سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے سے دلی خوشی ہور ہی ہے، وزیراعظم

لاہور: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے سے دلی خوشی ہور ہی ہے۔

لاہور میں سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کامشکور ہوں، سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے سے دلی خوشی ہور ہی ہے، گزشتہ ایک سال سے قطر سے معاہدے کی کوشش کررہے تھے، آج پاکستان اور قطر میں ایل این جی معاہدہ طے پا گیا، جس سے پاکستان کو سالانہ 300 ملین ڈالر کا فائدہ ہوگا، اس کی بھی مجھے انتہائی خوشی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں پرانی باتیں نہ کریں لیکن گزشتہ 10 میں ملک جس طرح قرضے میں ڈوبا، ماضی میں معاشی نظام کو صحیح سمت نہیں رکھا گیا، قرضوں کے باعث روپے کی قیمت پر دباؤ آیا اور مہنگائی ہوگئی، ہم گزشتہ حکومتوں کے لئے ہوئے قرضوں کی قسطیں ہی ادا کررہے ہیں، اب ہر سال ہم پر قرضوں کی قسطیں بڑھتی جارہی ہیں۔ مشکل وقت سے نکلنے کیلئے ملک کو آگے سوچنا پڑتا ہے، آؤٹ آف دی باکس کا مقصد پرانی سوچ سے باہر نکلنا ہے، سب سے پہلے آمدنی بڑھانی ہے اور خرچے کم کرنے ہیں، ہم نے اخراجات کم کیے ہیں اور مزید کم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان مسلم لیگ ن یہ ملک کسی اناڑی کے حوالے نہیں کرے گی، مریم اورنگزیب

عمران خان نے کہا کہ لاہور بہت تیزی سے پھیلا ہے،یہاں پانی کا بڑا مسئلہ ہوگا، لاہور پھیلتا جارہا ہے اسے روکنے کےلیے ورٹیکل اوپرجانا پڑے گا، ایئر پورٹ اور فلائنگ کلب شہر کے اندر نہیں ہوتا، وفاقی حکومت نے والٹن ایئرپورٹ کےلیے الگ جگہ دےدی ہے، راوی سٹی اور والٹن ایئرپورٹ منصوبہ پاکستان کےلیے ویلتھ جنریٹ کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   پرنسپل انفارمیشن آفیسر میاں جہانگیر اقبال کے والدمیاں محمد اقبال وفات پا گئے

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کہا جارہا ہے یہاں درخت کٹ رہے ہیں، کسی نے آج تک پاکستان میں درخت لگانے کا نہیں سوچا تھا، پاکستان میں بڑے بڑے جنگل ختم ہوگئے، جنگلوں کی زمینوں پر قبضے ہوگئے، پہلی دفعہ درخت لگانے اور شجرکاری مہم کا ہم نے سوچا، سب سے پہلے ملک میں شجرکاری مہم شروع کی اور کے پی میں درخت لگائے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ماحولیات دان خود کو سمجھتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس کی بھارتی قسم سب سے زیادہ خطرناک ہے، وزیراعظم

عمران خان نے کہا کہ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں اوورسیز پاکستانی سرمایہ کاری کرتے ہیں، میں ہمیشہ کہتا ہوں ہمارا سب سے بڑا اثاثہ اوورسیز پاکستانی ہیں، راوی اربن پراجیکٹ اور اس منصوبے میں اوورسیز کا بڑا انٹرسٹ ہے، اس کے علاوہ پہلی بارملکی تاریخ میں کوشش ہورہی ہے تنخواہ دار کےلیے گھر بنائے جائیں ، پوری کوشش کررہے ہیں بینک چھوٹے ملازمین کو قرض دیں ، کوشش ہے جو لوگ ماہانہ کرایہ دیتے ہیں وہ قسطوں پر گھر حاصل کریں۔