اورنیل بہتا_رہا….#قسط__نمبر_3

Spread the love

عنایت اللہ التمش

عمر بن عاص مالدار باپ کے بیٹے تھے اور تجارت بھی وسیع پیمانے کی تھی اس لئے سیروسیاحت کا ذوق و شوق بھی تھا وہ جہاں چاہتے بڑے آرام سے جا سکتے تھے۔
شماس کی پیشکش قبول کرنے میں وہ اس لئے پس و پیش کر رہے تھے کہ وہ احسان کا صلہ نہیں لینا چاہتے تھے۔
ویسے شماس کی پیشکش عمر بن عاص کی خواہش کے عین مطابق تھی۔
انہوں نے اس کی بہت شہرت سنی تھی اور کئی بار انہیں اسکندریہ جانے کا خیال آیا تھا انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ آج کیا واقعہ ہوا ہے اور یہ شخص انہیں کیا صلہ دے رہا ہے۔
اپنے ساتھیوں کی اس جماعت کے وہ سربراہ تھے ۔
ساتھی انھیں روک نہیں سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ شخص کی پیش کش قبول کر لے اور اس کے ساتھ چلے جائیں۔
عمرو بن عاص نے اپنی پسند اور مرضی کا ایک ساتھی اپنے ساتھ تیار کرلیا اور اگلے روز وہ آ گئے جہاں شماس ٹھہرا ہوا تھا۔
اسے بتایا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ اسکندریہ جائیں گے انہوں نے روانگی کا دن اور وقت طے کرلیا۔
اس دور میں نہر سوئز نہیں ہوا کرتی تھی اس لیے خشکی کے راستے بھی مصر جایا جاسکتا تھا ۔
اور اسکندریہ تک جانے کے لیے بحری راستہ بھی تھا یہ بتانا ممکن نہیں کہ وہ لوگ کس راستے گئے خشکی یا سمندر کے راستے ، تاریخ نے اتنا ہی لکھا ہے کہ عمرو بن عاص اپنے ایک ساتھی کے ساتھ شماس کے ہمراہی میں اسکندریہ پہنچ گئے۔
بیت المقدس سے اسکندریہ کا فاصلہ پانچ سو کلومیٹر ہے۔
عمرو بن عاص نے جب اسکندریہ شہر کی شان و شوکت اور حسن و جمال دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔
تاریخ میں لکھا ہے کہ انہوں نے بے ساختہ کہا ،شماس میں نے ایسا شہر اور اتنی دولت کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی ۔
جس کی ریل پیل یہاں دیکھ رہا ہوں۔
مورخوں نے ایک واقعہ لکھا ہے جو دلچسپ بھی ہے اور فکر انگیز بھی ۔
وہ یوں ہے کہ انہی دنوں اسکندریہ میں ایک جشن منایا جارہا تھا۔
تاریخ میں یہ پتہ نہیں ملتا کہ کیسا جشن تھا؟ جس میں صرف شہر کے لوگ ہی شامل نہیں تھے بلکہ شاہی خاندان بھی اس میں شامل تھا اور امراء وزراء اور حاکم بھی اس میں شریک تھے۔
شہسواری تیراندازی تیغ زنی اور کشتیوں کے مقابلے بھی ہو رہے تھے لوگوں نے بڑے ہی قیمتی کپڑے پہن رکھے تھے۔
شماس عمرو بن عاص کو بھی اس جشن میں لے گیا ۔
شماس نے عمرو بن عاص کے لیے ریشمی لباس تیار کروا کے انھیں پہنایا تھا ۔
عمرو بن عاص نے دیکھا کہ شاہی افراد اور حکام بالا میں شماس کو خصوصی پذیرائی حاصل تھی۔
اس روز اس جشن کی خاص تقریب منائی جا رہی تھی۔
لوگ ایک دائرے میں اکٹھا ہو گئے تھے۔
شاہی افراد کے لئے آگے بیٹھنے کے لئے جگہ بنائی گئی تھی لوگوں کے ہجوم کے درمیان جو خالی جگہ تھی وہاں ایک آدمی کھڑا تھا ۔
اس کے ہاتھ میں ایک سنہری گیند تھی وہ بار بار گیند کو پوری طاقت سے اوپر کو پھیکتا تھا۔
اور گیند اوپر جا کر زمین پر گرتی تھی۔

شماس نے عمروبن عاص کو بتایا کہ جب کبھی یہ جشن منایا جاتا ہے۔
اس میں یہ تقریب ضرور منعقد ہوتی ہے۔
ایک آدمی آنکھیں بند کرکے گیند اوپر پھیکتا ہے اور ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جس شخص کے ایک بازو پر گرے وہ شخص بادشاہ بنے بغیر مر نہیں سکتا ۔
عمرو بن عاص نے دیکھا کہ گیند زیادہ تر زمین پر گرتی تھی۔
اور اگر کسی آدمی پر گریں تو اس کے بازو پر نہ گری سر پر یا کندھے یا پیٹ پر گری، شماس چونکہ صاحب حیثیت اور مرتبے والا آدمی تھا، اس لئے اسے آگے بیٹھنے کو جگہ ملی اور وہ عمرو بن عاص کو بھی آگے لے گیا،
گیند پھینکنے والے نے ایک بار پھر گیند اوپر کو پھیکی تو گیند عمرو بن عاص کے دائیں بازو پر آپڑی اور عمرو نے گیند کو وہیں پکڑ لیا ۔
شاہی خاندان کے افراد اٹھ کھڑے ہوئے، وہ اس شخص کو اچھی طرح دیکھنا چاہتے تھے جس کے بازو پر گیند گری تھی۔
شماس نے اٹھ کر اعلان کیا کہ اس شخص کا نام عمرو بن عاص ہے اور یہ مکہ سے یہاں آیاہے ۔
تماشائیوں میں کئی لوگ قہقہہ لگا کر ہنسے اور کسی کی بڑی بلند آواز آئی۔
یہ سب غلط ہے۔۔۔۔ عرب کا یہ بدبو ہمارا بادشاہ نہیں ہو سکتا ۔
ہجوم میں سے کئی آوازیں اٹھیں۔
نہیں ۔۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔ یہ چھوٹا ناٹا سا بدو مصر کا بادشاہ کیسے ہوسکتا ہے؟
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ عمرو بن عاص عرب کے عام لوگوں کی طرح دراز قد نہیں تھے ۔
ان کا قد چھوٹا، سر بڑا ،ہاتھ اور پاؤں کچھ زیادہ ہی بڑے تھے، ان کی بھویں گھنی تھیں، اور منہ بھی کچھ زیادہ چوڑا تھا، داڑھی لمبی رکھتے تھے، سینہ تو خاص طور پر چھوڑا تھا۔ یہ کسی دلکش آدمی کی تصویر نہیں بنتی لیکن ان کی سیاہ چمکیلی آنکھوں اور چہرے پر بشاشت اور زندہ دلی کا تاثر رہتا تھا۔
غصے والی بات پر بھی انہیں غصہ نہیں آتا تھا ان کا یہ جسم دیکھ کر اسکندریا والوں نے ان کا مذاق اڑایا اور کہا کہ یہ شخص انکا بادشاہ نہیں ہوسکتا۔
اللہ کے بھید کو کوئی نہیں پا سکتا ،کوئی بھی نہ سمجھ سکا ۔
خود عمروبن عاص بھی نہ سمجھ سکے کہ یہ اللہ تبارک و تعالی کا ایک اشارہ ہے۔
جو کچھ ہی عرصے بعد عملی شکل میں سامنے آجائے گا ۔
اور آج جو لوگ اور شاہی خاندان کے جو افراد اس عربی بدو کا مذاق اڑا رہے ہیں یہ انقلاب بھی دیکھیں گے کہ یہی عربی مصر کے بادشاہ کا تخت الٹ دے گا۔
اور فاتح مصر کہلائے گا اور انھیں لوگوں پر اس کا حکم چلے گا۔
گیند کی رسم ادا ہو چکی تھی اور گیند نے ان کے عقیدے کے مطابق فیصلہ دے دیا تھا ۔
لیکن تماشائیوں کا ہجوم اس فیصلے کو منظور نہیں کررہا تھا۔
