کرپشن کرنے والے کہتے ہیں ہمیں این آراودےدو، عمران خان

Spread the love

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گائے بھینس چوری کرنے سے ملک تباہ نہیں ہوتا بلکہ وزیراعظم اور وزرا کی چوری سے ملک تباہ ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں علما و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اربوں روپےکی کرپشن کےکیس والےکہتے ہیں ہمیں این آراودےدو۔ غریب جس پربھینس چوری کا کیس ہووہ جیل میں سڑتا ہے۔ گائے، بھینس چوری کرنے سے ملک تباہ نہیں ہوتا، وزیراعظم کی چوری سے ملک تباہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پی ٹی اے کا گوگل اوروکی پیڈیا کو گستاخانہ مواد پھیلانے پرنوٹس

پاکستان بنانےمیں علماومشائخ کااہم کردارہے۔ دنیاکی تاریخ میں پاکستان واحدملک ہےجواسلام کےنام پربنا۔ قائداعظم پاکستان کوبطوراسلامی فلاحی ریاست دنیاکارول ماڈل بناناچاہتےتھے۔ پاکستان کوریاست مدینہ کی طرزپراسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیےکوشاں ہیں۔ پاکستان جس مقصدکے لیے بنا اس کی تعبیر کے لیے مل کر کوششیں کرنی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مغرب نےدہشت گردی کواسلام کےساتھ جوڑ دیا۔ ہمارے لیڈرز کوبتانا چا ہیےتھا دہشت گردی کااسلام سےکوئی تعلق نہی۔ مغرب نے کہا خودکُش حملےبھی اسلام کی وجہ سےہوتےہیں۔ تاریخ گواہ ہےمسلمانوں کےاعلیٰ کردارسےمتاثرہوکرلاکھوں افرادنےاسلام قبول کیا۔ مغرب کوباورکراناہوگا کہ دہشت گردی کااسلام سےکوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نیب روالپنڈی نے مسلم لیگ(ن)کےسنیئر رہنما احسن اقبال کو گرفتارکر لیا

انہوں نے کہا کہ نو گیارہ سے پہلے سب سے زیادہ خودکش حملےتامل ٹائیگرز نے کیے۔ سری لنکا میں خودکش حملےکرنے والے تامل ٹائیگرز ہندو تھے۔ سری لنکامیں خودکش حملوں پرکبھی کسی نےہندوئوں کودہشت گردنہیں کہا۔

انہوں نے کہاکہ اسلام سلامتی کاوہ مذہب ہےجوامن کادرس دیتاہے۔ اسلاموفوبیاکاشکارسب سےزیادہ مغربی ممالک میں رہنےوالےمسلمان ہوتےہیں۔ آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب نہیں مذہبی منافرت کوہوادی جائے۔ مغرب میں غریب اورامیرکےلیےایک ہی سلیبس ہے۔ مغربی ممالک اسلامی فلاحی نظام کےسنہری اصول اپناکرکامیاب ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:   سعودی حکومت کا 6 رکنی وفد پاکستان پہنچ گیا

وزیر اعظم نے کہا کہ اربوں روپےکی کرپشن کےکیس والےکہتے ہیں ہمیں این آراودےدو۔ غریب جس پربھینس چوری کا کیس ہووہ جیل میں سڑتا ہے۔ گائے، بھینس چوری کرنے سے ملک تباہ نہیں ہوتا، وزیراعظم اور وزیروں کی چوری سے ملک تباہ ہوتا ہے۔

انہوں ںے مزید کہا کہ قانون کی بالادستی کےبغیرکوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ طاقتوراورکمزورمیں سماجی تفریق معاشروں کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