افغان حکومت طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کےلئے تیار

Spread the love

کابل: افغانستان کی وزارت امن نے ایک بیان میں بتایا کہ افغان حکومت نے ملک میں تنازعات کے حل کیلیے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیلیے 21 رکنی ٹیم تشکیل دیدی۔

وزارت امن نے بیان میں کہا ہے کہ ٹیم کی سربراہی کاؤنٹر انٹیلی جنس کے سابق سربراہ محمد معصوم ستانکزی کریں گے۔ سیاسی جماعتوں سمیت معاشرے کے ہر طبقہ کے ساتھ مشاورت کرنے کے بعد کمیٹی کے ارکان کا انتخاب کیا گیا ہے، کمیٹی کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلیے اسلامی جمہوریہ افغانستان کی نمائندگی کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   او آئی سی کا مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھانے اور گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ

امریکا کی تاریخ کی طویل ترین جنگ ختم کرنے، افغانستان سے ہزاروں فوجی نکالنے اور قومی مفاہمت یقینی بنانے کیلیے مسلح گروپوں اور افغان حکومت کے مابین امن مذاکرات کیلیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کیلیے امریکہ اور طالبان کے مابین 29 فروری کو امن معاہدہ طے پایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   بابری مسجد اندرونی معاملہ،پاکستان کو ردعمل کا حق حاصل نہیں،بھارت نے دوٹوک پیغام جاری کر دیا -

اس معاہدے کے تحت امریکہ نے طالبان کویقین دہانی کرائی تھی کہ افغان حکومت کی جیلوں میں قید5 ہزار عسکریت پسندوں کی رہائی یقینی بنائی جائے گی جبکہ بدلے میں طالبان ایک ہزار افغان قیدی رہا کریں گے۔ امن مذاکرات شروع کرنے اور قیدیوں کی رہائی یقینی بنانے کیلیے دونوں افغان حکومت اور طالبان نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 2 طویل ٹیلی کانفرنسوں کا انعقاد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسد رجیم نے سفارت کاروں کے لیے خصوصی ویزوں کا اجراء روک دیا

اطلاعات کے مطابق طالبان وفد کابل کے شمال میں واقع بگرام جیل کا جلد ہی دورہ کرے گا تاکہ رہائی کیلیے فہرست میں شامل کئے گئے قیدیوں کی پہچان کی جاسکے۔