سائنسی تجربات میں ہونیوالے حادثات جو دریافتوں کا سبب بنے

Spread the love

لاہور: سیب کے درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے نیوٹن کے سَر پر پھل گرنا ایک اتفاق تھا جس نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کوئی بھی وزنی شے تیزی سے زمین کی طرف ہی کیوں آتی ہے اور یوں‌ کششِ ثقل کا نظریہ اور ایک اہم ترین دریافت سامنے آئی۔

اسی طرح‌ سائنس کی دنیا میں‌ کئی ایجادات اور دریافتیں ایسی جن کی بنیاد کوئی حادثہ تھا۔ انیسویں صدی میں‌ مختلف سائنسی تجربات کے دوران ایسے اتفاقی اور حادثاتی واقعات پیش آئے جنھوں‌ نے دریافتوں‌ اور انکشافات کا راستہ ہموار کیا۔ انیسویں صدی تک نائٹرو گلیسرین کا استعمال عام تھا۔ یہ 1833 کی بات ہے جب الفریڈ نوبل اُن ممکنہ طریقوں‌ پر غور کررہا تھا جن کی مدد سے نائٹرو گلیسرین کو حادثاتی طور پر پھٹنے سے روکا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:   گوگل بھی کرونا وائرس سے بچاؤ کی آگہی کے لئے میدان میں آگیا

مشہور ہے کہ اس سے متعلق سوچ بچار اور تجربات کے دوران ہی ایک روز نائٹرو گلیسرین کا ایک کنستر لیک ہو گیا اور اس سے خارج ہونے والا مادّہ بغیر جلے لکڑی کے برادے میں جذب ہونے لگا۔ جب برادہ خشک ہو گیا تو الفریڈ نوبیل نے اسے آگ دکھائی اور وہ اپنی خاصیت کے مطابق پھٹ گیا۔ یہ معمولی حادثہ نائٹرو گلیسرین کی جگہ مقامی اداروں‌ اور فوجی ضرورت کے لیے محفوظ اور کنٹرولڈ ڈائنا مائیٹ ایجاد کرنے کا سبب بنا۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا بھر کے11 ہزار سائنسدانوں نے عالمی موسمیاتی ایمرجنسی پیغام پردستخط کردیئے

1839 کی بات ہے جب کیمسٹ چارلس گڈ ائیر نے تجربہ گاہ میں ربڑ، سلفر اور سیسے کا آمیزہ تیار کیا اور وہ اچانک ان کے ہاتھ سے پھسل کر فائر اسٹوو پر جا گرا۔ اس معمولی حادثے نے دریافت اور ایجاد کا نیا راستہ کھول دیا۔ کیمسٹ چارلس گڈ ائیر نے مشاہدہ کیا کہ آمیزہ پگھلنے کے بجائے ٹھوس شکل اختیار کر گیا ہے جس کی بیرونی سطح سخت اور اندرونی سطح نرم تھی۔ یوں حادثاتی طور پر دنیا کا پہلا ویلنکنائزنگ ٹائر بنا اور یہ آٹو موبائل کی صنعت کے لیے نہایت کارآمد اور مفید ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:   چین 2020ء میں مریخ پر پہنچ جائے گا

الیگزینڈر فلیمنگ نے 1928 میں انفلوئنزا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے کام شروع کیا اور اس دوران اسے دو ہفتے کی رخصت پر جانا پڑا۔ وہ چھٹیوں‌ کے بعد واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ لیبارٹری کی جس ٹرے میں اس نے بیکٹیریا کلچر کیے تھے، اس پر پھپوند جم گئی ہے اور اس کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوا کہ پھپوند نے بیکٹیریا کی افزائش روک دی تھی۔

الیگزینڈر فلیمنگ نے اس مشاہدے اور تجربے کے بعد پھپوند کی ماہیت پر مزید کام کیا اور پنسلین جیسی دریافت ہوئی اور اینٹی بائیوٹک کا دور شروع ہوا۔

سائنسی تجربات میں ہونیوالے حادثات جو دریافتوں کا سبب بنے” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں