پی ڈی ایم کا پشاورمیں عوامی طاقت کا مظاہرہ

پشاور: اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے پشاور میں بھی بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔

پی ڈی ایم نے جلسے کیلئے پشاور کے دلزاک چوک رنگ روڈ پر اسٹیج سجایا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔ جلسے کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی کے خلاف نعرے درج تھے۔ جلسے میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سردار اختر مینگل سمیت دیگر قائدین شریک تھے۔

جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج اہل پشاور نے جلسے میں عظیم الشان شرکت کے ساتھ دھاندلی کے ساتھ آنے والی حکومت کو مسترد کردیا۔ جلسوں سے حکمران بوکھلائے ہوئے ہیں، جنگ کا اعلان کرچکے ہیں اور میدان جنگ سے پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ ہے۔ ہم پہلےکہہ چکےہیں الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی، تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی پر اتفاق کیا تھا، ہمارا مؤقف واضح ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے، یہ جو نامعلوم ہے وہ ہم سب کومعلوم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   علامہ سعدحسین رضوی کی نظر بندی ختم، رہائی کے احکامات جاری

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ دو سال میں تم نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کردیا ہے، پی ڈی ایم ملک کو بچانے کیلئے نکلی ہے، ہمیں آگے بڑھنا ہے، موجودہ حکومت ناجائز ہے اور اس کی پالیسیاں بھی ناجائز ہیں۔ جنگ کا اعلان کرچکے ہیں، ہم نے جس سفر کا آغاز کیا ہے، اس کا تھوڑا فاصلہ ہی باقی ہے، منزل قریب ہے، ملک کو حقیقی پاکستان بنائیں گے۔ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پرسمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔

معیشت کے حوالے سے سربراہ اتحاد کا کہنا تھا کہ دو سال میں تم نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کردیا ہے، ملک کی معیشت گرتی ہے تو ریاست باقی نہیں رہ سکتی، ریاست کی بقاء کا دارومدار مستحکم معیشت پر ہوتا ہے۔ آپ کی حکومت میں پہلے سال ترقی کا تخمینہ 1.8 پر آیا، جب دوسرا بجٹ پیش کیا تو ترقی کا تخمینہ 0.4 پر آگیا، اسٹیٹ بینک نے کہا کہ 1951-52 کے بعد 0.4 فیصد پر آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ’’ تحریک انصاف کا 126 دن کا دھرناکچھ بھی نہیں ‘‘ ہمارا سرپرائز کیسا ہو گا ؟ دو سے تین میں کیا ہونیوالا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ہم سے تجارت کرنا چاہتا تھا، آج مایوس ہے اور آپ سے رابطے کو تیار نہیں، ایران اب بھارت کے رابطے میں چلا گیا ہے، چین کے 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تباہ کردی ہے، امریکی اشارے پر ایک ٹرمپ نے دوسرے ٹرمپ کو کہا چین کی سرمایہ کاری کو ناکام بناؤ، امریکی عوام نے ٹرمپ کو مسترد کیا، پاکستانی ٹرمپ کو بھی عوام مسترد کریں گے۔ دوسری جانب جلسے کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور موبائل فون سروس بھی معطل تھی۔

پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھاکہ حکومت کے جانے کا وقت آگیا ہے، اب پاکستان کے عوام فیصلہ کریں گےکہ اس ملک میں کس کی حکمرانی چلے گی۔ سلیکٹڈ کا بوجھ عام آدمی اٹھا رہا ہے، پہلے آٹا، چینی اور تیل کا بحران تھا، اب گیس کا بحران بھی پیدا ہوگا، ان حکمرانوں کی وجہ سے آٹا، چینی، گھی، پیٹرول، گیس اور آلو مہنگا ہوگیا، موجودہ حکومت میں لوگ مرغی تو کیا انڈا بھی نہیں خرید سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   اپوزیشن نے قوانین کے بدلے این آر او مانگا، عمران خان

چیئرمین پیپلز پارٹی کاکہنا تھاکہ سوات اور جنوبی وزیرستان میں پاکستان کا پرچم جمہوریت کی وجہ سے لہرا رہا ہے، پورے خیبر پختونخوا کا مطالبہ ہے کہ گو عمران گو ، خیبرپختونخوا کے حکمران یہاں کے لوگوں کے نہیں سیلکٹرز کے نمائندے ہیں۔ ہمارے جلسے روکنے کے لیے انہیں کورونا یاد آتا ہے، یہ حکمران کرپشن کے خلاف سب سے زیادہ چیختے تھے لیکن یہ سب سے زیادہ کرپٹ نکلے، سیاست دانوں، ججز اور جرنیلوں کےلیے ایک قانون ہونے تک کرپشن ختم نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب)کو نظر نہیں آتاکہ مالم جبہ میں کیسے کرپشن کی گئی؟ نیب کو نظر نہیں آتا کہ سلائی مشینوں سے نیویارک میں عمارتیں کیسے کھڑی کی گئیں، حساب کا وقت آیا تو عوام حساب لیں گے، نیب سے بھی حساب لیں گے۔