صدارتی نظام مستحکم سسٹم ہے،عمران خان

کراچی: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ صدارتی نظام مستحکم سسٹم ہے، جب تک ملک میں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوگی گڈگورننس نہیں ہوسکتی، ہر طرف مافیاز کی اجارہ داری ہے، سب سے بڑا مافیا رئیل اسٹیٹ مافیا ہے۔

یہ بات انہوں نے کراچی میں پی ٹی آئی کے اکنامک سیل کے تحت معیشت کی کارکردگی اور درپیش چیلنجز پر منعقدہ سیمینارسے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کے دوران کہی۔

چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 2018ء میں جب ہم آئے تھے حالات بہت خراب تھے، بڑی مشکلوں سے پہلا ایک سال عبورکیا، اگر سعودی عرب یو اے ای تعاون نہ کرتے تو بقاء مشکل ہوجاتی، کوویڈ میں یورپین ممالک میں لاک ڈاؤن کیا لیکن پاکستان میں نہیں کیا، لاک ڈاؤن لگاتے تو دیہاڑی دار کیا کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس؛ 250 سے زائد مشتبہ مریض معائنے کے لیے پمز پہنچ گئے

انہوں نے کہا کہ ہم نے کنسٹرکشن انڈسٹری کو ترغیبات دے کر روزگار کے مواقع بڑھائے، اپنے دور حکومت میں ہم دہرے بحران سے نکلے تھے، جو رجیم تبدیل کرنے والے تھے کیا انہوں نے بحرانی کیفیت کو محسوس نہیں کیا؟

انہوں نے کہا کہ 1990ء میں آنے والے دو خاندانوں کی وجہ سے معیشت بگڑنے لگی، جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا تب تک سے معیشت کا کوئی جینئس بھی ٹھیک نہیں کرسکے گا، 88 فیصد بزنس مین کا اعتماد حکومت پر نہیں ہے، جب تک الیکشن نہیں کروائیں گے ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں الیکشن مہم چلانے کی ضرورت نہیں ہے یہ کہتے ہیں کہ ہم حکومت میں آنا چاہتے ہیں تو یہ لوگ جان لیں ہم ہی حکومت میں آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   منی لانڈرنگ کیس،نیب نے شہباز شریف کی اہلیہ اور بیٹیوں کو طلب کرلیا

انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام میں استحکام ہے جب تک رولزآف لاء بہتر نہیں ہوگا گڈگورننس قائم نہیں ہوسکتی، ہرطرف مافیاز ہیں، ہم ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹیکس بڑھانا چاہتے تھے لیکن اندر بیٹھے ہوئے لوگ یہ نہیں چاہتے تھے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مافیا رئیل اسٹیٹ مافیا ہے آپ سوچ نہیں سکتے ان کی طاقت کیا ہے؟ پورا ملک دور کی بات، صرف اسلام آباد میں ہی 1200 ارب روپے مالیت کی حکومت کی زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ سارے لوگوں کو اس پر لگانا ہوگا کہ کس طرح ملک میں ڈالرز آسکتے ہیں، بیرون ملک مقیم دس ملین پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے، جو بھی حکومت آئے گی اس کو وہ اقدام لینے ہوں گے جوآج تک نہیں لیے گئے، پانچ سال کے لیے حکومت آنی چاہیے، ایمنسٹی صرف ایک ہونی چاہیے جو انڈسٹری میں پیسہ لگائے گا وہ اپنا بلیک پیسہ وائٹ کرسکتا ہے، ساڑھے 3 سال میں دیکھا سیاحت سمیت مختلف سیکٹرز میں بہت پوٹینشل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں روس سے تیل خریدنا چاہیے تھا، روس سے تیل لینے میں یہ خوف محسوس کرتے ہیں، ہم امریکا کوسستا تیل لینے کے لیے کنوینس کرسکتے تھے۔