نیوزی لینڈٹیم کی واپسی کے بعد سری لنکن ٹیم پاکستان آنے کو تیار

کولمبو: 2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشتگرد حملے کی وجہ سے تقریباً ایک دہائی تک پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کیلیے نو گو ایریا بن گیا.

انٹرنیشنل کرکٹ کی سرگرمیاں شروع کرنے میں سری لنکا نے بھی ایک سچے دوست کی طرح اپنا کردار ادا کیا، اب جب نیوزی لینڈ کی ٹیم سیکیورٹی تھریٹ کے نام پر پاکستان کرکٹ کو بیچ منجھدار میں چھوڑ کر گئی تو ایک بار پھر آئی لینڈ بورڈ اپنی مکمل سپورٹ کے ساتھ سامنے آگیا۔

یہ بھی پڑھیں:   سیاسی حریف کٹھ پتلی کوگرانےمیں سنجیدہ نہیں، بلاول زرداری

ایس ایل سی کے سیکریٹری موہن ڈی سلوا نے کہاکہ نیوزی لینڈ کی جگہ ہمیں ٹور پر بلایا گیا تو ٹیم کو بھیجنے پر سنجیدگی سے غورکریں گے، انھوں نے کہاکہ پی سی بی سری لنکن بورڈ کا ایک انتہائی بہترین دوست ہے، مجھے نیوزی لینڈ کا ٹور ختم ہونے کا بہت افسوس ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:   منی بجٹ، فواد چوہدری نے کل کے دن کوحکومت کیلئے اہم قراردیدیا

انہوں نے کہا کہ میں بڑے فخر کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ 2019 میں ٹیم بھیجنے سے قبل خود پاکستان گیا اور سیکیورٹی کا معائنہ کیا، وہاں پر واقعی ایک انتہائی ناقابل یقین سیکیورٹی حصار تھا، ان کے پاس تمام جدید ترین سیکیورٹی سسٹم موجود ہے، وہاں پر سیکڑوں کیمرے نصب اور کوئی بھی آدمی بچ کر نہیں نکل سکتا، اس لیے میں تو پاکستان کی سیکیورٹی پر مکمل اعتماد کرتا ہوں، اگر ہمیں دعوت ملی تو اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   جنوبی افریقا کو تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شکست

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان یہ کہہ چکے کہ ہوم سیریز کیلیے بنگلہ دیش اور سری لنکا سے رابطہ کیا گیا وہاں سے مثبت جواب کے باوجود لاجسٹک مسائل کی وجہ سے فوری طور پر ٹور ممکن نہیں ہے۔