طالبان حکومت میں مزید 38 وزرا شامل

کابل: امارت اسلامیہ افغانستان میں طالبان کابینہ میں تیسری بار توسیع کی گئی ہے اور اس بار بھی خواتین، اقلیتوں یا دیگر اقوام کے کسی نمائندے کو شامل نہیں کیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان طالبان اور نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے امارت اسلامیہ افغانستان کی کابینہ میں تیسری توسیع کا اعلان کیا ہے۔ جس میں وزیر اعظم کے سیاسی نائب، نائب وزراء اور افغان ہلال احمر سوسائٹی کے نائب سربراہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   طالبان حکومت کا ساتھ دینے کےلیے تیار ہیں، چین

نائب وزیراطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے 38 نئے وزرا کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ مولوی عبدالکبیر کو ایڈیشنل ڈپٹی پرائم منسٹر کو عہدہ دیا گیا ہے۔ اس کےعلاوہ نائبین کی کابل، ہلمند، ہرات اور قندھار کے لیے تقرری کی گئی ہے جن میں بیشتر وزارت دفاع اور آرمی سے متعلق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   طالبان کے ہاتھ 85 ارب ڈالر کا جنگی ساز و سامان لگا

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے مزید بتایا کہ نئے وزرا بھی عبوری حکومت کا حصہ ہوں گے تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ عبوری حکومت کی مدت کیا ہے اور اس کے بعد انتخابات کرائے جائیں گے یا حکومت کے چناؤ کے لیے کوئی دوسرا نظام لایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   چمن سےمتصل افغان سرحد پر طالبان کا قبضہ

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے کئی بار وعدوں کے باوجود تاحال عبوری حکومت میں خواتین، اقلیتوں اور دیگر اقوام کے نمائندوں کو شامل نہیں کیا گیا جس پر طالبان کو عالمی قیادت کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