ہفتے میں 3 دن چھٹی، 4 دن کام: کارکردگی میں 40 فیصد اضافہ!

ٹوکیو: مائیکروسافٹ جاپان نے گزشتہ روز اپنے ایک دفتری تجربے کے نتائج جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہفتے میں 4 دن کام اور 3 دن چھٹیوں کی حکمتِ عملی سے ان کے ملازمین نہ صرف زیادہ خوش ہوئے بلکہ انہوں نے پہلے کی نسبت 40 فیصد زیادہ کام بھی کیا۔ یعنی کام کے حوالے سے ان کی پیداواری صلاحیت میں 40 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوگیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند سال یہ تجویز دنیا بھر میں گردش کررہی ہے کہ اگر لوگ پورے ہفتے میں صرف 4 دن کام کریں تو اس سے ایک طرف انہیں زیادہ سکون و آرام ملے گا تو دوسری جانب اس سے ماحول پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن اس تجویز کو بڑے پیمانے پر آزمانے کےلیے کوئی ادارہ بھی تیار نہیں تھا۔ آخرکار یہ ہمت مائیکروسافٹ جاپان کی انتظامیہ نے دکھا دی۔

اس سال اگست کے مہینے میں مائیکروسافٹ جاپان نے اپنے تمام کے تمام 2300 ملازمین کےلیے ’’ورک لائف چوائس چیلنج سمر 2019‘‘ کا اعلان کیا، جس کے تحت ملازمین کو ہفتے اور اتوار کے ساتھ ساتھ ہر جمعے کی اضافی چھٹی بھی دی گئی تاکہ وہ اپنی نجی زندگی کا لطف اٹھا سکیں۔

چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے کےلیے ہر ملازم کو علیحدہ سے کچھ رقم بھی دی گئی جو زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ ین (تقریباً ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) جتنی تھی۔

یہ تجربہ ایک مہینے تک جاری رہا جبکہ اس سال اگست میں 5 جمعے ہونے کی وجہ سے ملازمین کو 31 دنوں میں سے 15 دن کی چھٹی مل گئی۔ مزید یہ کہ روزانہ کام کے اوقات بھی نہیں بڑھائے گئے؛ یعنی مائیکروسافٹ جاپان کے تمام ملازمین کو روزانہ معمول کے مطابق 9 گھنٹے کام کرنے کےلیے کہا گیا۔

تجربہ ختم ہوجانے کے بعد کمپیوٹر سائنس، ریاضی اور سماجیات کے ماہرین آپس میں سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور اس پورے مہینے کے دوران مائیکروسافٹ جاپان کی کارکردگی کا بھرپور جائزہ لیا۔

دو ماہ تک جاری رہنے والے اس تجزیئے میں جہاں یہ معلوم ہوا کہ مائیکروسافٹ جاپان میں کام کرنے والے ملازمین کی اوسط کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں 40 فیصد اضافہ ہوا، وہیں یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ہفتے میں تین چھٹیاں ملنے پر ملازمین بہت زیادہ خوش ہوئے اور ان کی صحت بھی اچھی رہی۔

’’کم وقت کام کیجیے، خوب آرام کیجیے اور بہت کچھ سیکھیے،‘‘ مائیکروسافٹ جاپان کے سی ای او تاکویا ہیرانو نے اپنے ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا۔ ’’میں چاہتا ہوں کہ ملازمین اس بارے میں سوچیں کہ وہ کام کے 20 فیصد کم وقت میں ویسے ہی نتائج کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔‘‘

بھارت: 42 سالہ شخص 2 ہزار روپے کی شرط جیتنے کے لیے بیک وقت 50 انڈے کھانے کے دوران ہلاک ہوگیا

نئی دہلی: بھارت میں 42 سالہ شخص نے دوست سے 2 ہزار روپے کی شرط جیتنے کے لیے بیک وقت 50 انڈے کھانے کے دوران ہلاک ہوگیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش میں 42 سالہ سبھاش یادیو نے دوست کے ساتھ شرط لگائی کہ وہ 50 انڈے کھا سکتا ہے اور اگر وہ ایسا کرلیتا ہے تو 2 ہزار کی رقم کا حقدار ہوگا۔سبھاش یادیو نے 41 انڈے کھالیے تاہم 42 واں انڈہ کھاتے ہی اس کی طبیعت بگڑ گئی.

اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے موت کی تصدیق کردی۔ اہل خانہ نے واقعے پر کسی قسم کے تبصرے سے انکار کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم سے انکار کردیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے اور سبھاش یادیو کے دوستوں کے نام ایف آئی آر میں درج کرکے چھاپا کارروائی شروع کردی ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔

سورج سے بجلی بنانے والے سورج مکھی کے مصنوعی پھول

کیلفورنیا: اصلی سورج مکھی کے پھول ہمہ وقت اپنا رخ سورج کی سمت رکھتے ہیں لیکن اب ماہرین نے بہت ننھے منے مصنوعی سورج مکھی کے پھول بنائے ہیں جو اپنا چہرہ سورج کی جانب رکھتے ہوئے بجلی بناتے رہتے ہیں۔

ہر پھول کو ’سن بوٹ‘ کا نام دیا گیا ہے ہر پھول کا تنا یا ڈنٹھل روشنی کے لحاظ سے اپنا ردِ عمل دکھاتا ہے اور اس کے اوپر توانائی جذب کرکے بجلی دینے والا پھول لگایا گیا ہے۔ اگرچہ ایک پھول کی جسامت محض ایک ملی میٹر ہے لیکن اس میں شمسی (سولر) سیل جیسا ہی مٹیریل لگایا گیا ہے اور وہ توانائی جمع کرتا ہے۔

اب یوں ہوتا ہے کہ جیسے ہی سورج کی روشنی پھول کےتنے پر پڑتی ہے وہ گرم ہوکر سکڑتا ہے۔ اس طرح تنا قدرے خمیدہ ہوجاتا ہے اور پھول کا رخ سورج کی جانب ہوجاتا ہے۔ جیسے ہی پھول عین سورج کی سمت میں آجاتا ہے تو پھول کا تنا مڑنا بند ہوجاتا ہے۔ اس خمیدگی کی وجہ سے پھول کا سایہ تنے پر پڑتا ہے اور وہ ٹھنڈا ہوکر مزید مڑنے سے رک جاتا ہے۔

قدیم مسجد کی دریافت نے اسرائیلیوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا

مقبوضہ بیت المقدس : ماہرین آثار قدیمہ اس وقت ورطہ حیرت میں پڑ گئے جب صحرا النقب میں انہیں قدیم ترین مسجد کے مکمل اور بھرپور آثار ملے۔ مسلمانوں کی مسجد کا رخ کعبہ اللہ (مکہ المکرمہ) کی جانب ہے۔ ماہرین کو یقین ہے کہ یہ مسجد ساتویں یا آٹھویں صدی میں تعمیر ہوئی ہوگی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تاریخی حوالوں سے ثابت ہے کہ موجودہ اسرائیل جس سرزمین پہ واقع ہے۔

اس پر مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق کے دورحکومت میں (636 سن عیسوی) مسلمانوں کی حکومت قائم تھی۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے جرمنی کےنشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مسجد کی دریافت کو اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ نے انتہائی حیران کن قرار دیا ہے۔ جنوبی اسرائیل میں پھیلے صحرائی علاقے میں 1200 سالہ پرانی مسجد کی باقیات عرب بدوؤں کی بستی والے شہر راحت کے قریب سے ملی ہیں۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ جون سلیگمان اور شہور زور کا مسجد کی تعمیر کے متعلق کہنا ہے کہ یہ ساتویں یا آٹھویں صدی میں تعمیر ہوئی ہوگی۔

ماہرین کے مطابق ملنے والی باقیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چھوٹی مسجد ہوگی لیکن اپنے طرز تعمیر سے جدید دکھائی دیتی ہے مگر اس کو غالباً دنیا کی قدیم ترین مساجد میں شمار کیا جا سکتا ہے۔اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ اس جیسی مسجد کے باقیات دنیا کے کسی اور خطے سے برآمد نہیں ہوئے ہیں جو انتہائی حیران کن ہے۔جون سلیگمان اور شہور زورکے مطابق مسجد کا ڈھانچہ مستطیل اور اوپر سے کھلا ہوا ہے۔ نماز پڑھنے کے مقام پر محراب نہایت واضح ہے۔اسرائیلی ماہرین نے تسلیم کیا کہ مسجد کی محراب کا رخ مکہ المکرمہ کی جانب ہے۔

انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ 1200 سال قبل اس کو علاقے کے مسلمان کسانوں نے تعمیر کیا ہو گا۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ماہر آثار قدیمہ گڈون اوینی یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ اسرائیل میں دریافت ہونے والی یہ دنیا کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔مسجد کے ساتھ زرعی فارم کے آثار ملے ہیں جس کے ساتھ آبادی کے نشانات نمایاں ہیں۔ آبادی میں بنے ہوئے مکانات خاصی اہمیت کے حامل قرار دیے جارہے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ملنے والے مکانات کے آثار میں گودام، باورچی خانہ اور مہمان خانہ نمایاں ہیں۔

