سیب اور ناشپاتی کھانے سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، تحقیق

آئرلینڈ: پھلوں اور سبزیوں کے صحت پر اثرات سے تو ہم سب واقف ہیں لیکن بعض اقسام کے پھل جن میں سیب، بیریاں، ناشپاتی اور دیگر پھل شامل ہیں وہ بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں بہت مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ پھل اینٹی آکسیڈنٹس اور فلے وینوئڈز سے بھرپور ہوتے ہیں جن کی بدولت وہ امراضِ قبل سرطان اور ذیابیطس سے بھی بچاتے ہیں۔

اگرچہ ان پھلوں کی افادیت بھی سامنے آتی رہی ہے لیکن ایک نئی تحقیق نے اس حقیقت کو مزید تقویت بخشی ہے۔ اب یہ تحقیق بتاتی ہے کہ ہمارے معدے اور آنتوں میں رہنے والے خردنامیے اور مختلف اقسام کے بیکٹیریا فلے وینوئڈز سے عمل کرکے بلڈ پریشر قابو میں رکھتے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ بعض فلے وینوئڈز دل کے لیے مفید کیوں ہوتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   بجلی کے جھٹکوں سے کمر کے درد کا خاتمہ ممکن

شمالی آئرلینڈ میں واقع کوئنزیونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تحقیق بتاتی ہے کہ فلے وینوئڈز کے انجذاب اور بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں معدے کے خردنامئے اہم کردار ادا کرتےہیں۔ اس طرح فلے وینوئڈز کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر کو کم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

بلیوبیری، اسٹرابری اور دیگر اقسام کی بیریوں کی روزانہ 80 گرام مقدار کھائی جائے تو اس سے چار درجے بلڈ بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ نارمل بلڈ پریشر کی پیمائش 120 اور 80 ہوتی ہے اور 140 سے 90 ایم ایم کو بلڈ پریشر کی بلند مقدار قرار دیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت غلط فہمی میں نہ رہے، ہم آخری دم تک لڑیں گے، وزیراعظم

کوئنز یونیورسٹی میں غذائیت کی ماہر پروفیسر ایڈن کیسیڈی کہتی ہیں کہ ’اینتھوسیانِنس‘ ایک قسم کے فلے وینوئڈز ہوتے ہیں جو بلڈ پریشر کو معمول پر رکھتے ہیں۔ کئی پھلوں کے نیلے اور سرخ رنگوں میں یہ خاص فلے وینوئڈز پائے جاتے ہیں، جن میں بلیک بیری، بلیو بیری، سرخ انگور اور دیگر پھل شامل ہیں۔

معدے کے بیکٹیریا انہیں سادہ اجزا میں تقسیم کرتے ہیں اوریہ دل کے لیے بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک جانب تو یہ خود آنتوں کے بیکٹیریا پرمثبت اثر ڈالتے ہیں تو دوسری جانب انہی بیکٹیریا کی بدولت بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، طالبان

اس مطالعے میں 904 افراد کو شامل کیا گیا ہے جن کی عمریں 25 سے 82 برس تھی جن کا طبی ڈیٹا بیس جرمنی کے بایوبینک میں تھا۔ ان تمام افراد سے 112 اقسام کے کھانوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔

شریک افراد سے ان کے کھانے پینے ، سونے اور دیگرمعلومات کی بابت پوچھا گیا اور دن میں کئی مرتبہ ان کے بلڈپریشر ٹیسٹ کئے گئے۔ ان میں سے جن افراد نے سیب، ناشپاتی اور بیریاں کھائی تھیں ان میں بلڈ پریشر کی سطح معمول پر دیکھی گئی۔