سعودی عرب:ام جرسان غارمیں 7 ہزار سال پرانی ایک نئی دریافت

سعودی عرب کی ہیریٹیج اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ماہرین آثار قدیمہ اور فوسلز اتھارٹی نے سعودی جیولوجیکل سروے اتھارٹی ،شاہ سعود یونیورسٹی ، اور جرمنی کے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے مدینہ منورہ کے علاقے خیبر میں واقع ام جرسان غار میں ایک نئی دریافت کی ہے جس کے بارے میں بین الاقوامی آثار قدیمہ جریدے ’ Archaeological and Anthropological Sciences‘ میں عن قریب ایک تفصیلی مضمون شائع کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام آباد : پاک بھارت کشیدگی کے باوجود سعودی عرب کی اہم شخصیت آج پاکستان پہنچے گی، پاکستانی قیادت سے اہم معاملات زیرگفتگو لائے جائیں گے


ام جرسان غار کے اندر نشانات اور جیواشم کی باقیات پائی گئیں۔ جب ان کا ریڈیو کاربن ٹیکنالوجی کے ذریعے تجزیہ کیا گیا تو یہ 7000 سال سے زیادہ قدیم بتائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اس جنگلی اور پالتو جانوروں گھوڑے اور گدھے سمیت دسیوں جانوروں کی ہڈیاں پائی گئی ہیں۔ وہاں سے ملنے والی ہڈیوں میں اونٹ، بکرے اور گائے کی ہڈیاں وقت گزرنے کے باوجود اچھی حالت میں موجود ہیں۔ یہاں قریبی قبرستان سے انسانی کھوپڑیاں بھی ملی ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ یہ زمانہ قبل از تاریخ کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکا کا سعودی عرب میں جی 20 اجلاس کے بائیکاٹ کا مطالبہ

تحقیقی ٹیم ڈی این اے کے لیے ہڈیوں کا معائنہ کرنے کے ساتھ جزیرہ نما عرب میں جانوروں کی تاریخ اور ان کی پرورش کی تاریخ کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کے ہیری ٹیج کمیشن کے ذریعے سامنے آنے والی ان دریافتوں سے ظاہرہوتا ہے کہ جزیرۃ العرب کا خطہ ہزاروں سال سے انسانی اور حیوانی زندگی کا مسکن رہ چکا ہے۔ ہزاروں سال پہلے بھی یہاں پر لوگ پالتو جانور رکھتے اور ان سے کام لیتے تھے۔