روڈ حادثوں اور سماجی برائیوں کی آگہی پر تصاویر بنانے والا فوٹوگرافر

19 سالہ حافظ ساجد نے پہلے ٹریفک حادثات اور غفلت پر تصاویر بنائیں جو بہت پسند کی گئیں ۔

ان کی ایک تصویر دنیا بھر میں مشہور ہوئی جس میں خاتون کا دوپٹہ موٹرسائیکل کے پہیے میں پھنسا دکھائی دیتا ہے اور یہ سب منظر اتنا حقیقی لگتا ہے کہ تصویر کشی کی داد دینی پڑتی ہے۔

اس کے علاوہ حافظ نے ہیلمٹ کی اہمیت اور دیگر امور پر تصاویر بنائی ہیں جو سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہوئی ہیں اور لوگوں نے سڑک و سفر کے حفاظتی اقدامات پر ان کی تخلیقات کو بہت پسند کیا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے حادثے کی وجہ بننے والی چھوٹی چھوٹٰی باتوں کا بھی خیال رکھا ہے اور اسے ایک وسیع کینوس پر پیش کیا ہے۔

حافظ کی ایک اور تصویر میں انہوں نے پیغام دیا ہے کہ سڑک پر کار کا دروازہ کھولنے سے قبل پیچھے ضرور دیکھیں تاکہ کسی ناگہانی حادثے سے بچا جاسکے۔ یہ تصویر بھی بہت پسند کی گئی اور تیزی سے وائرل ہوئی۔ حافظ کے انسٹاگرام فالوور کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔

جدید ’خواجہ سگ پرست‘ جس نے 750 کتوں کو پناہ دے رکھی ہے!

میونخ: ساشا پیسک کا تعلق سربیا کے تاریخی شہر نیش سے ہے، لیکن ان کی اپنی وجہ شہرت وہ 750 کتے ہیں جنہیں انہوں نے اپنے پاس پناہ دے رکھی ہے اور جن کا خیال وہ دن رات رکھتے ہیں۔ ہوا یوں کہ ساشا نے 2008 میں کتے کے کچھ ایسے پلّوں کی جان بچائی تھی جنہیں کسی نے شدید سردی میں مرنے کےلیے چھوڑ دیا تھا۔ تب سے لے کر آج تک، پچھلے گیارہ سال میں وہ 1200 سے زیادہ کتوں کی جان بچا چکے ہیں جن میں سے 750 کتوں کو انہوں نے اپنی ہی بنائی ہوئی ایک پناہ گاہ میں رکھا ہوا ہے۔

2015 سے پہلے تک انہیں کوئی نہیں جانتا تھا لیکن اس سال ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں انہیں جان پر کھیل کر ایک کتے کی جان بچاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

صرف فیس بک پر اس ویڈیو کو 6 کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر سے لوگوں نے ان سے رابطہ کیا اور ان کا ساتھ دینے کی خواہش ظاہر کی۔ پھر ان پر دستاویزی فلمیں بھی بنائی گئیں اور کئی ویڈیو بلاگرز نے ان کی کاوشوں پر ولاگز بھی ترتیب دیئے۔

بھارتی شہری کے سر پر سینگ نکل آیا،ایسا کیسے ہوگیا؟ جس نے دیکھا حیران رہ گیا، چیک کرایا تو ڈاکٹرنے کیا کہا؟

نئی دہلی : بھارت میں شہری کے سر پر حیران کن طورپر سینگ نکل آیاجسے آپریشن کے بعد الگ کر دیاگیا ،بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے ایک گائوں سے تعلق رکھنے والے 74 سالہ شیام یادو نے بتایاکہ پانچ سال قبل ان کا سر کسی چیز سے ٹکرایا تھا جس کے بعد ان کے سر پر سینگ نْما چیز نکلنے لگی۔شیام یادو نے بتایا کہ سر پر نکلنے والی اس سینگ نما چیز کو پہلے نظر انداز کیا۔ کیونکہ اس میں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی تھی۔ایک مرتبہ نائی سے بال کٹوانے

کے دوران شیام یادو نیاس سینگ نما چیز کو نائی سے ہی نکلوا دیا تھا جس کے بعد وہ دوبارہ نکل آیا اور پہلے سے مزید سخت اور لمبا ہو گیا جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھانا پڑا۔ساگر شہر میں واقع ترتھ اسپتال میں ڈاکٹرز نے ابتدائی طور پر مریض کے سی ٹی اسکین کیے تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ اس بیماری کو ٹھیک کرنے کے لیے کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق شیام یادو کے سر پر نکلنے والا سینگ ایک کیمیکل سے بنتا ہے جسے میڈیکل کی اصطلاح میں کیریٹن کہتے ہیں اور یہ کیریٹن ناخن اور بالوں میں بھی موجود ہوتا ہے۔نیورو سرجن بھاگ یودے نے شیام کے سر سے اس سینگ نما چیز کو اسٹیریلائز ریزر کی مدد سے نکالا اور مریض کو 10 روز کے لیے اسپتال میں رکھا گیا اور اس دوران ان کے کچھ ضروری ٹیسٹ کیے گئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ مستقبل میں انہیں دوبارہ اس بیماری کا خطرہ لاحق تو نہیں ہو گا۔ڈاکٹرز کا کہنا تھا اس بیماری کا نام سیبے شیس ہورن جسے ڈیول ہورن بھی کہتے ہیں اور یہ بیماری عام طور پر بہت ہی کم کسی ہوتی ہے، اور اب تک اس بیماری کے ہونے کی کوئی وجہ معلوم نہیں کی جا سکی مگر اس بیماری کو روشنی اور سورج کی شعائیں مزید بگاڑ سکتی ہیں۔اس بیماری کو مختلف طریقوں سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے
جن میں شعاعوں کی مدد سے سرجری اور کیموتھراپی شامل ہے۔شیام یادو کے سر سے اس سینگ کو نکالنے کے بعد زخم ہو گیا تھا جس کے بعد ان کے زخم پر جلد کی پیوندکاری کی گئی تھی اور اب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہیں۔ڈاکٹرز نے بتایا کہ اس کیس کو ’انٹرنیشنل جرنل آف سرجری‘ میں بھیج دیا گیا ہے کیونکہ اس طرح کی بیماری بہت ہی کم لوگوں کو ہوتی ہے اور یہ بیماری بے حد پْر اسرار ہے۔

سر کی چوٹ کے باعث 34 سالہ شخص کا چہرہ اور جسم بچے جیسا ہوگیا

بیجنگ: عمررسیدگی میں بھی چہرہ جوان دکھائی دینا ایک اچھی بات ہے لیکن چین کے وسط میں رہنے والا ایک شخص 34 سال کے باوجود بالکل بچہ دکھائی دیتا ہے اور اسی وجہ سے اب تک اس کی شادی نہیں ہوسکی ہے۔

34 سالہ زیو شینگ کائی اس وقت ایک دیہی قصبے زیانتاؤ میں رہتے ہیں۔ چھ برس کی عمر میں وہ دوستوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ اس کا سر ایک پتھر سے ٹکرایا۔ چوٹ شدید تھی لیکن کوئی خون نہیں نکلا تاہم زیو لگاتار تین روز تک بخار کا شکار رہا۔ بخار کی وجہ سے اسے تین روز بعد ہسپتال لے جایا گیا تو معلوم ہوا کہ دماغ میں خون کا لوتھڑا جم گیا ہے جسے ایمرجنسی سرجری کے بعد نکال لیا گیا۔

پھر زیو نارمل رہا مگر 9 برس کی عمر میں انکشاف ہوا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں چھوٹا اور غیرنمو پذیردکھائی دیتا ہے۔ گویا کہ حادثے کے بعد اس کی نشوونما رک گئی ہے۔
دوبارہ طویل علاج اور ٹیسٹ کے بعد معلوم ہوا کہ زیو کے جسم میں نشوونما یقینی بنانے والے بچیوٹری گلینڈز تباہ ہوچکے ہیں جن سے بڑھوتری کے ہارمون کا افراز نہیں ہوپارہا۔ یہ عمل دو عشروں سے جاری رہا اور اب یہ حال ہے کہ اس کے چہرے پر بال نہیں اگتے اور اس کی آواز بھی بچوں جیسی ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کی شادی بھی نہیں ہوسکی ہے۔

زیو نے خود بتایا کہ اگرچہ وہ 34 برس کا ہوگیا ہے لیکن اب تک جسمانی طور پر ایک چھوٹے بچے کی ماندد ہے۔ وہ بلوغت تک نہیں پہنچا اور اسی وجہ سے شادی بھی نہیں کرسکتا۔

ڈاکٹر بھی اس عجیب بیماری کے ہاتھوں بے بس ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچیوٹری گلینڈزہرانسان کی بلوغت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اب زیو نے روزگار کے لیے حجامت کی دکان کھولی ہے جہاں وہ اپنے گاہکوں سے اکثر کہتے ہیں کہ ان کے دوستوں کے چہروں پر جھریاں آجائیں گی لیکن وہ اسی طرح جوان اور بچے ہی رہیں گے۔

ایریزونا پارک میں رکھا ایک ٹن وزنی پتھر چوری

ایریزونا: امریکا میں چوری کا ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا ہے جس میں نقب زنوں نے ایک ٹن وزنی پتھر چوری کرلیا جسے راک یا چٹان کہنا زیادہ بہتر ہوگا۔

ایریزونا میں واقع ایک جنگل ’پریسکوٹ نیشنل فاریسٹ‘ کے باہر رکھا ایک نمائندہ پتھر دو ہفتے قبل اچانک غائب ہوگیا جس کے بعد جنگل کی انتظامیہ نے اس کی تلاش میں عوام سے بھی مدد مانگ لی۔

یہ سیاہ چٹان نما پتھر ’وزرڈ راک‘ کہلاتا ہے جسے مقامی افراد بھی بہت اہمیت دیتے ہیں۔ یہ بڑا سا پتھر تحفظ شدہ جنگل کے لیے اہمیت رکھتا ہے جسے بطور نشانی بھی سمجھا جاتا ہے۔
مقامی سیکیورٹی عہدے دار سارہ کلاسن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ معدنی چٹان انہیں جلد واپس کردی جائے گی جسے خاص تعلیمی مقاصد کے لیے یہاں رکھا گیا تھا۔

دوسری جانب امریکی فاریسٹ قوانین کی سروسز نے عوام سے اپنی پسندیدہ چٹان واپس لانے کے لیے تعاون کی اپیل کی ہے جو گزشتہ 89 برس سے ایک بڑی شاہراہ پر عوامی دلچسپی کی وجہ بنا ہوا تھا۔

لوگ اس پتھر کے پاس آکر رکتے تھے اور تصاویر بنواکر آگے بڑھ جاتے تھے۔ گزشتہ چار ماہ میں مزید دو بھاری پتھر یہاں سے چوری ہوچکے ہیں اور اس چٹان کی طرح انہیں بھی کسی بھاری مشینری سے ہٹایا گیا ہوگا۔

شیئرٹویٹشیئر

“پاکستان نے ایف 16 طیارہ استعمال کیا تھا”، بھارتی میڈیا نے نسوار کی تھیلی کو بطور ثبوت پیش کردیا

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی میڈیا نے اپنے عوام کو پاگل بنانے کے لیے نسوار کی تھیلی کو بطور ثبوت پیش کردیا جس میں بتانے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان نے ایف 16 طیارہ استعمال کیا جس کو بھارتی فضائیہ نے مار گرایا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان کا ایف سولہ طیارہ طیارہ مار گرایا تاہم میڈیا اور حکمرانوں کے پاس اس کا کوئی ثبوت موجود ہی نہیں ہے۔ بھارتی میڈیا نے چیخ چیخ کر اپنی کامیابی کے جھوٹے دعوے کیے اور قوم کو بتایا کہ بھارت کے پائلٹ نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان کا خطرناک طیارہ گرایا۔

ایک روز قبل صحافیوں نے تینوں فوجی ترجمان کی مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی ثبوت مانگے تو ائیرچیف مارشل نے ایک ٹکڑا دکھا کر اسے بطور ثبوت پیش کیا۔ صحافیوں کے سوالات سن کر فوجی حکام یا بھارتی وزرا اس قدر گھبرائے کہ انہوں نے ثبوت فراہم کرنے کے بجائے آئیں بائیں شائیں سے کام لیا اور بات کو گھما کر پیش کرنے کی کوشش کی۔

بھارتی وزیراعظم کی طرح جنگی جنون میں مبتلا میڈیا کے کچھ چینلز نے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری بننتے ہوئے بطور ثبوت نسوار کی تھیلی پیش کردی۔ ایسا ثبوت دیکھ کر بھارتی عوام تو بے وقوف بن گئے مگر عالمی میڈیا میں بھارت کی خوب جگ ہنسائی ہوئی اور دنیا کے باشعور عوام نے ہنس ہنس کر اس ثبوت کا مذاق بنایا۔

نامور بھارتی چینل انڈیا ٹوڈےکےاینکرنے سوشل میڈیا پر وائرل تصویرکو ایف سولہ کا ٹکڑا قرار دینے کی کوشش کی مگر دفاعی تجزیہ کار نے قلعی کھول دی۔