لاہور میں بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

لاہور: شہر میں بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، 10 گھنٹوں میں 291 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق صبح چار بجے سے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث لاہور شہر ڈوب گیا، شہر کی اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہوگیا۔شہر بھر کے درجن سے زائد علاقوں میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ گزشتہ سال 2022 میں لاہور میں 238 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا نے بتایا کہ اس سے قبل 2018 میں لاہور میں 288 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی، گزشتہ 30 سالوں میں لاہور میں اتنے کم وقت میں اتنی بارش نہیں ہوئی۔ ایم ڈی واسا غفران احمد کا کہنا تھا کہ بارش تھمنے کے چند گھنٹوں میں ہی تمام نشیبی علاقے کلیئر کر دیے جائیں گے، سسٹم اپنی مکمل استعداد پر نکاسی آب کو ممکن بنا رہا ہے۔ بارش کے بعد شہر کے پوش و نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کے مسائل دیکھے جا رہے ہیں جبکہ سڑکوں سے واسا کا عملہ بھی غائب ہوگیا۔

اب تک سب سے زیادہ بارش لکشمی چوک میں 290 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی۔ جیل روڈ پر 147 ملی میٹر، ایئرپورٹ پر 130 ملی میٹر، ہیڈ آفس گلبرگ میں 210، اپر مال میں 199، مغلپورہ میں 220، تاجپورہ میں 225، نشتر ٹاون میں 240، چوک نا خدا میں 205 اور جوہر ٹاؤن میں 235 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح، پانی والا تالاب میں 250، فرخ آباد میں 205، گلشن راوی میں 270، اقبال ٹاون میں 235، سمن آباد میں 169 ملی میٹر اور قرطبہ چوک میں 269 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق بارش کے دوران تین افراد کرنٹ لگنے، تین چھتیں گرنے جبکہ ایک بچہ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔ چونگی امرسدھو بازار میں عثمان نامی موٹرسائیکل سوار نوجوان کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا جبکہ لاہور:کشمیری دروازہ سرکلر روڈ نامعلوم خاتون بارش کے پانی سے گزرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئیں۔

اسی طرح پاکستان منٹ باغبانپورہ میں 17 سالہ احتشام کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا جبکہ سنی پارک ٹھوکر نیاز بیگ میں 11 سالہ محمد ولی کھیلتے ہوئے بارش کے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوا۔ ریسکیو حکام کے مطابق گجہ پیر دربار مصری شاہ میں چھت گرنے سے 3 افراد ہلاک ہوئے، جن کی شناخت5 سالہ اسد،40 سالہ نوازش علی اور40 سالہ مہوش کے نام سے ہوئی۔ ایدھی ترجمان کے مطابق مستی گیٹ ،شیرانوالہ بازار میں کرنٹ لگنے سے 65 سالہ بزرگ خاتون جاں بحق ہوئیں، جن کی فوری شناخت نہیں ہوسکی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بارش کے دوران بجلی کا تار ٹوٹنے سے نوجوان کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔
لاہور میں ہونے والی بارش کے باعث لیسکو کی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور کئی فیڈرز ٹرپ کر گئے جس کے سبب مختلف علاقے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق پانی کی نکاسی کے بعد ہی بجلی کی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔

نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے لاہور شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور بحالی کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے پانی کی جلد از جلد نکاسی کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق رات کو نو بجے ایک اور اسپیل متوقع ہے، ہماری کوشش ہے کہ اُس وقت تک پانی کی نکاسی کو ممکن بنادیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ شہر میں پانی کی نکاسی کے لیے 159 پمپس کام کررہے ہیں، اتنی بارش ہوئی ہے کہ شہر بھر سے ایک ساتھ پانی نکالنا ممکن نہیں ہے۔

لاہور کے جنرل اسپتال میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا اور مختلف وارڈز میں تین تین فٹ تک پانی جمع ہوگیا، جس کے باعث مریضوں اور طبی عملے کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اُدھر روالپنڈی ڈسٹرکٹ اسپتال میں بارش کے باعث بجلی کا طویل بریک ڈاؤن ہوا جس کی وجہ سے کئی آپریشنز ملتوی کردیے گئے۔

تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا پارٹی عہدوں سےمستعفی ہونے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ 9 مئی کے بعد رونما ہونے والے سیاسی حالات میں قیادت کی ذمہ داری نہیں نبھا سکتا اس لیے میں پارٹی کے عہدوں سے استعفیٰ دے رہا ہوں لیکن پارٹی نہیں چھوڑ رہا۔

اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ بطور سیکریٹری جنرل اور رکن کور کمیٹی پی ٹی آئی استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے جو قابل مذمت اور لمحہ فکریہ ہیں، واقعات میں ملوث افراد کے خلاف بھرپور ایکشن ہونا چاہیے۔

ساتھ ہی انہوں نے ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہزاروں بے گناہ کارکنوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں درج تھا کہ شیریں مزاری، عارف علوی، شفقت محمود اور میں ڈنڈوں سے لیس حملے کی قیادت کررہے ہیں جبکہ اس وقت میں گھر میں موجود تھا اور ٹی وی دیکھ رہا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جس وقت ٹی وی پر یہ دیکھا کہ کچھ لوگ پی ٹی وی کی بلڈنگ میں گھس رہے ہیں تو میں نے عون چوہدری کو فون ملایا جنہوں نے عمران خان سے بات کرائی اور صورتحال سے متعلق آگاہ کیا تو چیئرمین پی ٹی آئی نے اس وقت لوگوں سے اپیل کی تھی۔ اسد عمر نے کہا کہ جس نے پی ٹی وی پر حملہ کیا اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے اوپر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ہزاروں بے گناہ کارکنوں کو بھی چھوڑنا ضروری ہے کیونکہ واقعات میں چند لوگ ملوث ہوں گے، یہ تحقیقات ہونی چاہیے، فوج کی طاقت صرف بندوقوں سے نہیں قوم کے پیچھے کھڑے ہونے سے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا 3 نسلوں سے فوج کے ساتھ تعلق ہے، 15 دن جیل میں گزارے اور اس دوران بہت وقت ملا صورتحال کا جائزہ لینے کا۔

اسد عمر نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے 5 بڑے اسٹیک ہولڈز ہیں، عدلیہ میں آپس میں اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہورہا، یہ بہت خطرناک صورتحال ہے، پاکستان کا دوسرا بڑا اسٹیک ہولڈ آرمی ہے جس کے بارے میں تفصیل سے بات کرچکا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا بڑا اسٹیک ہولڈ تحریک انصاف ہے، پی ٹی آئی واحد قومی پارٹی ہے، ہزاروں کارکن جیلوں میں بند ہیں، چوتھا اسٹیک ہولڈر پی ڈی ایم جو ہماری مخالف سیاسی پارٹیوں کا اتحاد ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ اگر آج الیکشن ہوجائیں تو وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت بنے گی جبکہ سندھ میں پی ڈی ایم کی جماعتوں کی حکومت بنے گی، یہ ایک سیاسی حقیقت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی سیاست گزشتہ 13 ماہ میں انتہائی کمزور ہوچکی ہے، لیکن ان تمام اسٹیک ہولڈز کے مقابلے میں آخری اسٹیک ہولڈر ہے پاکستان کی عوام جو سب سے زیادہ طاقتور ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک عام پاکستانی مہنگائی کے باعث انتہائی تکلیف میں ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، جب تمام اسٹیک ہولڈز کے لیے صورتحال مایوس کن ہے تو اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ 13 ماہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ پاکستان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

مجھے گرفتار کیا جائے تو سب پُرامن احتجاج کریں، عمران خان

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ صبح میری اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ہوسکتی ہے، اس صورت میں سب کو پُرامن احتجاج کرنا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ٹویٹر پر اسپیس بنایا گیا جس میں عمران خان شامل ہوئے اور صارفین کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اپنے ذہن میں ڈال لو رات جب زیادہ اندھیری ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب صبح ہونے والی ہے، جو آزادی کی جنگ میں لڑ کر مرتا ہے تو وہ شہید کہلاتا ہے، میں نے اپنے معاشرے کو کبھی اتنا نیچے نہیں گرتے دیکھا، کبھی خواتین پر ایسا تشدد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب لوگوں میں خوف پھیلانے کے لیے کیا جا رہا ہے، یہ فضا بنائی جا رہی ہے کہ جب دوبارہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے تو کوئی باہر نا نکل سکے مگر میری منگل 23 مئی کو نیب میں پیشی کے موقع پر گرفتاری کا امکان ہے، ایسی صورت میں آپ سب کو پُرامن احتجاج کرنا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی آواز بلند کرنی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آئین ٹوٹ چکا ہے آئین میں واضح لکھا ہے کہ 90دن میں انتخابات ہونے چاہیے، آئین جب ٹوٹتا ہے تو جو طاقتور کرنا چاہتا ہے وہ کرتا ہے، طاقتور فیصلہ کرتا ہے کہ اس نے آئین کی کون سی شق ماننی ہے اور کون سی نہیں ماننی۔

انہوں نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ اور حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ الیکشن نہیں کروانے کیونکہ اگر الیکشن ہوئے تو انہیں اندازہ ہے کہ تحریک انصاف جیت جائے گی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’انہیں صرف کورکمانڈر ہاؤس یاد ہے کہ کورکمانڈر جلایا گیا اور اس پر بھی تحقیقات کرنے کے بجائے لوگوں کو پکڑنا شروع کردیا، کون لوگ تھے جنہوں نے کورکمانڈر کا گھر جلایا کس نے گھر کا دروازہ کھولا کوئی تحقیقات نہیں ہوئی، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طاقتور لوگ اتنے نیچے گر جائیں گے‘۔

