ملک میں آٹے کا بحران سنگین ہونے کا خطرہ

لاہور: فلور ملز ایسوسی ایشن نے ہڑتال شروع کردی اور ملک بھر میں آٹے کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

وفاقی وزارت خزانہ اور فلورملز کے درمیان گندم سے نکلنے والے چوکر پر سیلز ٹیکس میں اضافے کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا ہے، اور فلور ملز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں مرحلہ وار ہڑتال کا اعلان کردیا ہے.

فلو ملز ایسوسی ایشن کے مطاق تین روزہ علامتی ہڑتال کے تحت آج سے ملک بھر میں فلورملز گندم کی واشنگ نہیں کریں گی، 24 اور 25 جون کو آٹے کی پسائی روک دی جائے گی، اور اس کے بعد بھی اگر حکومت کی جانب سے ٹیکس واپس نہیں لیا جاتا تو 30 جون سے ملک بھر کی فلورملزغیر معینہ مدت تک مکمل ہڑتال کریں گی جس میں سہولت بازاروں، اتوار بازاروں سمیت اوپن مارکیٹ میں آٹا سپلائی نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   گندم کی عالمی منڈی میں قیمت کم، پاکستان کو 9 ارب روپے کی بچت

فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں غذائی اشیاء پر ٹیکسز نہیں لگائے جاتے اور پاکستان میں اس کے برعکس ٹیکسز میں کٹوتی کی بجائے اضافہ کردیا گیا ہے، فنانس بل میں گندم کے چوکر کی سیل پر 17 فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس کا نفاذ کیا گیا ہے، سال 2015 میں بھی گندم کے چوکر کی سیلز پر سیل ٹیکس کا نفاذ کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں فلور ملنگ انڈسٹری کے احتجاج پرعوام کو سستے آٹے کی فراہمی کیلئے ختم کر دیا گیا۔ 2019 کے بجٹ میں سیلز ٹیکس کا استثنیٰ ختم کرکے دوبارہ سے گندم کے چوکر کی سیلز پر 7 فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس کا نفاذ کر دیا گیا جو ایوان وزیر اعظم میں ایف بی آر کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے بعد واپس لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   خدیجہ صدیقی کیس میں مجرم شاہ حسین کی بریت کا فیصلہ کالعدم ، 5 سال قید کی سزا

عاصم رضا کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے مجوزہ فنانس بل میں گندم کے چوکر پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح7 فیصد سے بڑھا کر17 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ٹیکس کا نفاذ آٹے کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہو گا، کیوں کہ چوکر گندم کا بائی پراڈکٹ ہے، گندم اور گندم کی مصنوعات پر سیلز ٹیکس نہیں ہے، قانونی طور پر کسی بھی چیز کی بائی پراڈکٹ پر سیلز ٹیکس نہیں لگایا جاسکتا۔ اس بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی واضع رولنگ موجود ہے۔

چیئرمین فلور ملز نے مزید کہا کہ چوکر کی سیلز کا کوئی باقائد ہ میکنزم موجود نہیں، گندم کے چوکر کے زیادہ تر خریدار مال مویشی پالنے والے ہیں کیونکہ چوکر جانوروں کی غذا ہے، اس صورت حال میں ممکن نہیں کہ فلور ملز چوکر کے خریدار سے سیلز ٹیکس وصول کر سکیں، لامحالہ سیل ٹیکس کے نفاذ کے بعد گندم کے آٹے کے نرخوں میں اضافہ ہو گا، اس وقت ملک بھر میں فلورملز روزانہ 15 لاکھ سے زائد بیس کلو آٹا والے تھیلے فروخت کرتی ہیں اور یہی 20 کلوگرام کا تھیلا 55 سے 60 روپے مہنگا ہو جائے گا۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ گندم کے چوکر کی سیل پر سیلز ٹیکس کا نفاذ ختم کیا جائے۔ مطالبات پورا نہ ہونے کی صورت میں 30 جون سے ملک بھر میں مکمل ہڑتال کی جائے گی۔