میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج

Spread the love

میانمار میں انٹرنیٹ کی بندش اور ریاستی رکاوٹوں کے باوجود فوجی بغاوت کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں کو روکنے کے لیے ملک بھر میں پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹس کو بند کیا گیا اور اس کے بعد اب انٹرنیٹ پر ہی مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے جب کہ رنگون میں سیکیورٹی فورسز کی زائد نفری تعینات کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی سے ملاقات میں جرمنی کی سربراہ کشمیریوں کے حق میں بول پڑیں

ملک کے اقتدار پر قابض فوج کی جانب کھڑی گئی رکاوٹوں کے باوجود تجارتی حب رنگون میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئے اور آنگ سان سوچی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے فوجی بغاوت کے خلاف نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے جمہوریت کی حمایت میں علامتی طور سرخ غبارے اُٹھا رکھے تھے جب کہ زیر حراست معزول حکمراں آنگ سان سوچی کی تصاویر بھی تھامے ہوئے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

یہ بھی پڑھیں:   آسٹریلیا نے افغانیوں کے قتل پر اپنے 13 فوجیوں کو برطرف کردیا

قبل ازٰیں ملک بھر کے 70 سے زائد اسپتالوں کے طبے عملے نے فوجی آمریت کے خلاف ہڑتال جاری رکھی۔ ڈاکٹرز اور طبی عملے کا مطالبہ تھا کہ فوج اپنے ناجائز اقدام کی حمایت حاصل کرنے کے بجائے ہم سے مریضوں کی صحت یابی کی خدمات لیں۔

واضح رہے کہ یکم فروری کو میانمار میں فوج نے بغاوت کرتے ہوئے ملک کے اقتدار پر قبضہ کرکے ایمرجنسی نافذ کردی اور ملک کی سربراہ آنگ سان سوچی کو گرفتار کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس نے امریکی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، ہلاکتیں 100 سے تجاوز