عمران خان نے کہا کہ ہم پر یہ مشکل وقت ہے، اللہ انسان کو آزمانے کے لیے مشکلات بھیجتا ہے، اگر آج ہم ان کے خوف میں آگئے تو ساری زندگی انکی غلامی میں چلے جائیں گے، یہ انکا خوف عارضی ہے جسے یہ زیادہ دیر تک قائم نہیں کرسکتے، انکے پاس اتنی جیلیں بھی نہیں ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو اس طرح میں نے زندگی میں کبھی گرتے نہیں دیکھا، یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ فیصلہ کیا گیا کہ ڈنڈے کے زور سے سب کو سیدھا کردو۔

عمران خان نے کہا کہ ’حقیقی آزادی کا مقصد انصاف ہے، رول آف لاء قائم کرنا، جی ایچ کیوں یا کنٹونمنٹ، پرامن احتجاج کرنا بنیادی حق ہے، نوجوان قوم بناتے ہیں، سوشل میڈیا کا ایک کمال یہ ہوا ہے کہ نوجوان اصل مسئلہ سمجھ گئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس منیر کے ایک فیصلے نے ملک تباہ کر دیا، جسٹس منیر کے فیصلے بعد بار بار عدلیہ نے طاقتور کے ساتھ مل کر نظیہ ضرورت کے تحت فیصلے کرنے شروع کردیئے، 2007 میں عدلیہ بحالی تحریک شروع کی جس کے بعد عدلیہ نے آزادانہ فیصلے شروع کردیئے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ شریف خاندان نے ایک مرتبہ پھر عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، لیکن مجھے لگتا ہے عدلیہ کھڑی ہوجائے گی اور پاکستان کو اس وقت مشکل وقت سے نکالے گی، تمام ممالک نے کہا کہ پہلے اپنے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کریں۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے بہت مرتبہ ان کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن جب الیکشن کی بات کرو یہ ڈر جاتے ہیں، مجیب الرحمن نے بار بار کوشش کی یحی خان سے بات کرے لیکن وہ اس سے بات کرنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ وہ الیکشن ہونے نہیں دینا چاہتے تھے، ابھی بھی انکی کوشش ہے کہ الیکشن نا کروائے جائیں اور الیکشن تب کروائیں جائیں جب عمران خان الیکشن نا جیت سکے’۔

چیئرمین پی ٹی آٗئی نے کہا کہ آج جو بھی یہ سب کر رہا اسے سیاست کی سمجھ نہیں ہے، انکو سمجھ ہی نہیں کہ جتنا پارٹی کو دبائیں گے وہ اتنی اوپر آئے گی، انہوں نے فیصلہ کیا کہ جہاں پی ٹی آئی کارکن ملے اسے پکڑ کر جیل میں ڈال دو، میرا ماسٹر مائنڈ سے سوال کہ کیا اس طرح پارٹی کو ختم کریں گے، لیکن اب تک جتنا دبایا پارٹی اتنی ہی اوپر گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انکو اندازہ ہی نہیں پارٹی ایم پی اے اور ایم این اے کو لے جانے سے ختم نہیں ہوتی بلکہ پارٹی ووٹ بینک کے جانے سے ختم ہوتی ہے، قوم آج بھی پی ٹی آئی اور اسکے نظریے کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے‘۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ نگران حکومت بلکل آئینی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی ہوچکی ہے، انکا کام تھا الیکشن کروانا یہ نہیں کرواسکے، جب اللہ نے موقع دیا تو نگران حکومت کا حساب کتاب ہوگا، ان پر کیسسز ہونگے، 90 دن میں الیکشن نہیں کروا سکے، انہوں نے لوگ مروائے، ان پر کیسسز بنے گے اور انکو عدالتوں کے چکر لگوائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ میں اور بشرا بی بی صبح نیب جارہے ہیں، اور ممکن ہے ہمیں گرفتار کر لیا جائے، اگر ہماری گرفتاری ہوجاتی ہے تو آُپ سب کو پُرامن رہتے ہوئے احتجاج کرنا ہے۔

القادر ٹرسٹ کیس پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’میں چاہتا تھا پاکستان کے نوجوانوں سیرے نبی پڑھاؤں، میں اور بشرا بی بی القادر یونیورسٹی کے ٹرسٹی ہیں، ٹرسٹی کو کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، لندن سے آنے والے پیسوں کا معاملہ کابینہ میں رکھا تو فیصلہ ہوا کہ ہم سپریم کورٹ کے جرمانے میں اس پیسے کو ایڈجسٹ کردیں گے، کیبینٹ میں بتایا گیا کہ معروف پاکستانی اور این سی اے میں خفیہ اگریمنٹ ہوا ہے، ہم اس خفیہ ایگریمنٹ پر کیس کریں گے تو 5 سے 6 سال فیصلے کو لگ جائیں گے، اور اگر ہم کیس ہار گئے تو پیسہ پھر پاکستان کو بھی نہیں ملے گا اور پاکستان پہلے بھی این سی اے سے کیس ہار چکا ہے، لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ پیسہ ہم لیں گے‘۔

عمران خان نے کہا کہ میرے اوپر اب کیس بنایا کہ میں نے اس پیسوں کا کوئی مالی فائدہ لیا ہے، القادر یونیورسٹی کے اکاؤنٹس چیک کر لیں، اکاونٹ سب کے سامنے ہیں‘۔ چیئرمین پی ٹی آٗئی نے کہا کہ مجھے پتا ہے آپ لوگ میری سیکیورٹی کیلئے بہت فکر مند ہیں۔ میں ہر روز جب گھر سے نکلتا ہوں تو کوئی پتا نہیں ہوتا کہ زندہ واپس گھر آؤں گا یا نہیں؟ لیکن وزیرآباد واقعہ ہو یا جوڈیشل کمپلیکس میں بھی مجھے مارنے کی کوشش کی گئی تو کسی سیکیورٹی نے نہیں، اللّه اور صرف اللّه نے مجھے بچایا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اللّه نے جب مجھے لے کر جانا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے بچا نہیں سکتی اور جب اللّه نے بچانا ہے تو کوئی مجھے مار نہیں سکتا، اپنے خوف کا بت توڑ دیں۔ خوف کے آگے سر نہیں جھکنا ہوتا۔ اللّه پر توکل اور ایمان رکھ کر خوف سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آج جو لوگ پارٹی چھوڑ کر جارہے ہیں کل الیکشن میں عوام ان کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے لوگ 27سال میں کبھی توڑ پھوڑ کا حصہ نہیں بنے، کورکمانڈر کے گھر کو جلانے کے لیے انویسٹیگیشن ہوئی سب کچھ سامنے آجائے گا، پی ٹی آئی کے خلاف کورکمانڈر ہاؤس کی بنیاد پر منظم سازش کی گئی ہے۔

190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل، نیب نے عمران خان کو طلب کرلیا

اسلام آباد: نیب راولپنڈی نے عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل (القادر ٹرسٹ کیس) میں 18 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا جبکہ انہیں ایک سوال نامہ بھی بھیجا گیا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو عدالت نے حکم دیا ہوا ہے کہ جب نیب طلب کرے وہ پیش ہوں گے اور تفتیش میں تعاون کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نیب نے القادر ٹرسٹ میں 9 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اُن کے حامیوں نے ملک بھر میں ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے کر رہا کر کے ایک روز کیلیے اپنا مہمان بنایا اور پھر انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی القادر ٹرسٹ سمیت تمام مقدمات میں ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں گرفتاری سے روک دیا تھا۔

قومی اسمبلی، چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی تحریک منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے چیف جسٹس کے خلاف مس کنڈکٹ کے الزام میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ایوان نے اس معاملے میں خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے لیے تحریک کی منظوری دے دی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشریف کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی خاتون رکن اسمبلی شازیہ ثوبیہ سومرو نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس لانے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

تحریک میں کہا گیا کہ ریفرنس کو حتمی شکل دینے کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، کمیٹی میں مختلف جماعتوں کے ارکان شامل ہوں گے جن میں محسن شاہنواز، خورشید جونیجو، صلاح الدین ایوبی، شہناز بلوچ، صلاح الدین اور دیگر ارکان شامل ہیں۔
تحریک میں کہا گیا کہ کمیٹی چیف جسٹس کے سوا دیگر ججز کے مس کنڈکٹ پر بھی ریفرنس لانے کا جائزہ لے گی۔

قبل ازیں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پارلیمنٹ چیف جسٹس کے مس کنڈکٹ کا جائزہ لے، آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ججز کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے۔

خواجہ آصف نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مخصوص ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے، سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کے لیے ایوان کی کمیٹی بنائی جائے، وزیراعظم سے بھی درخواست ہے کہ لکھنوی انداز نہ اپنایا جائے، وہ زبان استعمال کی جائے جو ان کو سمجھ بھی آئے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں یہ روایت تھی کہ پرچے لیک ہوتے تھے اب فیصلے لیک ہوتے ہیں، طارق رحیم نے جو آڈیو میں بتایا عین اس کے مطابق فیصلہ ہوا، انہوں نے عدل کو مذاق بنالیا ہے آپ ایک ملزم کو کہہ رہے کہ ’’وش یو گڈ لک‘‘، آپ انصاف کرنے کے لیے بیٹھے ہوئے لوگوں کو وش کرنے یا تعویذ دھاگا دینے نہیں، اپنی کرسی کو کوئی داماد کے لیے کوئی ساس اور کوئی چاچے مامے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ آپ کو انصاف کرنا ہے، انصاف کرنا اللہ تعالیٰ کی خوبیوں میں بڑی چیز ہے، آپ عدل کا کس طرح مذاق اڑا رہے ہیں اور عدل کو رول رہے ہیں۔

انہوں کا کہنا تھا کہ تین کا جو بینچ ہے ان سے کیا عدل کی توقع کی جا سکتی ہے؟ کیا کوئی اور جج نہیں عدالت میں جس کیس کو دیکھا جائے یہ تین بیٹھے ہیں، وقت آگیا ہے کہ اس ہاؤس کے اختیارات کا استعمال کیا جائے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھجوانے کی تجویز پیش کردی اور کہا کہ اب تمام ججز بھی مجرموں کو wish You Good Luck کہیں کیوں کہ خود چیف جسٹس نے معیار قائم کیا ہے، 60 ارب روپے کی کرپشن کا واضح کیس ہے، آنکھیں بند کرکے ٹمبکٹو عدالت بھی اسے کرپٹ قرار دے گی لیکن افسوس چیف جسٹس کو یہ کرپشن نظر نہیں آئی۔

مولانا اسعد محمود نے کہا کہ ہم اس صورتحال کو جوڈیشل مارشل لاء سے تشبیہ کرتے ہیں، قوم سے وعدہ کرتے ہیں اپ کے ہر حق کا تحفظ یہ پارلیمنٹ کرے گی، میں ایسے نظام کو نہیں مانتا جو آپ کے ظلم اور جبر کو مسلسل برادشت کر رہا ہے۔

اسعد محمود نے کہا کہ تین ججز نے مردہ لاش میں روح پھونکی، یہ سیاسی مردہ روح تھا جسے بلا کر روح پھونکی گئی، اگر آپ کو سیاست میں آنے کا شوق ہے تو آؤ سیاسی میدان میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔

چند ججز کو قربان کردیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا، فضل الرحمان

اسلام آباد: جمیعت علما اسلام اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اب ملک کا ہر فیصلہ عوام کریں گے، عدالتی وقار کے لیے چند ججز کو قربان کردیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم کے احتجاج میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کا کوئی بھی فیصلہ اب سامنے والی عمارت میں نہیں ہوگا، ہم پاکستان کی عدلیہ کے وقار کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ عوام کریں گے، جانبدار جج اپنی حیثیت کو مجروح کرچکا ہے۔ معزز کرسیوں پر بیٹھنے والوں کو پارلیمنٹ اور عوام کی تذلیل کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ سیاست دان کی تذلیل ہوگی تو پھر تمھارے ہتھوڑے سے ہمارا ہتھوڑا بھاری ہے، ہمیں یہ ہتھوڑا گردی نامنظور ہے اور نہ ہی کسی بھی طریقے سے ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تمام ادارے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے فرائض انجام دیں، پاکستان کی انتظامیہ پارلیمنٹ اور وزیراعظم کے ہاتھ میں ہے، آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو اس بلڈنگ سے باہر آؤ اور میدان میں کھڑے ہوجاؤ۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں گزشتہ دنوں پُرتشدد مظاہروں پر کہا جارہا ہے کہ یہ عوام کا ردعمل ہے، دراصل تم نے چند بدمعاشوں کے جتھے کو سیاست کہہ دیا، اب آئے کوئی جتھا اور حملہ کر کے دکھائے، کدھر ہے پی ٹی آئی کا مجاہد، دہشت گرد وہ آئے اور اب حملہ کر کے دکھائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ میرے بائیں طرف پولیس کی بڑی تعداد موجود ہے، رینجرز موجود ہے، جو اس عمارت کو تحفظ فراہم کررہے ہیں، میں واضح کردوں کہ پولیس اور رینجرز ہٹ جائے ہم اس عمارت کی حفاظت کریں گے، کوئی مائی لا لعل اس عمارت کو ٹیڑھی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔

فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس عمارت کے تقدس کو بحال کریں گے اگر کسی جج نے ادارے کے تقدس کو پامال کیا تو ہمارا لڑکا اس کو برداشت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے مشاہدہ کیا تھا کہ 2018 کے الیکشن میں ننگی دھاندلی ہوئی، ہم میدان میں نکلے تو جرنیل ناراض ہوئے، جب ہم نے احتجاج کیا اور کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے تو کسی کو سوموٹو کا خیال نہیں آیا۔

قبل ازیں مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی تباہی بھی ججوں کے فیصلوں سے ہوئی ہے۔

پی ڈی ایم کے شاہراہ دستور پر دھرنے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ آج عمران خان کی سہولت کاری کرنے والوں کی بات ہوگی، قانون سازی پارلیمنٹ کا ذمہ داری ہے اس کو روکنا تمہاری ذمہ داری نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ اور آئین کا احترام کرنے والے لوگ ہیں، اس عمارت کو ایمانداری نے نہیں عمران داری نے داغدار کیا، ہم اس جگہ احتجاج نہیں کرنا چاہتے تھے، اس عمارت سے جمہوریت کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کو انجام تک پہنچانا اس عمارت کی ذمہ داری تھی، 60 ارب روپے کا ملزم جب عدالت میں پیش ہوا کہا گیا ویلکم آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، ملک کو نظریہ ضرورت نے تباہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلیاں توڑنے میں عمران خان اور پرویز الہیٰ نہیں عارف علوی بھی ملوث تھے، فتنہ اور انتشار پھیلانے والوں کو انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری عدلیہ کی تھی۔

مریم نواز نے کہا کہ اس ملک میں 4 بار جمہوریت پر شب خون مارا گیا، کیا عدالت نے کسی آمر کو گھر بھیجا؟ 4-3 کے فیصلے کو 3-2 میں بدل دیا گیا، ہم اقلیتی فیصلے کو نہیں مانتے۔

حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا، جس میں مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر سیاسی قائدین نے شرکت کی۔

حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے کارکن احتجاج اور دھرنے کے لیے صبح ہی سے وفاقی دارالحکومت کے ریڈزون میں داخل ہوکر سپریم کورٹ کے باہر احتجاج شروع کیا۔ پی ڈی ایم کارکن دروازہ پھلانگ کر ریڈزون میں داخل ہوئے اور نعرے لگاتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے باہر پہنچے، جہاں ایف سی اور پولیس اہل کاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی، اس دوران پولیس حکام کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی گئی۔

سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کے لیے آنے والے کارکنوں کو روکنے کے لیے پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری پہلے ہی الرٹ کردی گئی تھی جب کہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے شاہراہ دستور کو بھی عارضی طور پر ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

ترجمان اسلام آباد کیپٹل پولیس کی جانب سے پی ڈی ایم جماعتوں کے کارکنوں کے ریڈزون میں داخلے کی تصدیق کردی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے گیٹ پر پہنچنے والے کارکن نعرے بازی میں مصروف ہیں۔ پولیس نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خدشات موجود ہیں، لہٰذا عوام سے گزارش ہے کہ اجتماع والے مقامات سے دُور رہیں۔ ترجمان نے عوام سے تعاون کی درخواست بھی کی ہے۔

دریں اثنا پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے احتجاجی مظاہرین نے شاہراہ دستور پر اسٹیج لگا لیا ہے، جہاں کارکنوں کی بڑی تعداد نعرے بازی کررہی ہے۔

علاوہ ازیں مظاہرین نے سپریم کورٹ ججز گیٹ کے سامنے اسٹیج لگا لیا جہاں سے احتجاج میں شریک جماعتوں کے رہنما تقریر کررہے ہیں۔ احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے عمران خان کے خلاف نعرے بازی کی جا رہی ہے۔

دھرنے کے دوران سپریم کورٹ کے سامنے مظاہرین نے احتجاج کے لیے تین اسٹیج لگائے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کی جانب سے علیحدہ اسٹیجز لگا کر کارکن بھرپور احتجاج کررہے ہیں۔ اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکن کی جانب سے چیف جسٹس اور عمران خان کی تصویر والا بینر جلا دیا گیا، جب کہ کارکن کی جانب سے دونوں کی تصاویر پر جوتے بھی مارے گئے۔

قبل ازیں حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے کارکن اسلام آباد میں دھرنے کے لیے گزشتہ شب ہی مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں روانہ ہوئے تھے۔ وفاقی دارالحکومت میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کے لیے قافلوں کی صورت میں نکلنے والے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جماعتوں کے کارکنوں نے اپنی اپنی جماعتوں کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔

احتجاج کے لیے اسلام آباد جانے والے حکومتی جماعتوں کے کارکنوں نے کچھ مقامات پر احتجاجی ریلیوں کی شکل میں چیف جسٹس کے خلاف اور پاک فوج کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔ کارکنوں کو کئی مقامات پر ناشتے میں حلوہ، چنے اور نان پیش کیے گئے۔

واضح رہے کہ جے یو آئی (ف) اور حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پوری قوم سے آج سپریم کورٹ کے باہر پُرامن احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچنے کی اپیل کی تھی۔ جس پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے احتجاج میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا ہے، تاہم عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) احتجاج میں شرکت نہیں کرے گی۔

اُدھر پی ڈی ایم کے ڈی چوک پر دھرنے کے لیے جے یو آئی (ف)، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور قومی وطن پارٹی کے کارکن پشاور موٹروے ٹول پر جمع ہوئے، جہاں سے وہ اپنی اپنی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے۔ لیگی کارکن امیر مقام کی قیادت میں جب کہ جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان مولانا عطا الحق درویش کی قیادت میں وفاقی دارالحکومت میں احتجاج میں شرکت کے لیے نکلے۔

پشاور سے پیپلز پارٹی کے قافلے ضیا الحق آفریدی کی قیادت میں روانہ ہوئے۔ تمام جماعتوں کے قافلے انٹرچینجز سے دوسری جماعتوں کے قافلوں کو جوائن کرکے وفاقی دارالحکومت کی جانب بڑھے۔

