تاجروں کی ہڑتال اور فضل الرحمان کے دھرنے کے باوجودسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی،سرمائے میں بڑا اضافہ،انڈیکس 7بالائی حدیں عبور کر گیا

کراچی : پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے مجموعی طور پر تیزی کا رجحان رہا اور کے ایس ای100انڈیکس 33600پوائنٹس سے بڑھ کر34300پوائنٹس کی بلند سطح پر بند ہوا،تیزی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں 58ارب روپے کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے3دن تیزی کا رجحان رہا اور کے ایس ای100انڈیکس 820.33پوائنٹس بڑھ گیا تاہم 2دن کی مندی سے انڈیکس 100.18پوائنٹس لوز کر گیا مگر مجموعی طور پر مارکیٹ میں تیزی کی وجہ سے گذشتہ ہفتے کے ایس ای100انڈیکس 33700،33800،33900،34000،34100،34200اور34300پوائنٹس کی7بالائی حد عبور کر گیا۔اسٹاک ماہرین کے مطابق سیمنٹ سیکٹر میں وسیع پیمانے

پر خریداری،حکومت کی جانب سے موٹر وے ایم 9پر ایکسل لوڈ ختم کئے جانے،نئی مانیٹری پالیس میں شرح سود گھٹنے کی امید،آئی ایم ایف ٹیم کو سست رفتار معیشت کے تناظر میں ریونیو کا مقررہ ہدف میں 300ارب روپے کم کرنے جیسی خبروں سے مارکیٹ میں تیزی کا رجحان رہا تاہم تاجروں کی شٹر ڈاؤن ہڑتال سے تجارتی سرگرمیاں منجمد ہونے،سابق وزیر اعظم کی ضمانت سے متعلق فیصلے اور جے یو آئی کے آزادی مارچ پر تحفظات جیسے عوام مارکیٹ کی تنزلی کا سبب بنے۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای100انڈیکس میں 720.15پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے انڈیکس33657.46پوائنٹس سے بڑھ کر34377.61پوائنٹس ہو گیا اسی طرح306.80پوائنٹس کے اضافے سے کے ایس ای30انڈیکس 15737.89پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 24457.65پوائنٹس سے بڑھ کر24729.70پوائنٹس ہو گیا۔گذشتہ ہفتے مارکیٹ کے سرمائے میں 58ارب82کروڑ66لاکھ99ہزار523روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا

جس کے نتیجے میں مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 66کھرب39 ارب58کروڑ3لاکھ39ہزار332روپے سے بڑھ کر66کھرب98ارب40کروڑ70لاکھ38ہزار855روپے ہو گیا۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای100انڈیکس ایک موقع پر34490.96پوائنٹس کی بلند سطح کو چھو گیا تھا

تاہم مندی کے اثرات غالب آنے سے انڈیکس ایک موقع پر33572.34پوائنٹس کی کم سطح پر بھی آگیا تھا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے زیادہ سے زیادہ5ارب روپے مالیت کے22کروڑ50لاکھ84ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ کم سے کم4ارب روپے مالیت کے13کروڑ56لاکھ33ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے کے دوران مجموعی طور پر1737کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے 901کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،722میں کمی اور114کمپنیوں کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کاروبار کے لحاظ سے پاک انٹر نیشنل بلک،ٹی آر جی پاکستان،فوجی سیمنٹ،حیسکول پیٹرول،یونٹی فوڈز،پاور سیمنٹ،بینک آف پنجاب،پاک لیکٹرون،ورلڈ کال ٹیلی کام،انٹر نیشنل اسٹیل لمیٹڈ،صدیق سنز ٹن،کے الیکٹرک لمیٹڈ،پائینیر سیمنٹ،ڈی جی کے سیمنٹ،لوٹے کیمیکل،لکی سیمنٹ،پاک پیٹرولیم،الشہیر کارپوریشن،امریلی اسٹیل،مغل آئرن اوردی سرل کمپنی سر فہرست رہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کر دیا، کیا کرنے کا کہہ دیا ؟

اسلام آباد:عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کر دیا ہے، آئی ایم ایف کی فیڈرل ریونیو ایجنسی بنانے کی تجویز، میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ تجویز دی ہے کہ ملک میں ایک فیڈرل ریونیو ایجنسی بنائی جائے جو ملک بھر سے ٹیکس اکٹھا کرے ایجنسی صوبے، اور اضلاع کی سطح پر ٹیکس جمع کرے،

فیڈرل ریونیو ایجنسی کے قیام کی تجویز سے ٹیکس جمع کرانے مین آسانی ہوگی، آئی ایم ایف نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ وفاق، صوبوں اور اضلاع کا ٹیکس ایک ہی جگہ اکٹھا ہو گا، جبکہ ٹیکس فارم اور وصولی آسان بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کی برآمدات میں اضافہ

ایران کے پلدشت کسٹم سے رواں سال کے دوران مصنوعات کی برآمدات میں 83 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن کی مالیت 6.2 کروڑ ڈالر ہے۔صوبے مغربی آذربائیجان کے علاقے پلدشت میں واقع صنم بلاغی کسٹم کے دائریکٹر مینجر وحید حسن زادہ نے کہا کہ رواں سال کے دوران اس سرحدی علاقے س 6.2 کروڑ ڈالر پر مشتمل مختلف قسم کی مصنوعات یورپی اور ایشیائی ممالک کو برآمد کی گئیں۔ حسن زادہ نے کہا کہ برآمد شدہ مصنوعات میں زرعی، ڈیری مصنوعات، پیٹروکیمیکلز، پلاسٹک، آئرن، تانبا، سوتی، ٹائلیں، سرامیک اور تعمیراتی مواد شامل ہیں۔انہوں نے کہا

کہ پلدشت کسٹم، ایران اور آذربائیجان کے درمیان دوسری سرحدی گیٹ ہے اور باہمی تجارتی لین دین کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے بعد اس علاقے سے تجارتی تعلقات کی مالیت کی شرح 5 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

کئی ارب ڈالر کے نئے منصوبے سی پیک میں شامل کروانے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان نے کئی ارب ڈالر کے نئے منصوبے سی پیک میں شامل کروانے کا فیصلہ کرلیاہے۔

نئے پروجیکٹ آئندہ ہفتے سی پیک کی جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے جس میں سی پیک کا مغربی روٹ، تونسہ ہائیڈوپاورپروجیکٹ، رائٹ بینک چشمہ پروجیکٹ، نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن پروجیکٹ، آئل ریفائنری کی توسیع، پختونخوا کی سڑکوں کے منصوبے اور تھر بلاک انجینئرنگ پروجیکٹ شامل ہیں۔

میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسروبختیار کا کہناہے کہ اگر یہ تمام منصوبے مکمل ہوگئے تو ملکی معیشت 4گنا بڑھ جائے گی۔ صحافیوں نے سوال کیاکہ ان منصوبوں کا مالیاتی حجم کیاہے اور ان منصوبوں کی شمولیت کے بعد سی پیک کا مالیاتی حجم کتناہوجائے گا تو وفاقی وزیر نے مزید تفصیل بیان نہیں کی۔
سی پیک معیشت کا اہم ستون، نئی منزل پر لے جا رہے ہیں، خسروبختیار

وفاقی وزرا نے کہا ہے کہ سی پیک معیشت کا ایک اہم ستون ہے، سی پیک کو نئی منزل پر لے جا رہے ہیں،14سال بعد ایم ایل ون منصوبہ حقیقی بننے جا رہا ہےاسٹیل مل کو فعال کیا جا رہا ہے، 2020ء میں سیاحت اور ثقافت کو بھی شامل کر رہے ہیں، کراچی سرکلر ریلوے کو ترجیح بنیادوں پر رکھا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزرا خسرو بختیار، شیخ رشید، عمرایوب معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اورندیم بابرنے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر خسروبختیار نے کہا کہ 6 تاریخ کو سی پیک مشترکہ تعاون کمیٹی کی میٹنگ ہے،4 تاریخ کوگوادر جا رہے ہیں وہاں300 میگاواٹ پاور پلانٹ کا افتتاح کریںگے۔

پاک چین مشترکہ تعاون کمیٹی میں سی پیک پر پیش رفت زیر بحث آئیگی۔ سی پیک پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا اہم ستون ہے، سب سے اہم ترین منصوبہ ایم ایل ون جو پاکستان کے فرسودہ ریلوے نظام کو ختم کرکے نئی صدی کا ریلوے نظام لائیگا۔ اسکی فنانسنگ فائنل ہوگئی۔

عالمی منڈی میں اضافہ اور پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی

کراچی: عالمی منڈی میں سونے کی فی اونس قیمت میں 3 ڈالر کا اضافہ جب کہ مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ قیمت 150 روپے گھٹ گئی۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 3 ڈالر کا اضافہ ہوا اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 1520 ڈالر پر پہنچ گئی تاہم ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمت میں بالترتیب 150 روپے اور 129 روپے کی کمی ہوئی۔

