فرانسیسی مصنف نے چین سے متعلق مغربی میڈیا کے جھوٹ بے نقاب کردیئے

بیجنگ: معروف فرانسیسی مصنف میکسم ویواس نے حال ہی میں ’’ویغور قومیت سے متعلق جعلی خبریں‘‘ کے عنوان سے ایک نئی کتاب تحقیقی کتاب شائع کی ہے۔

اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں: ’’میں نے سنکیانگ میں بہت سارے ویغور لوگوں کو دیکھا اور بہت سی مساجد بھی دیکھیں۔ میں نے اسکول میں ایک استاد کو چینی اور ویغور زبان کی تعلیم دیتے ہوئے دیکھا۔ میں نے باورچیوں کو حلال کھانا بناتے ہوئے دیکھا۔ یورپ میں ویغوروں کی نسل کشی کی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں۔ لیکن جب آپ واقعی سنکیانگ آئیں گے، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ سنکیانگ میں قطعی طورپر ایسا نہیں ہوا تھا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   ٹرمپ کورونا میں مبتلا

حال ہی میں سنکیانگ میں ’’چینی کمیونسٹ پارٹی کی کہانی‘‘ کے عنوان سے ایک ویڈیو کانفرنس میں شریک، عراقی کردستان کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری کاوا محمود نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں مختلف ممالک کے اقدامات ایک جیسے نہیں، ’’میرے خیال میں سنکیانگ میں اپنائے گئے متعلقہ اقدامات سب سے زیادہ کامیاب ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   سعودی عرب اقوام متحدہ کا الیکشن ہار گیا

انہوں نے تائید کی کہ مغربی میڈیا رپورٹس میں سنکیانگ کے بارے میں سنسنی خیز دعوے خالصتاً بدنیتی پر مبنی سیاسی تشہیر ہیں اور حقائق کے مکمل منافی ہیں۔ گزشتہ چند سال میں 100 سے زائد ممالک کے 1200 سے زیادہ سفارت کاروں، صحافیوں اور مذہبی شخصیات نے سنکیانگ کا دورہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میزائلوں کے تجربات میں ناکامی کے پیچھے امریکا کا ہاتھ، ایران نے امریکہ پر الزام عائد کردیا

چینی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ چین، سنکیانگ کے دورے کےلیے آنے والے مزید غیر ملکیوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ’’جو کچھ یہ غیرملکی دوست دیکھیں گے اور سنیں گے، وہ ثابت کردے گا کہ مغربی میڈیا کی طرف سے سنکیانگ کے حوالے سے جعلی خبریں خود کو دھوکہ دینے والے لطیفے کے سوا کچھ نہیں ہیں۔‘‘