شیر بھی کبھی بلی جتنے ہوا کرتے تھے

آسٹریلیا: بلی کو شیر کی خالہ کہا جاتا ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب خود شیر کی جسامت بلی جتنی ہوا کرتی تھی۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز کے ماہرین نے کوئنزلینڈ کے علاقے سے ایک جانور کی ہڈیاں دریافت کی ہیں جو ایک بلی کے جسامت والے شیر کی ہیں۔ یہ فاسلز (رکاز) عالمی اہمیت کی ایک ارضیاتی سائٹ، ریور سلے سے دریافت ہوئے ہیں جہاں پہلے بھی چھوٹی جسامت کے شیر کی ہڈیاں ملتی رہی ہیں۔ تاہم مفصل تحقیق کے بعد اس رکاز کو چھوٹے شیر کی بالکل نئی قسم قرار دیا گیا ہے اور اسے مارسوپیئل لائن یا شیر کہا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قبر میں لٹاتے وقت میت کا چہرہ دیکھناجائز ہے یا نہیں؟

اب تک کے آثار کے مطابق اس کی ہڈیاں بہت اچھی حالت میں ملی ہیں اور اس کی کھوپڑی ، جبڑے اور دانتوں کو دیکھ کر اسے ایک بالکل نئی قسم قرار دیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں شامل پروفیسر ماائیکل آرچر نے کہا کہ یہ ایک بہترین رکاز ہے جس کی یہ قسم ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   ویتنام کے گھنے جنگل سے ’’چوہا ہرن‘‘ دریافت.

ماہرین نے اس اہم دریافت کی روداد جرنل آف ورٹیبریٹ پیلی اونٹولوجی میں شائع ہوئی ہے۔ بلی کی جسامت والے شیر کی اس نئی قسم کو ماہرین نے Lekaneleo roskellyae کا نام دیا ہے۔

خیال ہے کہ بلی کے برابر شیر نے ہزاروں لاکھوں برس حکومت کی اور اب سے 35000 سال قبل ان کی پوری نسل ناپید ہوگئی اور اب صرف ان کے آثار ہی دستیاب ہیں۔ بڑی تعداد میں ملنے والے ان کے رکازات کو دیکھ کر ماہرین ان کی ناپیدگی کی وجہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔ بعض افراد کا خیال ہے غذائی کمی سے یہ ہلاک ہوگئے اور صفحہ ہستی سے مٹ گئے جبکہ کچھ ماہرین موسمیاتی تبدیلیوں کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اس محلے میں تمام گھر تھری ڈی پرنٹر سے ’’چھاپ‘‘ کر تیار کیے جائیں گے

تاہم اس کے جبڑوں کی اطراف مضبوط پٹھے موجود تھے جن کی بدولت اس میں چبانے کی قوت بہت زیادہ تھی اور یہ شیر ہڈی توڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