اس رسم کا یہ مطلب نہیں تھا کہ جس پر گیند گری ہو اسے اسی وقت بادشاہ بنا دیا جاتا تھا۔ بلکہ مطلب یہ تھا کہ وہ آنے والے وقت میں بادشاہ بن سکتا ہے لیکن ہجوم نے ہنگامہ بپا کر رکھا تھا۔
شماس نے عمرو بن عاص کا بازو پکڑا اور انہیں وہاں سے اٹھا کر اپنے ساتھ لے آیا اور گھر لے گیا دو تین دن اور اسکندریہ کی سیر کروائی اور پھر بوقت رخصت دو ہزار دینار پیش کیے ،جو عمر بن عاص نے کچھ پس و پیش کے بعد لے لیے شماس نے عمرو بن عاص اور ان کے ساتھی کے ساتھ اپنا ایک آدمی روانہ کیا اور اس سے کہا کہ انھیں بیت المقدس چھوڑ کر واپس آجائے۔
ابن عبدالحکم لکھتا ہے کہ عمرو بن عاص مصر سے تو آگئے لیکن مصر اور اسکندریہ ان کے ذہن پر ایسا سوار ہوا کہ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ مصر میں جاکر آباد ہونا چاہتے ہیں۔
=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷
چونکہ یہ باب اس داستان کا تعارفی باب ہے اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عمرو بن عاص کی شخصیت اور جنگی فہم و فراست کی ایک دو جھلکیاں دیکھ لی جائیں۔
یہ تو بیان ہو چکا کہ عمرو بن عاص نے اسلام کس طرح قبول کیا تھا ۔
اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کس طرح اعتماد کیا۔
اور انہیں جنگی امور میں اعلی رتبہ دیا تھا ۔
ہم آپ کو اس داستان کے اس دور میں تھوڑی سی دیر کے لیے لے جاتے ہیں جب ابوعبیدہ، خالد بن ولید، شرجیل بن حسنہ، اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنھم نے شام سے رومیوں کے پاؤں اکھاڑ دیے تھے۔
اور رومی پسپائی کی کیفیت میں داخل ہو چکے تھے۔
ہم کسی معرکے کو تفصیل سے بیان نہیں کریں گے، ورنہ اصل داستان دھری رہ جائے گی۔
رومیوں کا مشہور جرنیل تو ہرقل تھا لیکن ان کا ایک انتہائی چالاک عیار اور مکار جرنیل اطربون تھا۔
اس کی عسکری فہم و فراست اور میدان جنگ میں نظروں کی گہرائی کا تو کوئی جواب ہی نہیں تھا۔
وہ ہرقل کا ہم پلہ اور ہم رتبہ تھا ،لیکن اس کے مقابلے میں طفل مکتب لگتا تھا ،تاریخ حیرت کا اظہار کرتی ہے کہ مسلمان سپہ سالاروں نے اطربون کو کس طرح شکست دے دی تھی۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما چکے تھے، خلیفہ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اللہ کو پیارے ہو چکے تھے ،اور اب خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ تھے۔
عمررضی اللہ عنہ عمرو بن عاص کے جوہر دیکھ چکے تھے۔
اور ان کی خوبیوں سے بھی اچھی طرح آگاہ تھے۔
عمررضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے، کہ خالد بن ولید خطرہ مول لیا کرتے ہیں، اور شجاعت میں دوسروں کو حیران کر دیتے ہیں، لیکن عمرو بن عاص سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے ہیں اور آگ میں بھی کود جاتے ہیں ، جنگی مبصروں نے لکھا ہے کہ عمرو بن عاص دشمن کو دھوکہ دینے کی پالیسی پر عمل کرتے تھے۔
