مہنگائی کی وجہ سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے، سیکریٹری خزانہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مہنگائی کنٹرول نہ کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

سیکریٹری خزانہ نوید کامران بلوچ کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی حکومتوں کے نمائندے،
ادارہ شماریات، تجارت اور فوڈ سیکیورٹی سمیت یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن، پاکستان کسٹمز اور کابینہ ڈویژن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں ملک میں مہنگائی کی صورتحال پر غور کیا گیا، اجلاس میں سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ جنوری میں ملک بھر میں مہنگائی کی شرح 14.56 فیصد ریکارڈ کی گئی، بنیادی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، مہنگائی کی وجہ سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے لہذا صوبائی حکومتیں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2020 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی

سیکریٹری خزانہ کا کہنا تھا کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، مقامی حکومتیں رمضان المبارک میں مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو ہر جگہ چیک کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام آباد میں سکول کے باہر فائرنگ، طلباء میں خوف و ہراس

سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جب کہ بنیادی ضروری اشیاء کی اسمگلنگ کے خلاف بھی بھرپور کارروائی کی جائے گی، وزیراعظم اسمگلنگ کے خلاف ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں، یوٹیلٹی اسٹورز کو 15 ارب روپے کا پیکیج جاری کردیا گیا ہے، عوام کو ریلیف فراہم نہ کرنے والے افسران کو قابل احتساب بنایا جائے گا اور حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی.