طارق بن زیاد

فاتح اندلس 🐎🐎 طارق بن زیاد ( قسط نمبر_2 )

طارق بن زیاد نے راہب کی روداد سنی اور ظریف بن مالک سے مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے
دونوں یہ فیصلہ کیا ک اس کو موسی بن نصیر کے پاس بیھج دیا جائے اور وہاں سے جو فرمان جاری ہوگا ہم لوگ اس پر عمل کریں گے
چناچہ دونوں راہبوں کو موسی بن نصیر کے پاس بیھج دیا گیا اور ساتھ ان کی ساری روداد لکھ کر بھی بھیج دی گئی

موسی کے پاس پہنچ کر انہوں نے طارق کا لکھا ہوا مراسلہ پیش کیا موسی نے مراسلہ کھول کر پڑھا اور راہبوں سے ہم کلام ہوا
کیا حاکم وقت کو اس وحشیانہ واقعہ کی اطلاع نہیں ہوئی؟
راہب سب کو خبر ہے اور سب کو ہی نہایت رنج وقلق ہے
موسیٰ پهر ایسے ابو الہوس اور بدکار بادشاہ کو معزول یا قتل کیوں نہیں کر دیتے؟
راہب اس لیے کہ سب اس سے ڈرتے ہیں!
موسیٰ اچھا آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟
جولین: صرف یہ کہ آپ اس ظالم سے میرا انتقام لیں
جولین:آپ ایک مظلوم کی حمایت میں تلوار بلند کر رہے ہیں، اس سے زیادہ اور کیا معقول وجہ ہو گی
موسیٰ: یہ تمہارا آپس کا مسئلہ ہے خود ہی طے کر لو!
جولین: اگر ہم طے کر سکتے ہوتے تو تمہارا دروازہ کیوں کھٹکھٹاتے!
راہب: مسلمانوں کا قول ہے کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنا اور مظلوموں کی حمایت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں
موسیٰ:بے شک!
راہب: جو بے عزتی جولین کی کی گئی ہے اس سے کیا وہ مظلوم نہیں سمجھے جاتے؟
موسیٰ:بےشک
راہب: اور رازرق؟
موسیٰ: ظالم ہے
راہب پهر کیا آپ کا یہ فرض نہیں ہو جاتا کہ مظلوم کی حمایت کریں اور ظالم کو کیفرکردار تک پہنچائیں؟
موسی: بےشک میرا یہ فرض ہو جاتا ہے
راہب: تو اللہ کے لیے آپ مظلوم کی حمایت کیجئے اور ظالم کو سزا دیجئے
میں شرافت تہزیب اور انسانیت کے نام پر آپ سے اپیل کرتا ہوں
جولین: اگر آپ نے ہماری امداد نہ کی اور میں اس بدکار و جفا کار سے اپنا انتقام نہ لے سکا تو میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قسم کھاتا ہوں کہ سمندر میں ڈوب کر مروں گا اور میرا خون آپ کی گردن پر ہو گا
موسی یہ سن کر گھبرا گیا اور انہوں نے جلدی سے کہا
میں ان شاءالله تمہاری مدد کروں گا لیکن____
راہب:لیکن کیا؟
موسیٰ:میں محض ایک وائسرائے ہوں،
خلیفہ کا ماتحت میں خود مختار نہیں ہوں، اگر تم پسند کرو تو میں تمام واقعات لکھ کر اعلی حضرت خلیفۂ کے حضور میں ارسال کر کے ان سے لشکر کشی کی اجازت حاصل کر لوں
راہب:نہایت مناسب رائے ہے آپ کی
موسی:اچھا تو میں ابھی لکھتا ہوں
موسی نے اسی وقت ایک عرض داشت لکھی اور اپنے ایک متمد آدمی کو دے کر خلیفہ کی خدمت میں ارسال کر دی
کونٹ جولین اور راہب نے ان کا شکریہ ادا کیا اور اجازت لے کر رخصت ہو گئے
ان کے جاتے ہی موسیٰ اور عبد العزیز آٹھ کر چلے گئے
ان کے جاتے ہی لوگ جوک در جوک اٹھ کر روانہ ہو گئے
عجیب خواب_____
ہر مسلمان، وائسرائے موسیٰ اور دوسرے اراکین سلطنت خوب جانتے تھے کہ خلیفہ ولید بن عبدالملک جس قدر رحم دل فیاض اور سخی ہے، اسی قدر یہ بھی چاہتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں کو کسی بھی طرح کی کوئی تکلیف نہ پہنچے اور اس کے ہمسایہ بادشاہوں اور تاج داروں میں ناچاقی نہ ہو
تمام ممالک میں امن امان قائم رہے
جس زمانے میں بلاد مغرب کے وائسرائے موسیٰ بن نصیر تھے
اسی زمانے میں بلاد مشرق کے وائسرائے حجاج بن یوسف ثقفی تھے
یہ عراق میں رہنے والے تھے اور موسی افریقہ میں
موسیٰ کو معلوم تھا کہ ہندوستان کے چند خود سر راجاؤں نے جزیرہ سراندیپ (لنکا) سے آنے والے مسلمانوں کو قید کر لیا ہے اور حجاج بن یوسف نے خلیفہ ہندوستان پر لشکر کشی کی اجازت لی ہے
موسیٰ کا خیال تھا کہ خلیفہ ہندوستان پر لشکر کشی کی اجازت دے دیں گے کہ وہاں مسلمان قید تھے مگر اندلس پر یورش کی اجازت نہیں دیں گے، کیونکہ وہاں مسلمانوں کا کوئی تعلق نہ تھا بلکہ آپس میں عیسائیوں میں مناقشات تھے
تاہم انہیں کچھ امید ضرور تھی اور وہ اسی امید پر ہی انہوں نے تیاریاں شروع کر دیں تھیں
افریقہ سے اندلس جاتے ہوئے راستے میں سمندر کو بغیر جہازوں کے عبور کرنا ممکن نہیں تھا
بحیرہ روم نے افریقہ کو اندلس سے بالکل جدا کر دیا تھا اور مسلمانوں نے اس وقت سمندر میں جہاز رانی نہیں کی تھی مگر جب کہ اندلس پر چڑھائی کا ارادہ تھا تو یہ ضروری ہو گیا تھا کہ جہاز تیار کروائے جائیں تاکہ بحیرہ روم کو عبور کیا جا سکے
چنانچہ موسیٰ نے جہاز تیار کروانے شروع کروا دئیے تھے
یہ بات نہیں تھی کہ مسلمان جہاز چلانا یا بنانا نہیں جانتے تھے فقط اب تک ضرورت لاحق نہیں ہوئی تھی
چار جہاز تیار کئے جا رہے تھے جو کہ اس قدر بڑے تھے کہ ان میں سے ہر ایک میں دو ہزار آدمی اور اور ان کے کھانے پینے کا پندرہ بیس روز کا سامان با آسانی آ سکتا تھا
جنگ پر جانے کی ہر مسلمان کی تمنا اور خواہش تھی لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ کتنے آدمی بھیجے جائیں گے اور ان کا افسر کون ہو گا
البتہ جہاد کے شائقین نے ابھی سے جہاد پر جانے کے لیے درخواستیں دینا شروع کر دیں تھیں
جو لوگ تجربہ کار تھے اور متعدد لڑائیوں میں لشکر کی قیادت کر چکے تھے انہوں نے افسری کے لیے کہنا اور کوشش کرنا شروع کر دیں تھیں
عام لوگوں کا خیال تھا کہ موسیٰ اپنے بیٹے عبد العزیز کی سر کردگی میں یہ لشکر بھیجے گا-”
لیکن موسیٰ چپ تھے اس لیے کوئی کچھ بھی نہیں کہہ سکتا تھا
علاوہ ازیں جب سے مسلمانوں کو اندلس کے بادشاہ رازرق کی عشرت پسندانہ زندگی کے واقعات کے بارے میں معلوم ہوا تھا وہ سب اس سے بہت ناخوش تھے
اور چاہتے تھے کہ جلد از جلد اسے اس کی بدکاری اور بو الہوسی کی سزا دیں
مسلمان نہ خود بدکار تھے اور نہ دوسروں کو بدکار دیکھنا پسند کرتے تھے گویا وہ نیکو کاری کے ٹھیکیدار تھے
اور چاہتے تھے کہ ساری دنیا انہی کی طرح نیک رہے-”
بدکاری اور بد امنی کا دنیا میں نام تک باقی نہ رہے-”
ایک روز موسیٰ دیوان خانے میں بیٹھے ہوئے تھے اس وقت ان کے پاس کئی معزز اشخاص مثلاً علی بن ربیع طمی ، حیات بن تمیمی ابن عبداللہ ایوب اور عبد العزیز وغیرہ بیٹھے تھے-”
یہ تمام وہ لوگ تھے جو کسی نہ کسی وقت لشکر کی قیادت کر چکے تھے، نیز نہایت مشہور اور شجاع لوگ تھے-
علی بن ربیع طمی نے دریافت کیا-”
آپ نے اس مہم کی افسری کے لیے بھی کوئی شخص تجویز کر لیا ہے؟
مو سی نے جواب دیا ہاں-”
کر لیا ہے ممکن ہے کہ اس کا نام سن کر آپ سب بھی اس کی تائید کریں گے-”
عبد العزیز حضرت میں نے رات کو ایک خواب دیکھا ہے-
موسیٰ:خواب؟ __کیا خواب دیکھا ہے تم نے؟
ابھی عبد العزیز نے اپنا خواب بیان کرنا شروع بھی نہیں کیا تھا کہ کونٹ جولین اور اشببلیا کا راہب دونوں آ گئے
یہ دونوں قیروان ہی میں مقیم تھے اور اکثر موسیٰ کے پاس آتے رہتے تھے
علیک سلیک کے بعد وہ بیٹھ گئے تب موسی نے عبد العزیز سے کہا”-
ہاں بیٹا تم اپنا خواب بیان کرو-”
عبد العزیز:میں نے دیکھا کہ میں بحری سفر کر رہا ہوں اور میرے ساتھ بہت سے آدمی ہیں

یہ بھی پڑھیں:   ہوسکتاہے کہ عمران خان قطر سے آکر آئی جی پنجاب کو عہدے سے ہٹادیں،حامدمیر

ہم سب ایک سر سبز پہاڑ پر جا کر اترے اور پہاڑ کو عبور کر کے بہشت زار میدانوں کو طے کرنے لگے
اس کے نواح میں ہزاروں لاکھوں چڑیاں تھیں جو ہمیں دیکھتے ہی اڑ جاتی تھیں
کبھی کبھی وہ ہمیں چونچیں بھی مارتی تھیں مگر جب ہم ان کی طرف متوجہ ہوتے تو وہ اڑ جاتیں تھیں
میدانوں کے بعد ہم نے آبادیاں بھی دیکھیں، وہ نہایت خوبصورت اور خوش نما تھیں
ایک جگہ ہم جب پہنچے تو ہمارے سامنے ایک چوڑا دریا آ گیا
اس دریا پر ایک اونچا پل باندھا تھا جو نہایت شاندار اور مضبوط اور خوبصورت تھا
اس کے دروازے جن سے دریا بہہ رہا تھا؛ محرابدار اور اونچے اونچے تھے-
میں نے آج تک کسی پل کے اتنے اونچے دروازے نہیں دیکھے!
ہم نے پل کے ذریعہ سے دریا کو عبور کیا اور خوش نما وادی میں جا اترے
اس وادی میں بہت سے کھنڈر تھے اور ان کھنڈرات میں ایک پتھر کا بہت اونچا بت نصب تھا اتنا اونچا کہ اس کے نیچے کھڑے ہونے سے اس کا سر نظر نہیں آتا تھا
ہم سب اس بت کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ اس کی پشت کی طرف سے چند عورتیں آئیں
سب نہایت خوبصورت تھیں اور ریشمی پوشاکیں نیز سونے کے ایسے زیورات جن میں جواہرات جڑے ہوئے تھے پہنے ہوئے تھیں لیکن ان کے درمیان جو عورت تھی وہ ان سب سے زیادہ حسین اور خوبرو تھی نیز اس کی پوشاک بھی ان سب سے زیادہ بیش قیمت اور بھڑک دار تھی
اس کے زیورات آبدار موتیوں اور جواہرات کے تھے مگر وہ ایک طوق پہنے ہوئے تھی جس میں لعل و یاقوت جڑے ہوئے تھے
اس کی چمک سے اس عورت کے رخسار دمک رہے تھے اور اس کا چہرہ چاند سے زیادہ جگمگا رہا تھا
اس عورت نے میری طرف دیکھا اور کچھ اشارہ کیا
میں اس کے پیچھے چل دیا
جب ہم سنگی بت سے زرا فاصلے پر پہنچ گئے تو وہ عورت اور اس کے ساتھ والیاں سب ہنسیں اور میں چونک پڑا
چونکتے ہی میری آنکھ کھل گئی
موسی، راہب، کونٹ جولین نیز تمام لوگ خاموش بیٹھے حیرت بھری نظروں سے عبد العزیز کو دیکھ رہے تھے
وہ سب اس_کو دیکھ اور اس کا خواب سن رہے تھے-
جب وہ خاموش ہوا تو موسی نے کہا! ”
عجیب خواب دیکھا ہے تم نے-”
جولین نے کہا ہاں عجیب خواب ہے زرا ایک بات تو بتائیں؟ ”
عبد العزیز؟ ”
جولین کیا آپ کبھی اندلس گئے ہیں؟
عبد العزیز:کبھی نہیں گیا
موسی:آپ نے یہ سوال کیوں کیا؟ ”
جولین:اس لیے کہ انہوں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اندلس کی سر زمین کے متعلق ہے-”
موسی:کیا وہاں کے پہاڑ اور میدان سر سبز ہیں؟ ”
جولین:جی ہاں حقیقت میں اندلس بہشت کا نمونہ ہے
قدرت نے دنیا کے مختلف حصوں میں جو چیزیں پیدا کی ہیں وہ سب اندلس کو بخش دی ہیں
وہ پھلوں کی بہتات اور آسمان کے صاف رہنے کے لحاظ سے ملک شام ہے
آب و ہوا کی عمدگی کے خیال سے یمن یا عرب کا نخلستان ہے

یہ بھی پڑھیں:   حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی

میوں کی کثرت کی وجہ سے اور تازگی کے اعتبار سے حجاز ہے
زرخیزی اور پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو کے انداز سے ہندوستان ہے
بیش قیمت کانوں کے باعث کیٹے ہے
نیز سمندر کے ساحلوں کی خوش قطع اور فائدہ رسانی کے میں عدن ہے-”
موسی:آپ نے تو اس کی بڑی تعریف کر ڈالی ہے
جولین:وہ ملک ہی تعریف کے قابل ہے مگر آپ کے صاحبزادے نے جو خواب دیکھا ہے، اس نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے
موسیٰ:کیوں؟ ”
جولین: اس لیے کہ انہوں نے کبھی اندلس نہیں دیکھا مگر خواب میں اندلس پہنچ گئے جس بت کا انہوں نے بتایا ہے وہ مریڈا کے کھنڈرات میں ہے نہایت مشہور ہے-
اس کا نام” گلیشا” ہے دنیا بھر میں اتنا بڑا اور اچھا بت کہیں نہیں ہے
موسی: اور وہ عورت؟
جولین: جس عورت کو انہوں نے خواب میں دیکھا وہ شاہ رازرق کی بیوی نائلہ ہے
اس کا طوق دنیا بھر میں بے نظیر ہے اور وہ حسین بھی ایسی ہے کہ جیسا کہ انہوں نے بیان کیا ہے سارے اندلس میں وہ طوق والی حسینہ کے نام سے مشہور ہے
موسی: تعجب ہے میرے بیٹے خواب میں اندلس ہو آئے ہیں-l
عبد العزیز: کیا آپ مجھے بیداری میں اندلس جانے کی اجازت دیں گے؟
موسی: نہیں میں نے اس مہم کے لیے اور ہی بہادر کو منتخب کر لیا ہے
عبد العزیز: نے مایوسی سے کہا اور وہ کون ہے؟
موسی: جب دربار خلافت سے اجازت آ جائے گی تو اس وقت تمہیں اور سب مسلمانوں کو معلوم ہو جائے گا-”
اس وقت ایک خادم نے آ کر اطلاع دی حضور قاصد دمشق سے واپس آ گیا ہے سب یہ خبر سن کر خوش ہو گئے
موسی نے کہا جلدی سے اسے اندر بلاو-”
خادم واپس چلا گیا اور سب بے چینی سے اس کے آنے کا انتظار کرنے لگے-”

یہ بھی پڑھیں:   سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃاللہ علیہ (قسط نمبر2 )

جب قاصد کے آنے میں زرا دیر ہوئی تو ان لوگوں میں قیاس آرائیاں ہونے لگیں
جولین نے کہا کیا آپ کے خیال میں اعلی حضرت خلیفہ المسلمین نے لشکر کشی کی اجازت دے دی ہو گی؟ ”
موسی: میں صحیح طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ایک مہم ہندوستان پر بھیجی جا رہی ہے اور وہ اشد ضروری ہے
جولین: کیوں؟
.موسی: اس لئے کہ سندھ کے مغرور و متکبر راجہ نے چند مسلمانوں کو قید کر لیا ہے
انہیں چھڑانے کے لیے ہندوستان پر لشکر کشی ضروری ہو گئی ہے
جولین: آپ مسلمانوں میں بڑا اتفاق ہے و اتحاد ہے
موسی: کیوں نہ ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے
کل مومن اخواہ
تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں-”
جب ایک بھائی پر مصیبت آئے تو یا اسے تکلیف ہو تو دوسرا بھائی اس سے متاثر نہ ہو گا؟ ”
اور اگر مسلمان کسی مسلمان کو تکلیف اور پریشانی میں دیکھے گا تو اس کی مدد نہیں کرتا تو اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و سلم دونوں ناخوش ہوتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کی ہر ممکن امداد کرنے پر مجبور ہے اور اسی وجہ سے مسلمانوں میں یگانگت اور بھائی چارہ ہے

جولین: ٹھیک فرما رہے ہیں آپ جو محبت جو خلوص اور جو پیار مسلمانوں میں ہے وہ تمام دنیا میں کہیں بھی کسی قوم میں نہیں.
اتنے میں قاصد اندر آ گیا-
اس نے بلند آواز میں کہا السلام علیکم و رحمۃ اللہ-”
موسی نے و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہہ کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا
وہ ایک طرف بیٹھ گیا
موسی نے دریافت کیا-”
کہو اعلی حضرت خلیفہ المسلمین بخیریت ہیں؟ ”
قاصد: جی ہاں اللہ کے فضل و کرم سے.
موسی: اور دوسرے حکومت کے اکابرین ملت-
قاصد: سب خیریت سے ہیں اور سب نے سلام کہا ہے
موسی: و علیکم السلام اور عام مسلمان؟
قاصد: وہ بھی اچھی طرح ہیں مگر ادنی مسلمانوں سے لے کر اعلی تک حتی کہ خلیفہ بھی ان مسلمانوں کی وجہ سے جنہیں ہندوستان کے مغرور راجہ داہر نے قید کر لیا ہے سخت پریشان اور بے قرار ہیں اور سب کی نگاہیں اس مہم پر لگی ہوئی ہیں جو کہ وہاں بھیجی جا رہی ہے
موسی: اچھا میری عرض داشت کا جواب ملا؟
قاصد: جی ہاں-”
موسی: لاو !
قاصد نے خلیفہ کا مراسلہ نکال کر پیش کیا
موسی نے لے کر اول اسے چوما اور پھر کهول کر پڑھا لکھا تھا:::
منجانب ولید بن عبدالملک خلیفہ المسلمین از دمشق بجانب موسیٰ بن نصیر وائسرائے بلاد مغرب:
السلام علیکم و رحمۃ بعد از حمد و صلوٰۃ کے قلمی ہے کہ اسلام اور مسلمان دنیا سے فسق و فجور بدکاری بد امنی کو دور کرنے آئے ہیں اگرچہ ہندوستان کی مہم در پیش ہے مگر اس مہم کی وجہ سے کونٹ جولین کی مدد سے باز نہیں رہ سکتے
وہ مظلوم ہیں اور مظلوم کی حمایت کرنا مسلمان کا اولین فرض ہے
ہم اس مہم کا کلی اختیار تم کو دیتے ہیں تم نہایت ہوشیاری سے اسے شروع کرو
یہاں تجربہ کار لوگوں کو اندلس بھیجو اور کسی ایسے افسر کا انتخاب کرو جو اس مہم کے لیے مناسب اور موزوں ہو
اول اول زیادہ لشکر بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے
تھوڑا سا لشکر بھیجو ضرورت لاحق ہو تو کچھ اور لشکر بھیج دینا
فقط والسلام و رحمۃ اللہ.
اس شاہی مراسلہ کو پڑھ کر اتنی مسرت موسی کو نہ ہوئی ہو گی جتنی یہ سن کر کونٹ جولین اور راہب کو ہوئی-”

راہب نے کہا کہیے اب تو دربار خلافت سے بھی اجازت مل گئی ہے اب کیا ارادہ ہے آپ کا؟ ”
موسی: مجھے صرف اسی کا انتظار تھا خلیفہ نے میری عرض داشت منظور کر لی ہے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے پرسوں جمعہ کی نماز کے بعد ان شاءالله لشکر روانہ ہو جائے گا-” جاری ہے……