قیمتوں میں کمی کے بعد کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت کم ہو کر 87 ہزار 850 روپے جب کہ دس گرام سونے کی قیمت گھٹنے کے بعد 75 ہزار 317 روپے ہوگئی۔ اس کے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1040 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 891 روپے 63 پیسے پر مستحکم رہی۔

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو فارن کرنسی کی خریدو فروخت کی اجازت دے دی

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)اسٹیٹ بینک نے فارن ایکسچینج میںوئل میں ترمیم کرکے بینکوں کو فارن کرنسی کی خریدو فروخت کی اجازت دے دی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فارن ایکسچینج میںوئل میں ترمیم کردی ہے۔

جس کے بعد مجاز بینک اپنی تمام شاخوں سے غیر ملکی کرنسی کی خریدوفروخت کرسکیں گے، کسٹم ڈکلیریشن کی صورت میں 10 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی غیرملکی کرنسی بھی بینکوں کو فروخت کی جاسکے گی،

پاکستانی شہریوں کے علاوہ غیرملکی افراد بھی بینکوں کو غیرملکی کرنسی فروخت کرسکیں گے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق بیرونِ ملک سفر کرنے والے پاکستانی بھی بینکوں سے مقررہ حد کے مطابق غیرملکی کرنسی خرید سکیں گے، بینک غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں سے نکالی گئی رقوم بھی خرید سکیں گے۔

مرکزی بینک کے اقدام پر معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے فارن ایکسچینج میںوئل میں ترمیم سے ڈالر کی بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ ہوگا۔

ملکی زرمبادلہ 16 کروڑ 93 لاکھ ڈالر کی کمی سے 17 ارب 22 کروڑ 83 لاکھ ڈالر ہوگیا

اسلام آباد(این این آئی) ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16کروڑ93لاکھ ڈالر کی کمی سے 17ارب22کروڑ83لاکھ ڈالر ہوگئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق5اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے ودران زرمبادلہ کے ذخائرمیں 16کروڑ93لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں ذخائر کی مالیت17ارب39کروڑ76لاکھ ڈالر سے گھٹ کر17ارب 22کروڑ83لاکھ ڈالر ہوگئی۔مرکزی بینک کے ذخائر22کروڑایک لاکھ ڈالر کی کمی سے10ارب49کروڑ20لاکھ ڈالر سے گھٹ کر10ارب 27کروڑ19لاکھ ڈالر ہوگئے جبکہ اس کے برعکس کمرشل بینکوں کے ذخائرمیں5کروڑ8لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں کمرشل بینکوں کے ذخائر6ارب 95کروڑ64لاکھ ڈالرہوگئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق بیرونی ادائیگیوں کے باعث گزشتہ ہفتہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی ۔

ایف بی آر کا اپریل سے بے نامی بینک اکاؤنٹس یا غیرقانونی رقم کی منتقلی کے خلاف آپریشن کا فیصلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یکم اپریل سے بے نامی بینک اکاؤنٹس یا غیرقانونی رقم کی منتقلی کے خلاف آپریشن شروع ہو جائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایف بی آر ممبر حامد عتیق سرور کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں 2 ہزار 566 ارب روپے کا ہدف مقرر تھا، تاہم فروری تک ٹیکس محاصل میں 236 ارب روپے کمی کا سامنا ہے، جولائی سے فروری تک صرف 2 ہزار 330 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا جاسکا۔

ممبر ایف بی آر نے بتایا کہ فروری تک پیٹرولیم اور گیس سیکٹر سے 75 ارب روپے کم ٹیکس جمع ہوا، تنخواہوں کی مد میں 35 ارب روپے کا نقصان ہوا، جب کہ ٹیلی کام سیکٹر سے بھی 35 ارب کم ٹیکس جمع ہوا، پی ایس ڈی پی میں کٹوتی کی وجہ سے55 ارب روپے کا خسارہ ہوا، اور درآمدات میں کمی سے ٹیکس ریونیو میں 20 ارب کمی آئی۔

حامد عتیق سرور کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے بڑے شہروں میں 424 بڑے ٹیکس چوروں کے خلاف کاروائی کی، کارروائی میں 8ارب20 کروڑروپے کا ٹیکس ڈیمانڈ کیا گیا، ان افراد سے 3.8 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا، کراچی سے 45 کروڑ، اسلام آباد سے 30 کروڑ سے زیادہ کی ریکوری ہوئی۔

ممبر ایف بی آر نے بتایا کہ بےنامی بینک اکاؤنٹس یا رقم کی غیرقانونی منتقلی کےخلاف یکم اپریل سے آپریشن شروع ہو جائے گا، آپریشن لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں شروع کیا جائے گا، اس حوالے سے اسٹیٹ بینک سے بے نامی اکاؤنٹس کا ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے، بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کو نوٹسزجاری کیےجائیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آصف زرداری کو گاڑیوں سے متعلق ٹیکس نوٹسز دیے ہیں، انہیں اس حوالے سے خود پیش نہیں ہونا پڑے گا، بلکہ وہ اپنے وکیل کے ذریعے ہی جواب دے سکتے ہیں۔

پاکستان میں کارپوریٹ گورننس میں بہتری آگئی، ورلڈ بینک

اسلام آباد(ویب ڈیسک)ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کارپوریٹ گورننس میں بہتری آگئی ہے۔ ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر الانگو پاچا میتھو نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کارپوریٹ گورننس (تجارتی طرز حکمرانی) میں بہتری آئی ہے،

پاکستان کاروبار میں آسانیوں کے سلسلے میں 147 سے 137 ویں نمبر پر آگیا ہے، پاکستان کی معاشی ترقی میں نجی شعبہ کا کلیدی کردار ہے۔

چیئرمین ایس ای سی پی فرخ سبزواری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئے طریقہ کار کے تحت کمپنی میں خاتون ڈائریکٹر کا تقرر لازمی قرار دیا گیا ہے،

لسٹڈ کمپنیوں کی مشکوک سرگرمیوں پرنظر رکھ رہے ہیں، اسٹاک مارکیٹ میں بروکرز کے لیے دستاویز 30 سے کم کرکے 4 صفحات پر لائے ہیں، کاغذی کارروائی کم ہونے سے جلد ازجلد کمپنی تشکیل دی جاسکے گی۔

فرخ سبزواری نے کہا کہ ایس ای سی پی نے اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے ورلڈ بنک سے رجوع کیا اور اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے کارپوریٹ سیکٹر میں شفافیت کے لیے عالمی بینک سے استفاده کریں گے۔

نجی شعبوں کے قرضوں میں 92 فیصد کا اضافہ

کراچی (زرائع) اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردیا ڈیٹا کے مطابق نجی شعبوں کے قرضوں میں 92 فیصد اضافہ سامنے آیا جو جولائی سے 22 فروری تک 600.5 ارب روپے ہوگئے جبکہ یہ گزشتہ سال اس ہی مدت کے دوران 312 ارب تھے۔قرضوں میں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب جنوری 2018 میں اسٹیٹ بینک نے سود کی شرح 5.75 فیصد سے بڑھا کر 10.25 فیصد کردی تھی۔

عام بینکوں کے قرضے 8 ماہ میں 204.4 ارب روپے سے بڑھ کر 409.8 ارب روپے ہوگئے جبکہ اسلامک بینکوں میں بھی قرضہ گزشتہ سال کے 23.8 ارب روپے کے مقابلے میں 90 ارب روپے ہوگئے۔کمرشل بینکوں کی اسلامک بینکنگ میں بھی نجی شعبوں کو قرضے گزشتہ سال کے 84 ارب روپے کے مقابلے میں 100 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

بینکروں کا کہنا ہے کہ نجی شعبوں میں رقم کا زیادہ بہاؤ بینکوں کے پاس رواں اثاثوں (لیکوئیڈیٹی) کو ایک جگہ رکھنے کے کم آپشنز کی وجہ سے ہیں جبکہ حکومت نے بینکوں سے طویل المدتی قرضوں کو بھی کم کردیا ہے جو گزشتہ حکومت میں عام بات تھی اور اس سے سرمایہ پر زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔

افراط زر اور شرح سود میں مسلسل اضافہ سامنے آیا ہے تاہم نجی شعبوں کی جانب سے قرضے حاصل کرنا کم نہیں ہوا۔یہ اضافے نمو اور پھیلاؤ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں تاہم ان سے مالی سال 2019 میں معاشی نمو میں واضح بہتری سامنے آئے گی۔

سینیئر بینکر کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار حکومت کے لیے حوصلہ افزا ہے کیونکہ نجی شعبے شرح سود میں اضافے کے باوجود نہایت تیزی سے قرضے لے رہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ شرح سود میں اضافے کے وقت پر نجی شعبوں کے قرضے حاصل کرنے سے بینکوں میں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے والے قرضوں میں اضافہ کردے گا۔