افغان فوج لڑنا نہیں چاہتی تو اس میں امریکا کچھ نہیں کر سکتا، جوبائیڈن

کابل: امریکا نے ملبہ افغان سیاسی اور فوجی قیادت پر ڈال دیا۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوجوں کے انخلا کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فوج لڑنا نہیں چاہتی تو اس میں امریکا کچھ نہیں کر سکتا، ہم نے انہیں ہتھیار اور 20 سال تک ہر طرح کی تربیت دی، افغان فوجیوں کی تنخواہیں تک ہم ادا کرتے رہے۔

طالبان نے سرکاری ملازمین سے کہا ہے کہ تمام ملازمین معمول کی زندگی کا اعتماد کے ساتھ آغاز کریں اور کام پر واپس آ جائیں، انہیں ان کی تنخواہیں دی جائیں گی اور کچھ نہیں کہا جائے گا۔ کابل میں حالات معمول پر آرہے ہیں، کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   13 نومبر کو وائٹ ہائوس میں ترک صدر کا بے چینی سے منتظر ہوں:ٹرمپ

امن کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی موجودہ صورت حال خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔عالمی رہنما افغانستان میں پیدا ہونے والی صورت حال پر فوری کارروائی کریں۔

کابل ایئر پورٹ امریکی فوج کے کنٹرول میں ہے اور ہوائی اڈے کو آپریشنل کردیا گیا ہے، جس کے بعد بڑی تعداد میں غیر ملکی سفارت کار اور شہری فوجی طیاروں کے ذریعے افغانستان چھوڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   روس اور امریکہ کے درمیان جنگ کا خطرہ ، امریکی فوجی ہائی الرٹ

بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات سفیروں اور سفارت خانے کے افسروں سمیت تمام عملے کو افغانستان سے نکال رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹونی جے بلنکن نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ٹیلی فون کیا اور دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے کوششوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں امریکہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   چینی صدر نے 400 کرپٹ افراد کو جیل بھیجا کاش میں 500 کو بھیج سکتا، وزیر اعظم

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینتونیو گتیرس نے کہا ہے کہ افغان عوام کی نئی نسل، خواتین، بچیوں، بچوں اور مردوں کے خواب ادھورے نہیں رہنے چاہئیں۔