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے جب کہ اہم تنصیبات اور عمارتوں کی سکیورٹی کے لیے فوج پہلے ہی تعینات ہے۔

امسال موسم گرما میں شدید بارشوں کی پیش گوئی

لاہور،موسم گرما میں معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کردی گئی ہے ، رواں سال گرمیوں میں اوسط درجہ حرارت بھی معمول یا کچھ زیادہ رہنے کی توقع کی جا رہی ہے

تفصیلات کے مطابق ملک میں موسم بہار کے دوران توقعات سے زیادہ بارشوں کے بعد اب محکمہ موسمیات نے موسم گرما میں بھی معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کردی۔

ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق محکمہ موسمیات نے موسم گرما کے دوران اوسط درجہ حرارت بھی معمول یا کچھ زیادہ رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب ملک میں رواں سال میں معمول سے زیادہ بارشوں کی وجہ سے کئی علاقوں میں موسم تاحال سرد ہے، جبکہ کئی ایسے میدانی علاقے جہاں اپریل میں موسم گرم ہونا شروع ہو جاتا ہے، وہاں بھی موسم تاحال خوشگوار ہے۔

جبکہ اب ملک کے کئی علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بالائی خیبر پختونخوا، پنجاب، کشمیر اورگلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیزہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

جبکہ ملک کے میدانی علاقوں میں غیر متوقع بارشوں کی وجہ سے گندم کی فصل کو نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ خاص کر پنجاب کے کئی اضلاع میں گزشتہ کئی روز سے جاری بارشوں اور ژالہ باری کے باعث گندم کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے

ابتدائی اندازوں کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں حالیہ شدید بارش اور ژالہ باری سے 5 سے 6 فیصد گندم کی فصل نقصان ہوئی ہے جس کی مالیت تقریباً23 ارب روپے ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق کئی اضلاع میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بارش اور ژالہ باری ہوتی رہی ہے جس کے نتیجے میں پودے جڑ سے اکھڑ گئے اور تقریباً 50 فیصد کھڑی فصلیں بیٹھ گئیں، جبکہ کسانوں نے اندازہ لگایا کہ ہے بیٹھ جانے والی فصل 70 فیصد تک ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 30 مارچ 2023 تک ہونے والی بارشوں میں ایک کروڑ 60 لاکھ 14 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی گندم میں سے 8 لاکھ ایکڑ پر جزوی نقصان ہوا ہے اور 30 ہزار ایکڑ پر مکمل پر تباہی ہوئی ہے۔

پنجاب کروپ رپورٹنگ سروس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالقیوم کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والے علاقوں میں شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب کے اضلاع ہیں جہاں فصلوں کے نقصان کا اندازہ تقریباً 40 فیصد لگایا گیا ہے

جس کے بعد مظفر گڑھ میں 14.8 فیصد، ساہیوال میں 14 فیصد، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 12.9 فیصد، اوکاڑہ میں 12.5 فیصد بھکر میں 10.5 فیصد، پاکپتن میں 10.2 فیصد جبکہ پانچ اضلاع میں نقصان 10 فیصد سے کم ہوا ہے اور دیگر علاقوں میں غیرمعمولی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔

جائزے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں 20 فیصد پیداوار جزوی طور پر تباہ ہوئی ہے جہاں معمولی حالات میں فی ایکڑ سے اوسطاً31 من سے 24 من پیداوار ہوتی ہے اور یوں دستیاب اعداد و

پاکستان بھکاری نہیں، آئی ایم ایف اورعالمی بینک کا معززرکن ہے: اسحاق ڈار

اسلام آباد:وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے کہنے پر میں نے دورہ امریکا ملتوی کیا، پاکستان آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا ممبر ہے کوئی بھکاری نہیں ہے۔

اسلام آباد سے جاری ویڈیو بیان میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وزارت خزانہ کی اہم ذمہ داری پیسوں کے حوالے سے ہے، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے دینے کا کہا ہے،

سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو رقم فراہم کرنے کے لیے 10 اپریل کی مہلت دی گئی ہے، عدالت نے الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت بھی دی کہ 11 اپریل تک پیشرفت سے آگاہ کیا جائے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ آج سحری سے پہلے روانہ ہوکر کل امریکا پہنچنا تھا، پرسوں سے ورلڈ بینک سے اسپرنگ میٹنگ میں شرکت کرنی تھی لیکن آئی ایم ایف اجلاس سے متعلق میڈیا پر قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، آئی ایم ایف کی اپریل میں اسپرنگز اور سالانہ میٹنگز ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئینی بحران کی کیفیت ہے، بحیثیت قوم ہم ایک بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں، وزیراعظم کے کہنے پر میں نے دورہ امریکا ملتوی کر دیا ہے

