کتے کا ڈرون کے ساتھ گشت

Spread the love

ووہان: دنیا بھر میں کرونا وائرس قہر برسا رہا ہے جس کی وجہ سے کروڑوں شہری گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ چین کے شہر ووہان سے گزشتہ برس دسمبر میں پھیلنے والے مہلک وائرس کو عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 کا نام دیا اور جب صورت حال گھمبیر ہوگئی تو اس وائرس کو وبا قرار دیا۔

آج تک کی اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے دس ہزار سے زائد مریض موت کے منہ میں جاچکے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد بھی بڑھ کر تقریباً 2 لاکھ 46 ہزار سے تجاوز کرچکی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے یورپ کو کرونا وائرس کا مرکز قرار دیا، جہاں عالمگیر وبا نے تباہی مچادی ہے اور صرف اٹلی میں ہی 3400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارتی طیارے میں کبوتروں کا راج، مسافربے حال

اس سے قبل چین میں کرونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں البتہ گزشتہ پانچ روز سے اٹلی میں خوفناک صورت حال دیکھنے میں آرہی ہے۔ دنیا کے تقریبا تمام ہی ممالک نے اپنے عوام کو وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔ امریکا، برطانیہ، یورپ، خلیجی اور مشرقِ وسطیٰ سمیت تمام ہی ممالک کی حکومتوں نے مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن کیا ہے تاکہ عوام کرونا سے محفوظ رہ سکیں اور بیماری پر قابو پایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:   "پاکستان نے ایف 16 طیارہ استعمال کیا تھا"، بھارتی میڈیا نے نسوار کی تھیلی کو بطور ثبوت پیش کردیا

ترک اور فلسطین کے وسط میں واقع ملک قبرص میں بھی لاک ڈاؤن ہے اور وہاں کے شہری گھروں پر وقت گزار رہے ہیں ایسے میں پالتو جانوروں کو باہر بھیجنا بڑا چیلنج ہے۔ قبرص کے دارالحکومت نکوسیا کے شہری نے کرونا سے محفوظ رہنے کے لیے خود کو گھر تک محدود کرلیا جبکہ وہ اپنے کتے کو روزانہ باہر گلی میں بھیجتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   چینی مالکان کا ملازمین کے پاؤں دھوکر ان کی خدمات کا اعتراف