اور ان میں شجاعت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔
دوبدو معرکوں میں دشمن تو ان کے سامنے کبھی ٹھہرے ہی نہیں سکتا تھا۔
اور انہوں نے ایسی مثالیں پیش کر کے دکھا دی تھی۔
رومی فوجیں شام سے پسپا ہوئی اور فلسطین میں مختلف مقامات پر پھیل گئی یہ رومیوں کی ایک چال تھی جو انہوں نے مسلمانوں کی قلیل تعداد دیکھ کر چلی تھی۔
ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کا لشکر کسی ایک مقام پر حملہ کرے گا تو یہ تمام بکھری ہوئی فوج اس طرح اکٹھا کر لی جائے گی کہ مسلمان کے اس تھوڑے سے لشکر کو ہر طرف سے گھیر لیا جائے گا۔
عمرو بن عاص کے ذمہ بیت المقدس کی فتح لگادی گئی ان کے مقابل رومیوں کا انتہائی چالاک جرنیل تھا وہ اس وقت اپنی فوج اجنادین کے مقام پر لے جا رہا تھا۔
عمرو بن عاص نے اپنے لشکر کی نفری اور جسمانی کیفیت دیکھی تو امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ کمک بھیجیں دیں کیونکہ مقابلہ اطربون سے ہے ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام ملتے ہی اچھی خاصی کمک بھیج دی (اور تاریخ میں آیا ہے )کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایک بڑا دلچسپ جملہ کہا انہوں نے فرمایا ہم نے عرب کے اطربون کو روم کے اطربون سے ٹکرا دیا ہے ۔
اب دیکھتے ہیں اس کا کیا نتیجہ سامنے آتا ہے۔
حضرت عمر اچھی طرح جانتے تھے کہ اطربون جنگی کیفیت میں لومڑی جیسی چالاکی اور عیاری کو ایسی خوبی سے استعمال کرتا ھے کہ اپنے دشمن کو چکر دے کر بھگا دیتا ہے۔ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ کچھ ایسے ہی اوصاف عمروبن عاص میں بھی تھے۔
=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷
امیر المومنین کی بھیجی ہوئی کمک فلسطین عمرو بن عاص کے پاس پہنچ گئی عمرو بن عاص نے یوں نہ کیا کے ساری کمک اپنے پاس رکھ لیتے انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ اپنا لشکر تین چار حصوں میں بٹ گیا تھا ۔
اور کسے کمک کی زیادہ ضرورت تھی۔
انہوں نے دو مقامات پر کمک بھیج دیا اور کچھ اپنے ساتھ رکھی۔
لیکن جب آگے بڑھے تو دیکھا کہ اطربون نے اپنی فوج قلعہ بند کر لی ہے۔
اور چاروں طرف گہری خندق کھود رکھی ہے۔ عمرو بن عاص نے دیکھ لیا کہ محاصرہ کیا تو بڑا ہی لمبا ہوجائے گا اور خندق کی وجہ سے یہ قلعہ سر کرنا اگر ناممکن نہیں تو بہت ہی دشوار ضرور ہوگا طریقہ ایک ہی ہے کہ اب ان کو دھوکے میں لایا جائے۔
انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ دو ایلچی اطربون کی طرف بھیجے جن کے لئے ہدایت یہ تھی کہ وہ عطربون کے ساتھ صلح کے معاہدے کی بات چیت کریں تو وہ یقینا نہیں مانے گا ،لیکن اصل مقصد یہ ہے کہ قلعے کے اندر اچھی طرح دیکھیں کہ یہ قلعہ کس طرح سر کیا جاسکتا ہے۔
اور رومیوں کے فوج کی نفری کتنی ہے وغیرہ وغیرہ عمرو بن عاص کا مقصد صلح نہیں تھا بلکہ جاسوسی تھا۔
