صدرنے انسدادِ ریپ آرڈیننس 2020ء کی منظوری دیدی

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے انسدادِ ریپ آرڈیننس 2020 ء کی منظوری دیدی ہے۔

آرڈیننس سے عورتوں اور بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے معاملات کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔ جنسی زیادتی کے ملزمان کے تیز ٹرائل اور کیسز جلد از جلد نمٹانے کیلئے ملک بھر میں اسپیشل کورٹس کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور خصوصی عدالتیں 4 ماہ کے اندر جنسی زیادتی کے کیسز کو نمٹائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان 5 سال نکال لے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، آصف زرداری

آرڈیننس کے تحت وزیرِاعظم عمران خان انسدادِ جنسی زیادتی کرائسس سیلز کا قیام عمل میں لائیں گے، یہ سیل 06 گھنٹے کے اندر اندر متاثرہ افراد کا میڈیکو لیگل معائنہ کرانے کا مجاز ہوگا جبکہ قومی شناختی کارڈ بنانے والے ادارے نادرا کی مدد سے قومی سطح پر جنسی زیادتی کے مجرمان کا رجسٹر تیار کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعلیٰ پنجاب نےساہیوال پولیس فائرنگ واقعہ کی تحقیقات کاحکم دے دیا

آرڈیننس کے تحت جنسی زیادتی کے متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے اس عمل کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا۔