کووِڈ 19 ویکسین آزمائشوں میں کامیاب

Spread the love

بیجنگ: چینی حکومت کی سرپرستی میں تیار کی گئی کووِڈ 19 ویکسین دوسرے مرحلے کی طبّی آزمائشوں یعنی فیز ٹو کلینیکل ٹرائلز میں بھی کامیابی سے ہم کنار ہوچکی ہے۔

’’جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن‘‘ کے تازہ شمارے میں اس حوالے سے شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، یہ ویکسین چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی نگرانی میں ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی، ووہان انسٹی ٹیوٹ آف بایولاجیکل پروڈکس اور چائنا نیشنل بایوٹیک گروپ نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام آباد اور کراچی میں کورونا وائرس کے مزید 2 کیس سامنے آگئے

کورونا وائرس کی دیگر ویکسینز کے مقابلے میں یہ ویکسین اس لحاظ سے مختلف ہے کیونکہ اس میں غیر مؤثر بنائے گئے ناول کورونا وائرس بطور ویکسین استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ ویکسین بنانے کا نسبتاً حالیہ طریقہ ہے جسے روایتی ویکسینز کے مقابلے میں زیادہ بہتر قرار دیا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے (فیز 1) اور دوسرے مرحلے (فیز 2) کی طبّی آزمائشوں میں مجموعی طور پر 320 صحت مند رضاکار بھرتی کیے گئے جن کی عمر 18 سے 59 سال کے درمیان تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹوٹی ہڈیوں کے لیے پلاسٹر کی بجائے واٹر پروف جالی تیار

ویکسین لینے والے رضاکاروں کی اکثریت میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہوگئی جبکہ اس ویکسین کے منفی یا مضر اثرات بھی بہت کم دیکھے گئے۔

اگرچہ یہ کامیابی بہت اہم ہے لیکن اس تحقیق میں شریک ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک اس ویکسین کی تیسرے مرحلے کی طبّی آزمائشیں (فیز تھری کلینیکل ٹرائلز) بھی کامیاب نہ ہوجائیں، تب تک اس کی افادیت کے بارے میں پورے وثوق سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا کا دوسرا مریض جاں بحق، متاثرہ افراد کی تعداد 307 ہوگئی

واضح رہے کہ فیز تھری کلینیکل ٹرائلز میں کسی بھی نئی دوا کو 1000 سے 3000 افراد پر آزمایا جاتا ہے اور اس کی افادیت، ضمنی اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد، اگر وہ دوا واقعی مؤثر ثابت ہو تو اسے بڑے پیمانے پر استعمال کےلیے منظور کرلیا جاتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت