سندھ میں رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں رین ایمرجنسی نافذ کردی۔

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نرسری پر مین شارع فیصل پر بارش کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا اور چیف سیکریٹری کو فون کرکے رین ایمرجنسی کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے تمام سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کرنے کی ہدایت کی، تمام چھٹیوں پر گئے ملازمین کو اپنے محکموں کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   کسی کو اٹھاکر پھانسی نہیں لگاسکتا، ساہیوال رپورٹ کا انتظار کیا جائے، عثمان بزدار

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے ریلیف کا کام شروع کرے۔ کراچی میں شدید بارش ہوئی، نشیبی علاقے زیر آب ہیں، مشکل وقت میں ہم عوام کے ساتھ ہیں، عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے، شہر کے دورے پر نکلا ہوں تاکہ نکاسی آب کو یقینی بناسکیں۔ ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صوبے میں رین ایمرجنسی کے نفاذ کی تصدیق کردی۔

یہ بھی پڑھیں:   انڈین سورما پائلٹ جہاز تباہ ہونے کے بعد پاک فوج کے ہتھے چڑھ گیا

واضح رہے کہ شہرقائد سمیت سندھ بھر میں ہونے والی موسلادھار بارش نے نظام زندگی درہم برہم کردیا، کراچی میں سڑکیں تالاب بن گئیں اور پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ بیشتر علاقوں میں بجلی معطل ہے۔ دوسری جانب گلستان جوہر منور چورنگی کے قریب لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، پہاڑی تودہ گرنے سے متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں دب گئیں، پولیس اور ریسکیو ادارے جائے وقوع پر روانہ ہوگئے ہیں۔

سندھ کے مختلف شہروں میں بھی موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، حیدرآباد، میرپورخاص، ٹنڈو محمد خان، ٹھٹھہ اور سجاول پانی میں ڈوب گئے، کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ تیزبارش نے حیدرآباد پانی پانی کردی، لطیف آباد، قاسم آباد تالاب بن گئے، پانی گھروں میں داخل ہوگیا، کئی علاقے بجلی سے محروم ہوگئے، میرپورخاص میں مسلسل کئی گھنٹے کی بارش سے ہرطرف پانی ہی پانی ہے، سڑکیں دریا کا منظرپیش کرنے لگیں، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بند ہوگئیں، علاقہ مکینوں کو شدید اذیت کا سامنا ہے۔