طالبان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ امریکا نے نہیں افغان حکومت نے کرنا ہے، صدر اشرف غنی

کابل: افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ امن معاہدے کے تحت 5 ہزار زیر حراست طالبان قیدیوں کی رہائی کا استحقاق امریکا کا نہیں بلکہ کابل حکومت کا ہے اور یہ اگلے مرحلے میں ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات میں طے پائے گا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے صحافیوں سے گفتگو میں دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان پانے والے امن معاہدے کی ایک اہم شق پر اعتراض اُٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی امریکا کا استحقاق نہیں ہے۔ کابل حکومت کی قید میں اسیر 5 ہزار سے زائد طالبان رہنماؤں اور جنگجوؤں کی رہائی کا فیصلہ افغان حکومت نے کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فرانس میں دو طیاروں کے درمیان تصادم، 5 افراد ہلاک

افغان صدر کا مزید کہنا تھا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کو طالبان کی رہائی سے مشروط نہیں کیا جا سکتا تاہم اس ڈیل میں طالبان کی حراست میں ایک ہزار افغان سرکاری اہلکاروں کو آزاد کرنے کے بدلے افغان جیلوں میں قید پانچ ہزار طالبان کو رہا کر دینے کی بات کی گئی ہے اور یہ معاملہ انٹرا افغان مذاکرت میں رکھا جاسکتا ہے جس میں باہمی مشاورت سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   افغان صدر اشرف غنی کا طالبان قیدیوں کی رہائی کا حکم

ایک سوال کے جواب میں صدر اشرف غنی نے کہا کہ انٹرا افغان مذاکرات کیلئے اگلے نو دنوں میں مذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی جائے گی۔ فی الحال فریقین کے درمیان 7 روزہ جزوی جنگ بندی ہے تاہم مکمل جنگ بندی کے حصول کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اپنائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   میانمار میں مٹی کا تودہ زمین میں دھنس جانے سے کم سے کم 90 افراد ہلاک

واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان گزشتہ روز امن معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت امریکی اور نیٹو افواج کا 14 ماہ کے دوران انخلا مکمل ہوجائے گا جب کہ طالبان نے افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے لیے استعمال نہ ہونے کے علاوہ داعش اور القاعدہ پر مکمل پابندی کی یقین دہانی کرائی ہے۔