سفارش پر تقرریاں،پولیس قیادت کی کمان کمزور پڑ گئی

پنجاب کی نگران حکومت میں سیاسی سفارشوں سے تقرریوں اور تبادلوں کاوہ طوفان برپا ہے کہ پولیس کا محکمہ مکمل تباہی اور بربادی کا نمونہ بن کے رہ گیا ہے، سیاسی سفارشوں پرتبادلوں کے باعث پولیس محض سیاستدانوں کی خوشنودی میں مصروف ہو کے رہ گئی ہے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہی، حالیہ چند ہفتوں میںصوبے بھر میں مرحلہ وار تعینات کئے گئے ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز سینئر پولیس افسران کی بجائیان سیاسی ناخدائوں کی خدمت کو اپنا اولین مقصد بنایا ہو ا ہے جنہوں نیانکی تقرری سے محض دودن پہلے فون کالز کر کے انہیں تعیناتیوں کی نوید سنائی تھی، ان میں سے بیشتر ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کے CDRڈیٹا چیک کئے جائیں توباآسانی ثابت ہو جائے گا کہ کس کا کس سیاسی آقا سے مسلسل رابطہ ہے، سیاسی سفارشوں کے حالیہ طوفان کانتیجہ یہ ہے کہ آئی جی پنجاب سمیت ڈی پی اوز، سی پی اوز کی ماتحت افسران پر کمان کمزور ہو چکی ہیاور وہ بے بسی سے عوام کی نہ صرف جمع پونجیاں بلکہ حوا کی بیٹیوں کی عصمتیںلٹتے ہوئے دیکھنے پر مجبور ہیں، سینئر افسران کے وعظ نصیحتیں اور ماتحتوں کے ساتھ سرکھپائی رائیگاں جارہی ہے، قانون کی عملداری مذاق بن گئی ہے ایک طرف گوجرانوالہ کے نواحی علاقوں میں ڈکیتیوں اور عصمت دری کے واقعات رکنے کانام نہیں لے رہے دوسری جانب نوشہرہ ورکاں،واہنڈو، فیروزوالا جیسے علاقوں میں اسلحہ سے بھری گاڑیوں کی کھلے عام آمدورفت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے چیلنج بنی ہوئی ہے، سیاسی لوگوں کی کاسہ لیسی کے باعث پولیس جرائم کو روکنے کی جانب کو ئی توجہ نہیں دے پارہی، چند کروڑ پتیوںکو انکا مال لوٹانے کو عام آدمی کی جان و مال کے تحفظ کانام نہیں دیا جاسکتا، سول انٹیلی جنس ادارے جو جرائم پیشہ عناصر کا پتہ لگانے اور انہیں جڑ سے اکھاڑدینے کے کام میں بنیادی کردار دا کرتے ہیں انہیں ٹکٹ ہولڈرز اور دیگر الیکشن لڑنے کے خواہشمندعوامی خادموں کی مقبولیت کے سروے کرنے پر لگا دیا گیا ہے، سفید کپڑوں والوں کی جانب سے منشیات فروشی کی صدقہ اطلاعات بھی آرہی ہیں،گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران میں متنازعہ ساکھ رکھنے والی بعض شخصیات کی تقرریاں تباہی کی اینٹ ثابت ہوئی ہیں وہ افسران جو بدعنوانی کے الزامات میں ملک سے باہر مقیم رہے ہوں انہیں واپس لا کرمحکمے کی کمان دے دینا مضحکہ خیز ہے، یہی وجہ ہے جرائم پیشہ عناصر کو جیسیکھلی چھوٹ مل گئی ہے اور پولیس عوامی دبائو کو کم کرنے کے لئے فرسودہ پولیسینگ پر لوٹ آئی ہے، گوجرانوالہ میںڈکیتی کے بعد عصمت دری کے مسلسل واقعات نے پولیس کی جعلی کارکردگی کا پول کھول کے رکھ دیا ہے چنانچہ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے اگلے ہی دن مبینہ ملزمان کی اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاکت والاروایتی اور کمزور سکرپٹ دوبارہ نکال لیا ہے، پولیس نے بندے پکڑے خود ہی جزا اور سزا کا فیصلہ کیا مقابلے میںپار کر دیئے اورسارے ضلع میں ہونے والی وارداتیں انہی کے نامہ ء اعمال میں لکھ دیں اور خوب داد بھی صول کی،یہ اس تباہ حال معاشرے کی تصویر ہے جہاں قانون کی عملداری کا جنازہ نکل چکا ہے، بہت سے مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کی طرح اس حالیہ کہانی کا سکرپٹ بھی انتہائی کمزور ہے ایسے وقت میں جب دنیا سوشل میڈیا کے انقلاب کے ثمرات سمیٹ رہی اور معلومات اور اطلاعات تک رسائی کی رفتار ناقابل یقین حدوں کو چھو رہی ہے ہماری پولیس ابھی تک اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاکت والی کہانی سے آگے نہیں جاسکی، پولیس نے بغیر تفتیش مکمل کئے، بغیر کسی فرانزک لیب سے رپورٹس کرائے اور بغیر کسی عدالت میں کوئی چالان پیش کئے لوگوں کو محض الزام لگا کر پھڑکانا ہی ہے تو پھرعدالتیں بند کردی جائیں البتہ کہانیوں میں تھوڑا بہت حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے پولیس کو چاہئے کہ کسی پروفیشنل لکھاری کی خدمات ہی حاصل کر لے جو کم ازکم ان کہانیوں کو ڈھنگ سے لکھ تو سکیں، حالیہ کہانی میں ایک گھر میں واردات کر کے دوبارہ انہی لوگوں کے ساتھ ڈکیتی بلکہ عصمت دری کا واقعہ منسوب کر کے ایک کامیڈی کی سی صورتحال پیدا کر دی ہیجبکہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جس دن دوسری ایف آئی آر درج کی گئی اور اسے وائرل کرایا گیا ہلاک کئے گئے تینوں ملزمان پولیس کے زیر حراست تھے، پھر کیسے دوسری بار اسی جگہ واردات کے لئے چلے گئے، مذکورہ ملزمان بااثر بھی نہ تھے چنگڑ برادری کے ان غریب نوجوانوں میں دو سگے بھائی تھے جنہیں سزا دلوانا یا ان کی مکمل تفتیش کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے تھی لیکن انہیں گرفتاری کے اگلے ہی دن مبینہ پولیس مقابلے میں پار کر دیا گیا،پولیس کی جانب سے کمزور مئوقف کاعالم یہ ہے کہ اس پر پریس کانفرنس سے بھی گریز کیا گیا اس حوالے سے بعض ذرائع نے نہایت اہم معلومات دی ہیں کہ دوسری واردات کی کہانی امن و امان کی خراب صورت حال اور جرم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لئے گھڑ ی گئی تاکہ ملزمان کی ہلاکت کے بعد زیادہ سے زیادہ نمبر ٹانکے جاسکیںاس حوالے سیبعض سابق پروفیشنل افسران کا کہنا ہے کہ ایک جگہ سنگین واردات کرنے کے بعد ملزمان کا فوری طور پر دوبارہ اسی جگہ رخ کرنا غیر معمولی اور ناقابل یقین ہے، سوال یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے تمام وارداتوں کے ملزمان قرار دئیے گئے ان مبینہ ڈاکوئوںکے لئے اس ایک واردات کے بعد ضلع کم ہو گیا تھا یا مزید وارداتوں کے لئیآبادی کم پڑ گئی تھی، واقفان حال کایہ کہنا ہے کہ پہلی و اردات کے بعدجب مبینہ ملزمان زیر حراست تھے تو دوسری واردات کی کہانی پولیس کیکسی جعلی دانشور نے معاملے کومزید سنگین بنانے کے لئے گھڑی تھی، پولیس کی یہ چتر چالاکیاں نئی نہیں ہیں، یہ فرضی اور جعلی کہانیاں نہ جانے کتنے لوگوں کی زندگیاں برباد کر دیتی اور کتنے گھروں کے چراغ گل کردیتی ہیں پولیس والوں کو احساس نہیں کہ وہ ایف آئی آر نہیں لکھتے بلکہ جیتے جاگتے انسانوں کے مقدر سے کھیل رہے ہوتے ہیں، مبینہ طور پر زیر حراست ملزمان کو پار کرنا یہ بتاتا ہے کہ اگر چنگڑ برادری کے انتہائی کمزور پس منظر رکھنے والوں کو بھی عدالت سے نہیں دلائی جاسکتی تو پھر کسی طاقتور وڈیرے سیاستدان یا کسی امیر زادے کو تو قانون کے شکنجے میں لانا ناممکن ہی ہے پنجاب کے اعلیٰ پولیس افسران کو حالیہ جعلی پولیس مقابلے کی اعلیٰ سطحی تفتیش کرانی چاہئے اور ذمہ داران سے پوچھنا چاہئے کہ دوسری داردات کی ایف آئی آر درج کر کے فوری طور پر اسکی کاپی وائرل کرانے کے کیا مقاصد تھے، پولیس نے سارے ضلع کی وارداتیں ان ہی ملزمان پر ڈالی ہیں ضلع کے کئی تھانوں میں ہونے والی وارداتوں کی صرف ایک دن میں اتنی سرعت سے تفتیش کیسے مکمل کر لی، کیا ملزمان کا کوئی ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا، کیا ضلع بھر میں عصمت دری کی شکار خواتین کو ملزمان کی شناخت کے لئے بلانے کی زحمت کی گئی، یہاں تو یہ بھی اطلاع ہے کہ کہانی کو ڈرامائی تشکیل کے لئے مدعیان کو غائب کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیاتھا، پولیس نے قانون، جزا سزامرنے مارنے کے سب اختیارات اپنی مٹھی میں بند کر لئے ہیں،اندریں حالات مجھے کہنے دیجئے کہ پولیس محض کمزوروں کو دبانے کا ایک بدمعاش ا دارہ ہے جسکی سیاسی آقائوں،طاقتوروں اور رسہ گیروں کے سامنے چوں تک کرنے کی ہمت نہیں ہوتی، عوام کی نظروں میں اس کی اوقات اتنی رہ گئی ہے کہ گوجرانوالہ میں سی پی او کی جی ٹی روڈ پر موجودگی میں سر عام پتنگیں اڑائی جاتی رہیں، وکلاء کے طاقتور گروپ نے تھانے میں جا کر جس طرح اپنے ملزما ن چھڑوائے اور ایک اعلیٰ افسر نے مبینہ طور پرایس ایچ او کو وکلا کے سامنے ملزم کی طرح پیش کرنے اور اسکی معطلی کا وعدہ بھی کیا۔۔ یہ ڈوب مرنے کامقام ہے، پولیس کا قانون صرف غریب کو دبانے کے لئے رہ گیا ہے بدمعاشوں، لفنگوں، قبضہ و پریشر گروپوں نے تو اپنی متوازی حکومتیں قائم ہیں پولیس ان بدمعاشوں کے احکامات پر سارا دن لین دین کراتی ہے جس سے معاشرے مین یہ ناسور معزز بن کے بیٹھ جاتے ہیںمگر غریب کو کہہ دیا جاتا ہے کہ لین دین پولیس کا کام نہیں،کروڑوں غریب عوام غلاموں سے بدتر زندگی بسر کر رہے ہیں اورظلم یہ ہے کہ صاحبان اقتدار انہی غریب عوام کے نام پر اپنی سیاست حکومت اور افسرشاہی قائم رکھے ہوئے ہیں، پولیس کہتی ہے جیسا معاشرہ ہے ویسی ہی پولیس ہے، منہ بند کریں۔۔ایساہر گز نہیں۔۔ معاشرے میں جرائم ہیں تو انہیں روکنے کے لئے پولیس کی ضرورت ہے اگر ہر طرف امن و آشتی ہو تو پھر آپکی توندیں بھرنے کے لئے عوام کے خون پسینے کی کمائی بہانے کی ضرورت ہی کیا ہے

ملکی ماحولیات شدید خطرے میں

کورونا اور ماحولیات کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو فنڈز دیے جائیں، عالمی معیشت اس وقت تک مکمل بحال نہیں ہوگی، جب تک تمام ممالک پائیدار ترقیاقی مقاصد اورماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں کرتے۔ دنیا کو درپیش سہ جہتی چیلنج سے نمٹنے کے لیے اپنے وژن کو اجاگر کیا ہے، جس میں کورونا وبا، اقتصادی ترقی کی بحالی اور ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والا خطرہ شامل ہے،جبکہ وزیراعظم پاکستان اقوام عالم کو روڈ میپ دے چکے ہیں، جس پر عمل کرکے پسماندہ اور ترقی پذیرممالک کے مسائل کا حل باآسانی نکالا جاسکتا ہے۔ ہم اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان اور اس کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو تین ہزار آٹھ سو ملین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اسی وجہ سے سب سے زیادہ اقتصادی نقصانات اٹھانے والے ملکوں میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کئی طرح کی قدرتی آفات کی وجہ بننے والے انتہائی نوعیت کے موسمی حالات زمین پر انسانی آبادی کو براہ راست متاثر کرتے ہیں، تاہم اس بارے میں نئے اعداد و شمار بہت حیران کن بھی ہیں اور پریشان کن بھی۔اسی تناظر میں کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں قدرتی آفات کے باعث پاکستان میں 10ہزار اموات ہوئیں اور پاکستان میں ترقیاتی اہداف کو موسمیاتی تبدیلیوں سے خطرات کا سامنا ہے۔ غربت کا خاتمہ پاکستان کی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے، تعلیم، معیشت اور برابری ترقی کے لیے اہم ہے۔ یواین او کے سیکریٹری جنرل نے واضح الفاظ میں پاکستان کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا ہے۔ اسی موقف کی تائید اور مزید پرکھنے کے لیے ہم اس رپورٹ پر نظر ڈالتے ہیں جوکہ عالمی ادارے جرمن واچ نے جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ان ممالک میں شمار کیا گیا ہے، جو ماحولیات سے بری طرح متاثر ہیں۔’گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس 2020کے مطابق 1999سے لے کر 2018 تک کے بیس برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں سے جو ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے، پاکستان ان میں پانچویں نمبر پر ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پالیسیاں تشکیل دے کر ان پر عمل درآمد کررہے ہیں جب کہ ہمارے یہاں ماحولیاتی حوالے سے ماضی کی غیر دانشمندانہ پالیسیوں نے ملک میں اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، اگر ہم مرحلہ وار چند اہم ترین نکات کا جائزہ لیں تو صورتحال کا حقیقی منظر نامہ ہمارے سامنے آسکتا ہے جیسا کہ عالمی حدت کی وجہ سے ملک کے شمال میں پگھلتے ہوئے گلیشیئر ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ پاکستان کو اس وقت چار بڑے خطرات کا سامنا ہے، گلیشیئرز کا پگھلنا، کوئلے کا استعمال، اسموگ اور خشک سالی۔ کئی ساحلی علاقوں سے نقل مکانی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ اوماڑہ، پسنی، بدین، ٹھٹھہ، سجاول اور گوادر سمیت کئی علاقوں سے نقل مکانی ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی علاقے خشک سالی کے شکار بھی ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق پاکستان کے تقریباً پچیس فیصد رقبے پر جنگلات ہونے چاہئیں، لیکن ہمارے ملک میں پہلے ہی جنگلات صرف سات سے آٹھ فیصد رقبے پر تھے لیکن یہ رقبہ اب تین فیصد مزید کم ہو گیا ہے۔سندھ میں دو لاکھ ستر ہزار ہیکٹرز پر مشتمل ساحلی جنگلات اب ستر ہزار ہیکٹرز تک آ گئے ہیں۔
کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کا جنوبی حصہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ماحولیات کو نقصان پہنچانے والی ضرر رسا گیسیں خارج کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 135 واں نمبر ہے، تاہم متاثرہ ممالک میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے، یہ تمام عوامل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ اگر ہم وفاقی حکومت کے اقدامات کا جائزہ لیں تو ماحولیات کے درپیش چیلنجزسے نمٹنے کے لیے قومی خزانے سے 120 ملین ڈالر کی لاگت کے ساتھ ’بلین ٹری سونامی‘ منصوبے کے تحت ایک ارب درخت لگانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حکومت نے آیندہ پانچ سالوں کے دوران ملک بھر میں مزید دس ارب درخت لگانے کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے قریب ایک ارب امریکی ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے، حکومت پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ’ری چارج پاکستان‘ کے نام سے ایک پراجیکٹ متعارف کروا رہی ہے۔اس منصوبے کے ذریعے سیلاب کے پانی کو ملک کی مختلف جھیلوں میں محفوظ کیا جائے گا، کیونکہ پاکستان میں پانی کی قلت سے زیادہ ’واٹر مینجمنٹ‘ کا مسئلہ ہے کیونکہ پاکستان میں صرف نو فیصد سیلاب کا پانی محفوظ کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان ملک میں مزید ڈیم بنانے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں،کیونکہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے خبردار کیا ہے کہ 2025تک پاکستان میں پانی کی قلت ایک بحران کی شکل اختیار کرلے گی۔ کراچی میں 1945 میں آخری مرتبہ سونامی آیا تھا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق بحرہند میں کسی بڑے زلزلے کی صورت میں سونامی کی لہریں ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں کراچی پہنچ سکتی ہیں اور یہ پورے شہر کو لے ڈوبیں گی۔پاکستان میں آخری سیلابی ریلوں نے ساڑھے اڑتیس ہزار اسکوائر کلومیٹر رقبے کو متاثر کیا تھا اور اس کے مالی نقصانات کا تخمینہ دس بلین ڈالر تھا۔ کراچی میں چار برس قبل آنے والی ’ہیٹ ویو‘ یا شدید گرمی کی لہر نے بارہ سو افراد کو لقمہ اجل بنا دیا۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسے واقعات قدرتی آفات میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ ملک میں عید قرباں کی آمد ہے اور اس کے ساتھ ہی کورونا کی چوتھی لہر آنے کے خدشات نے سراٹھانا شروع کردیا ہے، خطرناک لہر سے بچاؤ کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں تو اقدامات اٹھا رہی ہیں، لیکن عوام کا چلن اور رویہ انتہائی منفی ہے، ان سطور کے ذریعے عوام سے درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی جانوں کے تحفظ کی خاطر کورونا ایس اوپیز پر عمل کرکے ملک کے باشعور باشندے ہونے کا ثبوت دیں، اسی طرز عمل کو اختیار کرنے میں پوری قوم کی فلاح کا راز پوشیدہ ہے۔یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری صورتحال سے پاکستان کیسے بچ سکتا ہے؟موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے پاکستان کو سالانہ بنیادوں پر سات سے چودہ بلین ڈالر درکار ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ فنڈز کہاں سے ملیں گے؟ سینیٹ نے پچھلے سال ایک پالیسی کی منظوری البتہ دے دی تھی، جس کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے ایک اتھارٹی قائم کی جانی ہے۔ 2015 میں طے ہونے والے پیرس کے معاہدے میں پاکستان نے 2030 تک ”گرین ہاؤس“ گیسوں کے اخراج میں تیس فیصد کمی لانے کا ہدف مقرر کیا تھا، اس پر تقریباً چالیس بلین ڈالر کے اخراجات آئیں گے، لیکن اہداف تاحال حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ حکومتی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی جگہ الیکٹرک کاریں درآمد کرنے کا فیصلہ بھی بہت بہتر ہے، لیکن ان کے علاوہ بھی حکومت کو بہت سارے اقدامات کرنے ہوں گے۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کرنے کی مہم چلانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ان سطور کے ذریعے توقع کی جاسکتی ہے کہ حکومت اس ضمن میں ایک واضح پالیسی تشکیل دے کر اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرے گی۔

اسٹیٹ آف دی یونین خطاب – بابر ستار

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

اللہ کا انعام، پاکستان – حافظ سعید

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

بدل گیا جے پاکستان – بابر اعوان

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

خیراندیش بنام شہباز شریف – آفتاب اقبال

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

میڈیا اور جنگی جنون – حامد میر

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

تم غدار ہو ! – ڈاکٹر عامر لیاقت

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

ڈینگی، ورلڈ ہارٹ ڈے اور پولیس کا دربار – واصف ناگی

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

جنگ کا خطرہ اور مودی کے خدمت گار – سلیم صافی

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