 6 لاکھ روپے تھی، صدر مملکت نے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے اے کے فور سیون اپنے پاس رکھ لی۔

وزرات، افسران، عسکری حکام و دیگر

وزارت خارجہ کے چیف پروٹوکول آفیسر مراد جنجوعہ کو 29 جنوری 2019 کو بیس لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی، جو انہوں نے رقم ادائیگی کے بعد رکھ لی۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام کو 2005ء میں گھڑی ملی جس کی قیمت ساڑھے پانچ لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی جبکہ سولہ اگست دوہزار چھ کو جہانگیر ترین نے ملنے والا تحفہ توشہ خانہ میں جمع کروائے۔

ریکارڈ کے مطابق 7 اگست 2006ء کو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو تحائف ملے جو انہوں نے دس ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیے جبکہ مئی دوہزارچھ میں سابق وزیرخزانہ عمر ایوب نے ساڑھے چار لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں دی۔ سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق کو انتیس فروری دوہزار دس میں سات لاکھ کی گھڑی ملی جو انہوں نے توشہ خانہ میں دے دی۔

اٹھائیس دسمبر2010 کو صحافی رئوف کلاسرا نے ایک لاکھ بیس ہزار کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کروائی۔

تحریک انصاف کی لاہور میں انتخابی ریلی کل تک ملتوی

تحریک انصاف نے لاہور میں اپنی انتخابی ریلی کل تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں انتخابی ریلی کل تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا

اور کہا کہ پی ٹی آئی کارکن حکومت کے جال میں نہ پھنسیں،

صرف پی ٹی آئی پر پابندی لگائی گئی لاہور میں دیگر سرگرمیاں جاری ہیں

، زمان پارک کو کنٹینرلگا کر بند اور پولیس تعینات کردی گئی ہے۔

انہوں ںے کہا کہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب اور پولیس آٹھ مارچ کی طرح تصادم چاہتی ہے.

اس طرح کے ہتھکنڈے الیکشن روکنے کی سازش ہے، الیکشن شیڈول کا اعلان ہو چکا، کس طرح دفعہ 144 لگائی جا سکتی ہے؟

پی ٹی آئی نے لاہور میں دفعہ 144 کا نفاذ الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیا

پاکستان تحریک انصاف نے لاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیا۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر بابر اعوان نے درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کر دی

جس میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کی ریلی پر دفعہ 144 کا نفاذ غیر قانونی ہے،

الیکشن مہم تحریک انصاف کا آئینی حق ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ الیکشن کمیشن دفعہ 144 کے نفاذ کو ختم کرے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت دفعہ 144 کا نفاذ کرکے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیرا 15 کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

پنجاب حکومت پی ایس ایل میچ کو جواز بنا کر ریلی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

متن کے مطابق تحریک انصاف کی ریلی اور پی ایس ایل کے میچ کا روٹ مختلف ہے۔ تحریک انصاف کی ریلی ساڑھے پانچ بجے ختم ہوگی جبکہ پی ایس ایل کا میچ سات بجے شروع ہوگا۔

اس سے پہلے کسی شہر میں پی ایس ایل کے دوران دفعہ 144 کا نفاذ نہیں کیا گیا۔درخواست گزار کے مطابق پنجاب حکومت غیر قانونی طور پر تحریک انصاف کی الیکشن مہم کو روک رہی ہے۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کا بہانا بنا کر نگراں حکومت نے پابندی لگا دی جوکہ دو عدالتوں کی کھلی توہین ہے۔

سپریم کورٹ نے 90 دنوں میں انتخابات کا حکم دیا ہے لہٰذا الیکشن کمیشن انتخابات ممکن بنانے کے لیے اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

پہلی ریلی میں ظل شاہ کی موت ہوئی، ظل شاہ اور ارشد شریف کے موت میں ایک ہی طریقہ واردات استعمال ہوا۔

دوسری جانب، شہر میں پی ٹی آئی ریلی کو روکنے کے لیے پنجاب کی نگراں حکومت نے رینجرز کو طلب کر لیا۔

رینجرز کو کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نپٹنے کے لیے طلب کیا گیا۔ دفعہ 144 کے باعث زمان پارک اور اہم مقامات پر رینجرز تعینات کر دی جائے گی۔

ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ مال روڈ سے زمان پارک جانے والے راستے کو بند کر دیا گیا،

زمان پارک کے سامنے رش کے باعث ٹریفک جام ہونے سے ایک سائیڈ بند کی گئی ہیں۔ریلی کو روکنے کے لیے نگراں حکومت نے کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے

اور اب تک 30 سے زائد کنٹینرز پکڑ لیے ہیں۔ زمان پارک آنے والی شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا جائے گا۔

ایف آئی اے نے بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ کو گرفتار کرلیا

بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ کو ایف آئی اے نے گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے مالک شعیب شیخ کراچی سے اسلام آباد پہنچے

تو ایف آئی اے نے انہیں ایئرپورٹ سے تحویل میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق شعیب شیخ پر جج کو مبینہ رشوت دینے کا الزام ہے،

اس سے قبل ایف آئی اے نے کئی بار پیشی کیلیے نجی ٹی وی کے مالک کو پیش ہونے کا حکم دیا مگر انہوں نے نوٹسسز کی پیروی نہیں کی۔

ایف آئی اے کے متعدد نوٹس کے باوجود شعیب شیخ ایف آئی اے ہیڈ کواٹر پیش نہیں ہوئے۔