امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، وزیراعظم

اسلام آباد: یوم ِدفاع وشہداء کے موقع پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پیغام میں کہا ہے کہ 1965ء میں جب دشمن نے ہماری آزادی اور بقاء کو پامال کرنے کی کوشش کی تو پاکستانی قوم مضبوط چٹان کی طرح اس کے سامنے ڈٹ گئی۔ 6 ستمبر کو ہندوستان نے پاکستان پر غیراعلانیہ جنگ مسلط کی تو پوری قوم محافظان وطن کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئی، بہت سے لوگ نہتے پیدل ہی سرحدوں کی جانب چل پڑے۔

عمران خان نے کہا کہ 6 ستمبر کا عظیم دن، ہر سال ہمیں اپنے ہیروز، مسلح افواج کے جانبازوں اور خاص طور پر ان شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو ہمیشہ سے قوم کی امید اور فخررہے ہیں۔ ہم وطن کی سلامتی اور تحفظ کے لئے اپنی قیمتی جانیں قربان کرنے والے قوم کے ان بہادر بیٹوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ہم شہداء کی فیملیز کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو مادرِ وطن پر نچھاور کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:   عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ واپس

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دشمن نے کبھی بھی پرامن بقائے باہمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک اس نے پاکستان پر کئی جنگیں مسلط کی ہیں۔ 1948ء، 1965ء یا 1971ء ہویا دو دہائیوں پر محیط دہشت گردی کے خلاف جنگ،پاکستان کے اندر تخریبی سرگرمیاں ہوں یا پھرسائبر وار فیئرکے ذریعے پراپیگنڈہ، دشمن ہمارے خلاف کارروائیاں کرتا چلا آرہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پی ٹی آئی مشرف کی شیڈو حکومت ہے، عمران خان کی تبدیلی میں ایک روپے کی چیز پانچ کی ہوگئی، پیپلز پارٹی

وزیراعظم نے کہا کہ بد قسمتی سے ماضی میں ہندوستان،افغان سر زمین کو پاکستان میں بد امنی اور دہشت گردی کی کاروائیوں کے لیے استعمال کرتا رہا۔ اقوام عالم کو اس جارحانہ رویئے پر ہندوستان کو ذمہ دار ٹھرانا چاہیئے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ہندوستان کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ دنیا جان گئی ہے کہ کس طرح وہ علاقائی اور خاص طور پر پاکستان کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ہم ہندوستان کا انتہاپسندانہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے رہیں گے۔ عالمی برادری کے معتبر حلقے، امن کی خاطر کی جانے والی ہماری کوششوں کو تسلیم کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   منی لانڈرنگ قومی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک جرم قرار، وزیر اعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرلیا

عمران خان نے مزید کہا کہ ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے، بلکہ اس خطے کے لوگوں کی خوشحالی اوربہتری کیلئے اس کا جواب اسی مثبت انداز میں دیاجانا چاہئے۔