کورونا وائرس کا اثر، ہانگ کانگ میں مسلح افراد ٹشو پیپرکے رول لوٹ کر فرار

ہانگ کانگ: کورونا وائرس کے خوف کے بعد ہانگ کانگ میں ٹوائلٹ پیپر اور ٹشو پیپر رول دھڑا دھڑ فروخت ہوئے ہیں اب مسلح افراد نے ایک دکان پر دھاوا بول کر سیکڑوں ٹوائلٹ پیپر رول چرالیے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ضلع مونگ کاک کی سپر مارکیٹ کے باہر جیسے ہی ملازم ٹوائلٹ پیپر رول لے کر پہنچا تو چند افراد نے اسے گھیرلیا جن کے ہاتھوں میں تلوار نما چھوٹے خنجر تھے۔ انہوں نے سیکڑوں ٹوائلٹ پیپر کے بنڈل چھینے اور فرار ہوگئے لیکن بعد میں پولیس نے ٹوائلٹ پیپر گینگ کے دو افراد گرفتار کرلیے اور ان سے بعض بنڈل برآمد بھی کرلیے۔

یہ بھی پڑھیں:   انڈونیشیا میں کالج کی فیس کی جگہ ناریل جمع ہونے لگے

یہ واقعہ ویلکم سپرمارکیٹ کے باہر پیش آیا جہاں ملازم ان رولز کو گاڑی میں رکھ کر اپنی منزل تک پہنچارہا تھا۔ پولیس نے اس عجیب و غریب ڈکیتی پر حیرت کا اظہار کیا کیونکہ سارے سامان کی قیمت مشکل سے 18 سے 20 ہزار تک ہوگی اور ان رول کی تعداد 600 کے قریب ہوگی جب کہ ان کی مالیت صرف 130 ڈالر یعنی پاکستانی 18 ہزار روپے بتائی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کروناوائرس کا ٹیلی ویژن پر انٹرویو

ہانگ کانگ میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد عوام الناس نے ٹوائلٹ پیپر ذخیرہ کرنا شروع کردیے ہیں کیونکہ کھانے پینے کی اشیا سے زیادہ مہنگی وہ اشیا ہوچکی ہیں جو صفائی ستھرائی اور جراثیم سے پاک کرنے کے کام آتی ہیں۔

اسی طرح چہرے کو ڈھانپنے والے ماسک کی شدید قلت دیکھی گئی۔ دوسرے نمبر پر ہاتھوں کے لیے جراثیم کش اسپرے بھی غائب ہوتے جارہے ہیں۔نواضح رہے کہ اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 1700 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ اس کے شکار مریضوں کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