قومی اسمبلی میں بلاول اور شاہ محمود کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایک دوسرے کے ماضی کے حوالے سے جملے کسے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی ن کہا کہ قوم کے 172 نمائندوں نے بجٹ کے حق میں ووٹ دیا، ووٹ کو بالکل عزت دینی چاہیے، اپوزیشن کی طرح حکومت والے بھی ووٹ لے کر آئے ہیں، بلاول بھٹو زرداری نے رولز کی بات کی، رولز کے مطابق اسپیکر کی ذات پر حملہ نہیں کیا جاسکتا، اسپیکر سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر چیمبر میں جا کر بات ہوتی ہے، ایک سابق وزیر اعظم سب کے سامنے اسپیکر کو دھمکی دیتا ہے، سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو تقریر کرنے کا موقع نہ دیا، سندھ کا وزیر خزانہ بجٹ بحث سمیٹے بغیر چلا گیا، کیا سندھ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن سے ہے، یہ آئینہ دکھاتے ہیں دیکھتے نہیں ہیں۔ شورشرابےاورغل غپاڑے سے ہمیں دبایا نہیں جاسکتا،اگر عمران خان نہیں بولے گا تو بلاول اور شہباز بھی نہیں بولیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف کے دل میں تکلیف، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں طبی معائنہ

شاہ محمود قریشی کے جواب میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے دھواں دار تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ملتان کے وزیر نے میرا بار بار نام لیا لیکن میں ان کا نام نہیں لوں گا، کیوں کہ میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ کس شخصیت کے مالک ہیں، اور بہت جلد وزیراعظم عمران خان کو بھی پتہ چل جائے گا کہ یہ کیا چیز ہیں۔ ان کا نام اس لئے نہیں لوں گا کہ میں ان کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور ان کی میرے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ یہ وہ شخص ہے جس نے کشمیر کا سودا کیا۔ یہ وہی ملتان کے وزیر ہیں جن کو جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے دیکھا، اسی وزیر کو”اگلی باری پھر زرداری کہتے”دیکھا، یہی وزیر پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر رہا، خان صاحب نہیں سمجھ سکیں گے کہ یہ کیا چیز ہیں، لیکن ان کو پتہ چل جائےگا، یہ اس حکومت کے لیے خطرہ بننے والے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اپوزیشن عدم اعتماد کا ہتھیار استعمال کرکے حکومت ختم کرسکتی ہے، بلاول زرداری

بلاول بھٹو کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں بھی بلاول کو اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ چھوٹے سے بچے تھے، جب ہم بات کرتے تھے تو یہ کھڑکی پر کھڑے ہوکر خوش ہوا کرتے تھے، آج اس بچے کو تقریریں لکھ کر دے دی جاتی ہیں اور وہ بھی پڑھ کر سنا دیتے ہیں، میں بلاول بھی پاپا کو بھی جانتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہیں۔

شاہ محمود قریشی کے جواب میں ایک بار پھر بلاول بھٹو نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ عمران خان یہاں آکر تقریر کریں میں بیٹھا ہوں، دیکھتا ہوں وہ کیسے تقریر کرتے ہیں، بات مکمل کرنے دیں، میں نے اچھی ڈیل آفر کی ہے، رولز پر چلیں، آپ کے وزیراعظم کی بات سنیں گے۔ فاضل ممبر آف ملتان کے ساتھ رہنے والے ابھی نہیں جانتے کہ کیا ہیں اور اپنے مطلب کے لئے کیا کرسکتے ہیں، ہم نے انہیں اپنی جماعت سے اس لئے نکالا تھا کہ یہ کہتے تھے کہ یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنانے کے بجائے مجھے وزیراعظم کا عہدہ دیا جائے، یہ لابنگ کرتے ہیں، وزیراعظم کو آئی ایس آئی کو کہنا چاہیے کہ وزیر خارجہ کے فون ٹیپ کرے۔

یہ بھی پڑھیں:   کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے وفاقی کابینہ میں موجود تین وزراء4 کو فارغ کرے، بلاول بھٹو زرداری

بلاول کے وزیراعظم کے مطالبے کے جملے پر شاہ محمود قریشی غصے میں آگئے اور کہا بچے تم سہمے ہوئے ہو اور ابھی بچے ہو تمہیں حقیقت کا علم نہیں، جاؤ پہلے تحقیق کرلو کہ میں نے تمہاری جماعت کیوں چھوڑی، یہ پرچی لے کر آتے ہیں، چابی لگتی ہے اور آٹو پر لگ جاتے ہیں، ابھی وقت لگے گا بچے، بچہ پریشان ہو گیا ہے،