ملکی حالات کے پیش نظر واشنگٹن میں میٹنگز میں ورچوئل شرکت کروں گا۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا اہم قومی معاملات پر لوز ٹاک اور لوز تجزیہ مناسب نہیں ہے،

ان کا کہنا تھا مشکل معاشی حالات کے باوجود کوئی ایک بھی بین الاقوامی ادائیگی ایک منٹ بھی لیٹ نہیں کی، پاکستان نے 11 ارب ڈالر کی عالمی ادائیگیاں کی ہیں ،

آئی ایم ایف کی جتنی استفسارات آئیں سب کا تسلی بخش جواب دیا ہے، آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہونے والا ہے،

ایک دوست ملک آئی ایم ایف کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کی تصدیق کر چکا ہے اور ایک دوست ملک کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی تصدیق کا انتظار ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا 2017 میں مسلم لیگ ن نے پاکستان کو 24 ویں معیشت بنا دیا تھا لیکن پچھلی حکومت نے پاکستان کو 24 ویں معیشت سے 47ویں معیشت بنا دیا، پاکستان اس بھنور سے

الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار،پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشن کے التوا سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 8 اکتوبر کو الیکشن کرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے قرآن کی آیت سے ابتدائی فیصلہ سنانےکا آغاز کیا۔

فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کا 8 اکتوبر کو انتخابات کرانےکا حکم غیر آئینی قرار دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیا جاتا ہے، صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، آئین وقانون انتخابات کی تاریخ ملتوی کرنےکا اختیارنہیں دیتا، 22 مارچ کوالیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا تب انتخابی عمل پانچویں مرحلے پر تھا، الیکشن کمیشن کے آرڈر کے باعث 13 دن ضائع ہو گئے، الیکشن کمیشن نے غیر آئینی فیصلہ کیا۔

الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ دیکر دائرہ اختیار سے تجاوزکیا: فیصلہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کی 8 اکتوبر کی تاریخ دے کر دائرہ اختیار سے تجاوزکیا،

30 اپریل سے 15 مئی کے درمیان صوبائی انتخابات کرائے جائیں،

ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف اپیلیں جمع کرانےکی آخری تاریخ 10اپریل ہوگی، 17 اپریل کو الیکشن ٹریبونل اپیلوں پر فیصلہ کرےگا۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر پنجاب اور کےپی کے انتخابات میں تاخیر کے مقدمے کا فیصلہ 6 سماعتوں کے بعد گزشتہ روز محفوظ کیا تھا۔

آج وزارت دفاع کی جانب سے سربمہر لفافے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی، رپورٹ میں انتخابات کے لیے فوج کی عدم دستیابی کی وجوہات بیان کی گئیں۔

کیس کی پہلی تین سماعتیں پانچ رکنی بینچ نے کیں، جسٹس امین الدین نے چوتھی اور جسٹس جمال مندوخیل نے پانچویں سماعت پر کیس سننے سے معذرت کی، جس کے بعد 31 مارچ اور 3 اپریل کو چیف جسٹس پاکستان، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

آخری سماعت میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت کا پیغام ہے اب بھی وقت ہے مل بیٹھ کر معاملات کا سیاسی حل نکالیں، پاکستانی قوم کی خاطرسیاسی ڈائیلاگ کریں اورکسی سیاسی نتیجے پرپہنچیں،

سیاسی ڈائیلاگ نہیں ہوتے تو آئینی مشینری موجود ہے، الزامات لگائے جارہے ہیں کیوں کہ ہرکوئی صرف سیاسی مفادات کو پورا کرنا چاہتا ہے، ایسا نہ ہو کہ دوسرا کوئی غیرضروری معاملہ شروع ہوجائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ اپنے ججز بھی خود چننا چاہتے ہیں؟ یہ کبھی نہیں ہوا کہ اپنے مقدمات سننے کے لیے ججزخود منتخب کیے گئے ہوں، ہمیں تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ہے، پارلیمنٹ اور حکومت کا بہت احترام ہے، انتخابات ایک ساتھ ہونےکا آئیڈیا زبردست ہے،

اس کیس میں دو اسمبلیاں تحلیل ہوچکی ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے یقین دہانی چاہیے ہوگی، ملک میں کوئی سیاسی ڈائیلاگ نہیں ہو رہا، سارا بوجھ وفاقی حکومت پر ہے، وزارت دفاع اور وزارت خزانہ کی پیش کی گئی وجوہات بھی دیکھیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کی کافی رقم خرچ ہوچکی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ کو اس حوالے سے وضاحت دینا ہوگی، تاہم عوام کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے، الیکشن میں بدمزگی ہوئی تو ملبہ عدالت پر آئےگا،

سیاسی مذاکرات کا آپشن اسی لیے دیا گیا تھا، آئین واضح ہےکہ الیکشن کب ہونے ہیں، مذاکرات کے آپشن کا کوئی جواب نہیں آیا۔