کورونا کا خوف؛ لوگوں نے حفاظتی لباس پہن کر راشن خریدنا شروع کردیا

Spread the love

کرائسٹ چرچ: کورونا وائرس کے خوف نے جہاں دنیا بھر کی معیشت پر پنجے گاڑ لیے ہیں اور افواہوں کے نہ رکنے والے طوفان کو جنم دیا ہے، وہیں گھبراہٹ اور افراتفری کی وجہ سے کچھ دلچسپ مناظر دیکھنے میں بھی آرہے ہیں۔ کچھ لوگ کورونا وائرس سے اتنے خوف زدہ ہیں کہ وہ نہ صرف کئی مہینوں کا راشن ایک ساتھ خریدنے سپر اسٹورز پہنچ گئے ہیں بلکہ انہوں نے اسی طرح کا حفاظتی لباس پہنا ہوا ہے جیسا آگ بجھانے والے یا خطرناک کیمیکلز کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے پہنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس کا ایک اورکیس رپورٹ، پاکستان میں تعداد 21 ہوگئی

اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایسے لوگوں کا تعلق کسی پسماندہ یا غریب ممالک سے ہے تو یہ غلط فہمی بھی دُور کر لیجیے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ تصویریں امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سپر اسٹورز کی ہیں۔

واضح رہے کہ ناول کورونا وائرس کی عالمی وبا ایک بھیانک خوف کی طرح ساری دنیا پر مسلط ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی، ماضی کی دوسری عالمی وباؤں کے مقابلے میں بہت کم (تقریباً 3 فیصد) ہے جبکہ اس سے متاثرہ افراد میں صحت یاب ہونے کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے، خوف زدہ کرنے والی افواہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہیں جن کے باعث افراتفری کی کیفیت شدید سے شدید تر ہوتی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس نے امریکی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، ہلاکتیں 100 سے تجاوز

اس کیفیت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مشہور برطانوی ماڈل ناؤمی کیمبل تک نے اپنے لیے ایک حفاظتی لباس خرید لیا ہے جسے وہ گھر سے نکلتے وقت لازماً پہنتی ہیں۔