صحافت کی آبرو تھا وہ

شاہد مشتاق
چاروں طرف لہلہاتے سرسبز کھیتوں میں گھرے گاوں بیگوالہ( سمبڑیال) میں ایک ڈیرہ ہے جس کی بیرونی دیوار پہ ایک پیارے سے نوجوان کی تصویر بنی ہوئی ہے، جس کے ساتھ میرے ہی چند خراج عقیدت بھرے اشعار لکھے ہوئے ہیں ، کبھی اس ڈیرے میں صحافت کی آبرو شہید ذیشان اشرف کے قہقہے گونجتے تھے ۔
یہ خوش اندام و خوش خصال نوجوان چھوٹی سی عمرمیں صحافت کے خارزارمیں اترا اور پھر سب کا اعتماد حاصل کرکے پریس کلب سمبڑیال کا چئرمین منتخب ہوگیا۔ اس کے حسن اخلاق اور پاکیزہ اطوار نے نا صرف سینئر صحافیوں بلکہ نوجوانوں کو بھی اس کا گرویدہ کردیا ، یہ تھا ہی ایسا کہ جو ایک بار اس سے ملتا اسی کا ہوکہ رہ جاتا۔
پھر27مارچ2018 کا دن آتاہے ، ذیشان اشرف بٹ اپنی صحافتی ذمہ داریاں دیانت داری اور بےخوفی سے ادا کرنے کی پاداش میں صبح دس بجے کے قریب یونین کونسل کے برآمدے میں قتل کردیاجاتاہے،حق و صداقت کی ایک آوزا ہمیشہ کے لئے بند کردی جاتی ہے ۔قاتل اسی گاوں کا یوسی چئرمین عمران اسلم چیمہ ہے ۔
اگلے دن جنازے کے بعد اراکین پریس کلب سمبڑیال ناصر ورائچ کی قیادت میں پرزور احتجاج اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے قاتلوں کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ رفتہ رفتہ پورے ملک میں کہرام مچ جاتا ہے، ہر اخبار ، ہر چینل اس واقعہ پہ رپورٹنگ کرتاہے، تمام صحافی برادری اور ان کی تنظیمیں احتجاج میں شامل ہوتی ہیں۔ پاکستان میں کالم نگاروں کی ایک بڑی تنظیم ” پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ پاکستان” جناب ناصر اقبال خان صاحب(ایڈیٹر روزنامہ الشرق ) کا “ورلڈ کالمسٹ کلب” اور ” پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ”سمیت تمام چھوٹے بڑے نظم اس اندوہناک قتل کی پرزور مزمت اور مقتول کے ورثاء کو انصاف دلانے کا مطالبہ کرتےہیں ۔ چیف جسٹس صاحب ازخود نوٹس لیتے اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرتے اور مجرموں کو فورا” گرفتار کرنے کے احکامات جاری کرتے ہیں ۔ ذیشان اشرف بٹ (سابق چئرمین پریس کلب سمبڑیال)کا قتل ایک بڑا سانحہ اور ملک کے اہم ترین کیسز میں سے شمار ہوتا ہے ، سیالکوٹ کے ہر سابق اعلی افسر اور حالیہ ڈی پی او امیرعبداللہ خان نیازی نے بھی قاتلوں کی جلد گرفتاری کے دعوے کئے ، امیر عبداللہ خان نیازی عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد مقتول کے گھر پہنچے اور انہیں یقین دلایا کہ وہ ہرممکن وسائل قاتل کی گرفتاری کے لئے استعمال کریں گے ۔ قارئین کرام ! یہ تھی اس کیس کی اب تک کی ضروری تفصیل جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ، لیکن! افسوس کا مقام یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ایکشن اور پولیس کی تمام ترمستعدی کے باوجود مرکزی ملزم ابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکا،حالیہ ڈی پی او کی کوشش سے محکمہ پولیس نے اب مجرم کی گرفتاری کے لئے پانچ لاکھ روپے کےنقد انعام کا اعلان بھی کیاہے ۔
چند ہفتے قبل جب میں مقتول کے بڑے بھائی عرفان اشرف بٹ سےسیالکوٹ نیوز کی طرف سے انٹرویوکے سلسلے میں ملاتھا ، تو وہ پولیس کے کردار سے کچھ خاص مطمئن دکھائی نہیں دیتے تھے ۔تاہم ایک سوال کا جواب دیتےہوئے انہوں نے صحافی برادری کا شکریہ اداکیا۔ حقیقت یہ ہےکہ اب تک اس کیس میں جو تھوڑی بہت پیش رفت ہوئی ہے یہ بھی صحافی برادری کی محنت کا نتیجہ ہے ۔ سیالکوٹ و سمبڑیال پریس کلبز کے عہدیداران و اراکین بالخصوص جناب ناصر وڑائچ، عنصرمحمودبٹ،اور راناجعفرحسین صاحب ودیگردوست تحسین کے حقدار ہیں کہ وہ اپنے ایک ساتھی کے ورثاء کو انصاف دلانے کی کوشش میں دن رات جتے ہوئے ہیں ۔
جناب وزیراعظم عمران خان سے
مجھ سمیت ہر صاحب قلم یہ پوچھتا ہے کہ ریاست کے چوتھے اہم ترین ستون کی آبرو شہیدذیشان اشرف کے قاتل آخر کب گرفتار کئے جائیں گے، کب اس کے والدین کو انصاف ملے گا؟ ۔

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے

تحریر :راؤ عمران سلیمان
دنیا کی تاریخ اس طرح کے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جس میں انتہائی طاقتور اور عوام میں مقبول ترین حکمرانوں کی عزت پلک جھپکتے میں ریت کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی زمانہ حال میں ایک واقعہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کا بہت مشہور ہوا جو صرف عوامی مقبولیت میں ہی نہیں بلکہ عوام کے بھاری ووٹوں سے منتخب ہوکرامریکا میں دنیا کا طاقتور ترین صدربنا،مگر پھر ایسا کیا ہوا کہ جو انہوں نے نہ صرف اپنے منصب کو کھودیا بلکہ امریکا سمیت پوری دنیا کی عوام نے انہیں بے توقیر کردیااس طرح وہ ایک طاقتور ترین شخص سے سمٹ کرایک عام اور معمولی آدمی میں بدل کررہ گیا،یعنی پھر اس کی آواز پر لوگوں نے کان دھرنا ہی بند کردیئے ۔ دوستوں یہ جو زبان اوردماغ اللہ پاک نے انسان کو دیاہے نہ اس کی اہمیت کو جس شخص بھی جانا ہے اس نے دنیا میں خوب نام بھی کمایا ہے بلکہ اسی دماغ اور زبان کے غلط استعمال نے اسی انسان کو رسوابھی بہت کیاہے ،ترکی کے صدر طیب رجب اردگان کوایک بار ایسی مصیبت نے آگھیراکہ اسے اپنے اقتداراور خود کے بچاؤ کے لیے عوام کی سخت ضرورت آن پڑی مگر اس سے پہلے کے وہ عوام سے اپنے لیے مدد طلب کرتے وہ گھر کی بالکونی سے کھڑے ہوکر دیکھتے ہیں کہ ایک انسانوں کا سمندر ان کی ہر طرح سے مدد کے لیے موجود ہے ترکی کی اسی عوام نے اس طیب رجب اردگان کے لیے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر اپنی انوکھی محبت کا اظہارکیا، اسی طیب رجب اردگان سے ترکی کی عوام نے ہر محاز پر اپنی بھرپور محبت کا اظہار کیاجن میں جوان بوڑھے اور عورتیں بھی شامل ہیں حیرت ہے کہ اسی طیب رجب اردگان سے اس ملک کے بچے بھی دلوں جان سے پیار کرتے ہیں اور ترکی کی عوام جو ایک اندازے سے 8کروڑ 19لاکھ سے زیادہ ہے ۔ایک بار ترکی کے صدر طیب رجب اردگان نے اعلان کیاکہ جو بچہ صبح سب سے پہلے اٹھ کر فجرکی نماز اداکریگا میں اسے ایک سائیکل انعام میں دونگا بڑاہی دلچسپ سا مرحلہ تھااس کی اگلی صبح ہی دنیا نے دیکھا کہ ترکی کے لاکھوں بچوں نے نماز فجر کو اداکیااورایک تاریخی جملہ امر ہوا اور یہ کوئی انوکھی بات بھی نہیں ہے حضرت بابافرید شکر گنج کی والدہ محترمہ بھی اپنے بیٹے فرید کو شکر کی لالچ دے کر نماز کی پابندبنانے کی کوشش کرچکی تھی کیونکہ بابافریدکو شکر بہت پسندتھی وہ ورزانہ جائے نماز کے نیچے شکر چھپادیتی تھی کہ اللہ نماز پڑھنے والوں کو شکر دیتاہے اور ایک روز وہ جب شکر کو رکھنا بھول گئی تو خود اللہ پاک نے شکر کو جائے نماز تک پہنچادیا اور ماں اس حالت میں پریشان کھڑی تھی کی میں فرید کو کیا جواب دونگی ،دوستوں اچھے حکمران بھی اللہ کی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی زبان اور دماغی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اس مقام تک پہنچے ہوتے ہیں جہاں تک انسان کی زبان اور ایک چھوٹے سے دماغ کی بات ہے اس سے ہم بہت سے اچھے کام بھی لیتے ہیں اور بہت سے ایسے کام بھی کربیٹھتے ہیں جس سے کبھی کبھار بہت بڑانقصان اٹھانا پڑتاہے،جس کی مثال میں اوپر امریکی صدر کے حوالے سے دے چکاہوں ، اگر آپ ایک گھرکے سربراہ ہے تو پورا گھرہی ہماری غلطیوں سے پریشان رہتاہے اور اگر آپ اس ملک کے حکمران ہے تو پھر سوال تو بنتاہے نہ کہ یہ نقصان پھر کس کواٹھانا پڑسکتاہے ۔ بس کچھ یہ ہی حال میرے پاکستان کا آجکل چل رہاہے جس کے لیڈر اسی زبان اور دماغ سے اس ملک میں بسنے والے لوگوں سے نہ جانے کیاکیا کہہ جاتے ہیں کیاکیا وعدے کرجاتے ہیں اور اسی دماغ کو بغیر استعمال کیے اس ملک کولندن اورپیرس بھی بنادیتے ہیں بے روزگاروں کو خوابوں میں نوکریاں بھی دے دیتے ہیں اور بے گھروں کوخیالی گھر بھی دے جاتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ ہمیں ابھی تک نہ ایسے لیڈر ہی مل سکیں ہیں جن کے اپنے اعمال ٹھیک ہو اورجو خود ٹھیک نہ ہو وہ بھلااپنے گھر کو کیسے ٹھیک کریگا میاں نوازشریف جب مشکل میں تھاتو ان کے لیے کونسی عوام ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئی تھی اور آصف زرداری صاحب کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے جبکہ اس ملک کے وزیراعظم جو اپنے شعبے میں اس قدر مہارت رکھتے ہیں کہ ان کا نام کرکٹ کی دنیا میں اس قدر مشہور تھا کہ میری پیدائش پر والد محترم نے میرا نام انہیں کے نام پررکھا تھا وہ اسی مقبولیت اور اپنی محنتوں سے اس ملک کے وزیراعظم بن چکے ہیں مگر ایک بار ضرور معذرت کے ساتھ ان کی بیس بائیس سالہ کوششوں میں زبان کو بہت استعمال کیا گیا جس سے بہت اچھے اچھے سنھری خواب دکھائے گئے اور دوسری جانب جو دماغ تھا اس نے شاید اپنا کام اب جاکر شروع کیا ہے جب ان کے ان کے پاس حکومت آچکی ہے یعنی عمران خان وزیراعظم بن کر اس ملک کو سنوارناتو چاہتے تھے مگر ان کی یہ تیاری ہرگز نہیں تھی کہ اس ملک کو کس طرح سے مشکلات سے نکالناہے اگر یہ جھوٹ ہے تو ان کی حکومت کو اب چھ ماہ ہونے کو ہیں وہ خود بھی پریشان ہیں کہ ہم آخر جاکس طرف رہے ہیں یہ ہی زبان اس وقت مخالفین پر تنقید کے نشتر برسارہی ہے اور جو حکومتی دماغ ہے وہ اس کام میں الجھا ہواہے کہ زرداری کو جیل میں ڈالنا ہے نوازشریف کو اتنی سزادلوانی ہے یہاں تک ان سے آجکل وہ میڈیا کے اینکرپرسن بھی نالاں ہیں جو یہ کہا کرتے تھے کہ عمران خان ہی اس ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے ۔ پھر کہاجاتاہے کہ صبر کروابھی تو ہم آئے ہیں بھائی یہ کرکٹ کی پچ نہیں ہمارا ملک ہے جس میں جہاں پہلاآوور بیسٹ مین کو سیٹ ہونے پر لگتاہے جہاں تک صحافیوں کی پریشانی کا تعلق ہے اس کو بھی ہم چھوڑ دیتے ہیں خود عمران خان کا لاکھوں ورکر یہ کہہ رہاہے کہ ہم نے عمران خان کو ووٹ تو دیا ہے مگر ہمیں یہ امید نہیں تھی کہ ہمارے حالات اس قدر تنگ ہوجائینگے یقین جانئے” عمران خان کو بہت ووٹ پڑا مگر جس نے ووٹ دیا وہ ووٹر ان کا نا ہوسکاہے۔” آج اس ملک میں ایک طرف سیاسی خانہ جنگی چھڑی ہوئی ہے اپوزیشن کا بھرپورجواب حکومت دیتی ہے ایک گھمسان کا رن میڈیا میں چل رہاہے معلوم نہیں ہورہا ہے کہ حکومت کونسی ہے اوراپوزیشن کونسی ہے ۔ مگران تمام جھگڑوں میں کسی نے یہ پوچھا کہ اس کشمش میں غریب کا جوحال ہورہاہے اس میں ان کو کن گناہوں کی سزادی جارہی ہے آئے روز سونا مہنگا ہوجاتاہے آئے روز پیٹرول کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور آئے روز ڈالر کا کالر مزیداونچا ہوجاتاہے اور ان سب کا بوجھ ان کسانوں اور مزدوروں کے کاندھوں پر آن گرتاہے جنھوں نے کبھی شیر کے نشان کو ووٹ دیا یاپھر کچھ اچھا نہیں لگا توتیر پر مہر لگادی۔ اور پھر تبدیلی کے لیے بلے کے نشان پر ٹھپا لگادیاان تینوں معاملات میں غریب کا کندھامہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے مزید ڈھلکا ہے اس غریب کوسکون کسی دور میں نہیں مل سکا ہے۔ کل صبح میں جب کراچی میں سول ہسپتال کے ایک علاقے سے گزررہاتھا شدید ٹریفک جام تھا ایک نوجوان سے پوچھا کہ بھائی کیا ہوا یہ کیوں ہزاروں لوگ یہاں موجود ہیں کیا کوئی احتجاجی مظاہرہ ہے تو اس نے جواب دیا کہ یہ سب لوگ ایک کلرک کی نوکری کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں میں نے پوچھا کتنی آسامیاں ہیں تو اس نوجوان نے جواب دیا تین سو آسامیاں ہیں!!! مگر یہ لوگ تو تقریباً 3ہزار ہیں میں نے تشویش کا ااظہار کرتے ہوئے کہا تو اس نوجوان نے مسکراکر کر نہیں تین ہزار نہیں اگر آپ بھی اس لسٹ میں شامل ہیں تو تین ہزار ایک ہوئے ۔میں اس کی بات سن کر آسمان کی طرف دیکھنے لگا جیسے آسمانوں میں زمین پر پھرنے والے ان کیڑے مکوڑوں کے لیے پچاس لاکھ گھراور ایک کروڑ نوکریاں ڈھونڈ رہاہوں ۔ آپ کی فیڈ بیک کا انتآاررہے گا۔

شہد کے طبی فوائد

تحریر ۔اللہ دتہ

ہر گھر میں شہد ضرور کھایا جاتا ہے جس کی وجہ اس کا مزیدار ذائقہ اور اس کے فوائد ہیں،قدرت نے اس خوارک میں اس قدر فائدے رکھے ہیں جن کا انسان کو احساس بھی نہیں ہے،آئیے آپ کو شہد کے ایسے ہی فوائد کے بارے میں بتاتے ہیں،اگر آپ اپنی کھانسی کی وجہ سے پریشان ہیں اور روز روز کھانسی کے شربت پی کر تنگ آچکے ہیں تو پریشان مت ہوں،آپ کو چاہیے کہ شہد کا استعمال کریں اور اس مصیبت سے نجات پالیں۔اس کے استعمال سے نہ صرف آپ کی کھانسی ٹھیک ہوجائے گی بلکہ آپ کے گلے کو بھی بہت زیادہ آرام ملے گا،ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ شہد میں انٹی بیکٹیریا خصوصیات پائی جاتی ہیں اور اسے کھانے سے معدے میں موجود نقصان پہنچانے والے بیکٹیریا ختم ہوتے ہیں،یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ شہد کا رنگ جتنا گہرا ہوگااتنا ہی اس کی انٹی بیکٹیریل خصوصیات زیادہ ہوں گی،شہد زخموں کو جلد مندمل کرنے کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ شہد میں انٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں لہذا اگر اسے زخموں پر لگایا جائے تو یہ جلد مندمل ہوجاتے ہیں،اگر زخم والی جگہ پر شہد لگایا جائے تو وہاں ایک باریک سی پرت بن جاتی ہے اور وہ جگہ جلد ٹھیک ہوجاتی ہے،جب بھی شہد کھلی فضا میں آتا ہے تو آکسیجن کی وجہ سے شہد میں ایک انزائم ہائیڈروجن پر آکسائیڈ بناتا ہے جس سے زخم ٹھیک ہونے لگتا ہے۔شہد نہ صرف زخم کو جلد ٹھیک کرتا ہے بلکہ اگر جسم کا کوئی حصہ جل جائے تو شہد کی وجہ سے جلن کا احساس کم ہوجاتا ہے اور چھالے بھی نہیں بنتے اس کے علاوہ اگر آپ اپنی جلد کے کھردرے پن یا خرابی کی وجہ سے پریشان ہیں تو اس کے لئے شہد کو آزما کردیکھیں۔شہد میں یہ خاصیت موجود ہے کہ یہ جلد کو تروتازہ کرنے کے ساتھ اس میں موجود فاسد مواد کو ختم کرتا ہے۔اگر آپ شہد کو اپنے چہرے پر بطور ماسک استعمال کریں تو آپ کی رنگت صاف ہونے کے ساتھ جلد بھی چمکدار ہونے لگے گی اوراگر آپ کو رات نیند نہ آئے اور بستر پر بار بار کروٹ بدلنی پڑے اور نیند کی گولیاں کھانی پڑیں تو پریشان مت ہوں بلکہ شہد کھائیں،اس قدرتی غذا میں یہ خاصیت موجود ہے کہ یہ نیند لانے میں بہت مددگار ہوتی ہے،اس میں شکر اور گلوکوز کی قدرتی مقدار موجود ہوتی ہے اور یہ جسم کو بہت زیادہ توانائی دیتا ہے،اگر آپ اسے اپنی خوراک میں باقاعدگی سے استعمال کریں تو آپ کا جسم ہلکا پھلکا اور تروتازہ رہے گا،آپ چاہیں تو اپنے بالوں میں شہد لگا کر انہیں خوبصورت بنا سکتے ہیں۔یہ شیمپو اور کنڈیشنر کا متبادل ہوگا اور قدرتی طور پر آپ کے بالوں کو لمبا کرے گا،اگر آپ روزانہ شہد استعمال شروع کردیں تو آپ کا مدافعتی نظام مضبوط ہوگا اور آپ بیماریوں سے بآسانی محفوظ رہ سکیں گے ماہرین کے مطابق شہد یوں تو کئی بیماریوں سے بچاتا ہے لیکن اگر صبح اٹھ کر نہار منہ گرم پانی میں لیموں کے ساتھ اس کا استعمال کیا جائے تو یہ بے شمار فائدے دے سکتا ہے،اگر باقاعدگی سے اس کا استعمال کیا جائے تو آپ یہ فائدے حاصل کرسکتے ہیں،نزلہ، زکام اور معدے کے امراض سے حفاظت۔روز صبح گرم پانی کے ساتھ لیموں اور شہد کا استعمال نزلہ اور زکام سے حفاظت دے گا،لیموں اور شہد معدے کی صفائی کرتے ہیں جس کے باعث معدے میں مضر صحت اشیا جیسے چکنائی وغیرہ جمع نہیں ہوتی یوں آپ معدے کی بیماریوں سے بچے رہیں گے،صبح اٹھنے کے بعد اکثر لوگوں کو اپنا سر بھاری محسوس ہوتا ہے جس سے نجات پانے کے لیے وہ چائے یا کافی کا استعمال کرتے ہیں،نہار منہ شہد اور لیموں کا پانی استعمال کرنے سے توانائی میں اضافہ ہوگا اور آپ خود کو چاک و چوبند محسوس کریں گے نتیجتاً آپ کو چائے کافی کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی،نظام ہاضمہ میں بہتری۔نہار منہ شہد اور لیموں کا پانی نظام ہاضمہ کو فعال اور بہتر کرتا ہے،قبض اور گیس جیسے مسائل سے چھٹکارہ مل سکتا ہے،وہ افراد جو اپنے وزن میں کمی لانا چاہتے ہیں انہیں ڈائٹنگ کے بجائے نہار منہ لیموں اور شہد ملا پانی پینا چاہیئے،یہ جسم کی فاضل چربی کو گھٹاتا ہے اور وزن میں کمی لاتا ہے،لیموں اور شہد دونوں ہی خون کی صفائی کرتے ہیں اور جسم سے کیمیائی مادوں کے اخراج میں مدد دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں جلد صاف ہونے لگتی ہے اور اس میں نکھار آجاتا ہے،یہ شہد کی چند خصوصیات تھیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قدرت کا یہ عظیم الشان تحفہ کتنی اہمیت و افادیت کا حامل ہے، ربّ ذوالجلال سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی نعمتوں کی قدردانی اور اپنے حبیب جنابِ نبی کریمﷺ ا کے قیمتی ارشادات کو اپنے سینوں سے لگانے کی توفیق عطاء فرمائیں آمین۔

اسٹیٹ آف دی یونین خطاب – بابر ستار

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

اللہ کا انعام، پاکستان – حافظ سعید

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

بدل گیا جے پاکستان – بابر اعوان

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

متوازی عدالتیں – بابر اعوان

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

کار کردگی کا امتحان – ریحام خان

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

خیراندیش بنام شہباز شریف – آفتاب اقبال

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