تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کی نظر بندی، ملک کے مختلف شہروں میں دھرنا، بدترین ٹریفک جام

لاہور: تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کو نظر بند کردیا گیا ہے، ڈی سی لاہور نے ان کی نظر بندی کے احکامات جاری کئے ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک کے سربراہ سعد حسین رضوی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جس کی پرزور مذمّت کرتے ہیں، حکومتی اوچھے ہتھکنڈے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے اور وزیراعظم معاہدے کی پاسداری کریں۔ تحریک لبیک پاکستان مجلسِ شوریٰ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل طے کریں گے۔ کارکنان حوصلے بلند رکھیں۔

واضح رہے کہ سعد حسین رضوی کی نظر بندی سے قبل تحریک لبیک پاکستان نے فرانس کے سفیر کی ملک بدری اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے معاملے پر ناموس رسالتﷺ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ تحریک لبیک پاکستان نے مارچ کا فیصلہ مرکزی شوری کے اجلاس میں کیا، 21 رکنی مرکزی مجلس شوریٰ نے اتفاق رائے سے ناموس رسالتﷺمارچ کا اعلان کیا، ناموس رسالت مارچ کا آغاز 20 اپریل کی رات مولانا خادم حسین رضوی کی آخری آرام گاہ پر فاتحہ خوانی سے ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   نئی گنج ڈیم کی تعمیر ،وزراءکی عدم پیشی پر چیف جسٹس برہم، وزیر خزانہ فوری طلب

ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی نے کہا تھا کہ حکومت نے علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ 16 نومبر 2020 کو معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق 3 ماہ میں گستاخ فرانسیسی سفیر ملک بدر اور فرانس کا مکمل بائیکاٹ کرنا تھا لیکن تکمیل معاہدے کے لئے 20 اپریل تک کی مزید مہلت لی گئی۔ معاہدے کی ڈیڈ لائن کا اعلان وزیراعظم پاکستان نے خود میڈیا پر کیا، اب اگر 20 اپریل تک فرانس کا سفیر نہ نکلا تو ناموسِ رسالت مارچ ہو گا، 20 اپریل رات 12 بج کر 1 منٹ پر علامہ خادم حسین رضوی کے مزار سے مارچ کا آغاز ہو گا، اہلیان پاکستان تمام وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ناموس رسالت مارچ کا حصہ بنیں۔

دوسری طرف حکومت تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو قرارداد کی شکل میں اسمبلی میں پیش کرنے کی تیاری کررہی ہے۔چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر مذہبی امور پیرنورالحق قادری سمیت دیگر وزرا سے ملاقات میں ہدایت کی تھی کہ فرانس کے سفیرکوملک بدر کرنے اور مصنوعات کے بائیکاٹ بارے تحریک لبیک سے طے پانے والے معاہدے کو قرارداد کی شکل میں اسمبلی کے سامنے رکھے۔

یہ بھی پڑھیں:   حج کے دوران 78 کیٹرنگ کمپنیاں حجاج کو 12 لاکھ کھانے فراہم کریں گی

جبکہ مظاہرین نے موٹروے 22 مقامات سے بند کردی ہے۔ موٹر وے پولیس کے مطابق مظاہرے کی وجہ سے ٹیکسلا سے کھاریاں، گجرات سے کھاریاں اور گجر خان سے کھاریاں تک جی ٹی روڈ بند ہے۔ راولپنڈی سے پشاور، سدہوک، اور لاہور اوکاڑہ سیکشن مولان والا بائی پاس سے بند ہے۔

تحریک لبیک کے کارکنوں کا پاکستان کو آزادکشمیر سے ملانے والے منگلاپُل کو بھی بند کرنے کا فیصلہ، کارکنان ریلی کی شکل میں چوک شہیداں سے منگلا کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔

ٹی ایل پی کارکنان نے کراچی میں بھی نمائش چورنگی، بلدیہ ٹائون، ٹاور، فرانسیسی سفارت خانہ کلفٹن، فریسکو چوک، جامع کلاتھ، ایئر پورٹ ناتھا خان پل، فائیو اسٹار چورنگی، کورنگی 4 نمبر، سہراب گوٹھ، گورنر ہائوس، ملیر،بن قاسم ٹائون اور پریس کلب کے سامنے دھرنا دینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ جب کہ لاہہور میں بھی 23مقامات پر دھرنا جاری ہے ۔ ٹی ایل کی جانب سے کراچی، لاہور راولپنڈی و اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر دھرنے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جوہر ٹاؤن دھماکے کا ایک ملزم گرفتار

دریں اثنا جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ سعد رضوی کی گرفتاری کی شدید مذمت ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ’ناموس رسالت اور ناموس صحابہ امت مسلمہ کا اثاثہ ہے، بیرونی دباؤ پر ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کی مخالفت کرنے والوں کو گرفتاریوں سے نہیں ڈرایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ سعد رضوی کی بلاجواز گرفتاری حکومت کا شرمناک اقدام ہے، اگر انہیں رہا نہیں کیا گیا تو احتجاج کی کال دیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے تحریک لبیک پاکستان کے احتجاجی مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نالائق حکمرانوں کے فیصلے ملک کو انارکی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