ٹرمپ عراق میں فوجی کارروائی سے باز رہیں، ایران کی دھمکی

تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عراق میں خطرناک فوجی ایکشن لینے سے خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنی نفرت آمیز اور جارحانہ پالیسی پر نظر ثانی کرے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عراق میں خطرناک فوجی ایکشن لینے سے باز رہنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا کو جارحیت کا اظہار کرنے کے بجائے خطے میں اپنے رویے اور موجودگی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آسٹریلیا نے افغانیوں کے قتل پر اپنے 13 فوجیوں کو برطرف کردیا

وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر بلا جواز تنقید کرنے کے بجائے مشرق وسطیٰ میں اپنی مداخلت اور زبردستی کی موجودگی کی پالیسی کو تبدیل کرے تو بہتر ہوگا ورنہ جواب دینا ہم کو بھی آتا ہے۔

ایران کی جانب سے دھمکی آمیز بیان گزشتہ روز عراق میں امریکی فورسز کے ایران کے حمایت یافتی مسلح گروہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکا کا دعویٰ تھا کہ اس ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہ نے ایک روز قبل تاجی بیس میں امریکی فوجی ٹھکانے پر راکٹ حملہ کیا تھا جس میں اتحادی فوج کے 3 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   پیسے سے سب کچھ نہیں خریدا جاسکتا -عرب میڈیا نے بھارت کا بھانڈہ پھوڑ دیا

تاجی بیس پر راکٹ حملے میں 3 غیرملکی فوجی کی ہلاکت اور 12 کے زخمی ہونے پر پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں عراق میں بڑی اور خطرناک فوجی کارروائی کرنے کی دھمکی دی گئی تھی اور امریکی فوج نے ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہ کو نشانہ بھی بنایا تھا۔