دونوں ایلچی گئے اور بات چیت کر کے واپس آ گئے۔
عمرو بن عاص نے جب ان سے اپنے ذہن کے مطابق پوچھنا شروع کیا کہ انہوں نے کیا فلاں چیز دیکھی تھی؟
یہ بات کی تھی؟
عطربون کے اس سوال کا کیا جواب دیا تھا ؟
اور تم لوگ دیکھ کر کیا آئے ہو؟
عمرو بن عاص نے دیکھا کہ یہ دو ایلچی نکمے ثابت ہوئے ہیں۔
اور وہاں عطربون سے مرعوب ہو کر آئے ہیں۔ اور انہوں نے جاسوسی پوری طرح کی ہی نہیں۔
عمرو بن عاص نے اپنے ماتحت سالاروں سے کہا کہ وہ خود ایلچی بن کر جائیں گے۔
اور یہ ظاہر ہونے ہی نہیں دیں گے کہ مسلمانوں کی اس لشکر کے سپہ سالار وہی ہیں ۔
اور ان کا نام عمرو بن عاص ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کو ذرا سا بھی شک ہو گیا تو وہ پکڑ کر قتل کروا دے گا ،یا کال کوٹھری میں پھینک دے گا۔
عمرو بن عاص نے بھیس بدلا اور اپنے سالاروں سے رائے لی ہیں اور انکے رائے کے مطابق اپنے بہروپ میں کچھ تبدیلیاں کیں اور اللہ کا نام لے کر چل پڑے۔
قلعے کے دروازے پر جاکر انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کے سپہ سالار نے انہیں ایلچی کے طور پر بھیجا ہے۔
اور عطربون سے بات چیت کرنی ہے ۔
اطربون کو اطلاع ملی تو اس نے انہیں فوراً بلالیا ۔
عمروبن عاص عطربون کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔
اور ایسی اداکاری کی جیسے وہ صرف ایلچی ہیں۔
اور اپنے لشکر میں ان کا کوئی ایسا اونچا رتبہ عہدہ نہیں۔
عطربون نے انہیں اتنی ہی تعظیم دی جیتنی ایک ایلچی کو دی۔ جایا کرتی تھی
صلح کے مذاکرات شروع ہوئے عمرو بن عاص نے تو یہ سن رکھا تھا کہ عطربون بہت ہی چالاک آدمی ہے۔
لیکن انھیں اندازہ نہ تھا کہ وہ کس حد تک چالاک ہے ۔
اور اس کی نظریں کتنی گہرائی تک پہنچ جایا کرتی ہیں۔
عمرو بن عاص آخر سپہ سالار تھے اور اپنے قبیلے میں بھی انہیں برتری حاصل تھی اور یہ برتری انکا بنیادی جزو تھا۔
انسان شعوری طور پر تو بہت کچھ کرسکتا ہے۔
لیکن لاشعور پر پردہ ڈالنا ممکن نہیں ہوتا، شاید باتیں کرتے کرتے عمرو بن عاص کے منہ سے کچھ ایسی بات نکل گئی ہو گی یا انہوں نے لب و لہجے میں کوئی ایسا تاثر پیدا کر دیا ہو گا کہ عطربون چونکا۔
میری نظروں نے مجھے کبھی دھوکا نہیں دیا عطربون نے مسکراتے ہوئے کہا میرا خیال ہے کہ میں کسی ایلچی سے نہیں بلکہ عرب کے سپہ سالار کے ساتھ بات کررہا ہوں ۔
کیا تم عمرو بن عاص نہیں ہو ؟
نہیں عمرو بن عاص نے جواب دیا ۔
اگر میں عمرو بن عاص ہوتا تو اپنے اوپر جھوٹا پردہ ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ہمارے سپہ سالار عمرو بن عاص اتنے نڈر اور بے خوف انسان ہیں کہ انہوں نے کبھی جھوٹ بولا ہی نہیں۔
تاریخ میں لکھا ہے کہ عطربون ہنس پڑا جیسے وہ عمرو بن عاص کی بات مان گیا ہو اور انہیں ایلچی ہی سمجھ رہا ہو۔
جنگ کے بعد جنگی قیدیوں سے پتہ چلا تھا کہ عطربون نے عمر بن عاص کو صحیح پہچانا تھا۔ اور انہیں دھوکا یہ دیا تھا کہ اسے غلطی لگی ہے اور واقعی ایلچی ہے۔
عمرو بن عاص اس کے جواب سے مطمئن نہ ہوئے اور سوچنے لگے کہ یہاں سے کس طرح نکلا جائے۔
انہیں شک اس طرح ہوا کہ مذاکرات کے دوران عطربون کسی بہانے باہر نکلا اور جلدی واپس آ گیا اور مذاکرات شروع کردیئے اس کی اس حرکت سے عمرو بن عاص کو پکا شک ہوگیا کہ ان کی خیر نہیں۔
بعد میں جو اصل بات کھلی تھی وہ یہ تھی کہ اطربون نے باہر جاکر اپنے ایک محافظ سے کہا تھا کہ وہ فلاں جگہ جاکر انتظار کرے اور یہ عربی جو اندر بیٹھا ہے واپس جا رہا ہوں تو پیچھے سے اس کی گردن پر ایسا وار کرے کہ سر تن سے جدا ہو جائے۔
وہ محافظ اس جگہ چلا گیا تھا جو اس کام کے لیے موضوع تھی عمرو بن عاص نے ایک طریقہ سوچ لیا انہوں نے مذاکرات کا رنگ ہی بدل ڈالا اور یوں ظاہر کرنے لگے جیسے وہ رومیوں کی طاقت سے ڈرتے ہیں اور ان کے شرائط مان لیں گے اس رویے کا اثر ان پر خاطر خواہ اثر ہوا۔
اب میں آپ کو اپنی اصل حیثیت بتاتا ہوں عمرو بن عاص نے کہا ۔
میں سپہ سالار عمرو بن عاص کا بھیجا ہوا الچی نہیں ہوں۔
بلکہ ہم اپنے امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ)کے بھیجے ہوئے دس مشیر ہیں اور ہمیں آپ کے ساتھ صلح کی بات چیت کیلئے بھیجا گیا اور ہمارے حکم یہ ہے کہ قابل قبول شرائط مان لیں۔
ہم مدینہ سے سیدھے آپ کے پاس پہونچے ہیں۔
عمروبن عاص کا ان مذکرات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
میں نے آپ کی بات سن لی ہے ۔
میرے باقی نو ساتھی میرے انتظار میں بیٹھے ہیں اگر آپ چاہیں تو میں ان سب کو یہاں لے آؤں گا اور آپ چاہیں تو میں جاکر انہیں بتاؤں گا کہ یہ بات ہوئی ہے ۔
فیصلہ کرکے آپ کو بتا دیں گے مجھے یہی توقع ہے کہ میرے ساتھی آپ کی شرائط مان لیں گے ۔
یہ تو اور زیادہ اچھا ہے اطربون نے کہا بہتر ہے تم انہیں یہی لے آؤ۔
اطربون پھر کسی کام کے بہانے باہر نکلا اور ایک محافظ کو یہ حکم دیا کہ فلاں محافظ فلاں جگہ کھڑا ہوگا اسے کہہ دو کہ تمہیں جو پہلے کام بتایا تھا وہ اب نہیں کرنا اور واپس آ جاؤ۔ عمروبن عاص وہاں سے اٹھے خیروخوبی قلعے سے نکل آئے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔
اطربون شام تک انتظار کرتا رہا۔
یہ عربی سپہسالار مجھے دھوکا دے کر زندہ نکل گیا ہے ۔
اطربون نے کہا میں نے اس سے بڑھ کر عیار آدمی کبھی نہیں دیکھا۔
اس کے بعد میدان میں بڑی خونریز لڑائی ہوئی جس میں دونوں طرف کا بے پناہ جانی نقصان ہوا اور اطربون اپنی بچی کچھی فوج کو ساتھ لے کر بیت المقدس چلا گیا اور وہاں فوج کو قلعہ بند کر لیا عمرو بن عاص اور ایک دو اور سالاروں نے بیت المقدس کو محاصرے میں لے لیا۔
ایک روز عمرو بن عاص کو اطلاع دی گئی کہ اطربون کا کوئی ایلچی پیغام لایا ہے۔
انہوں نے الچی کو فورا بلالیا اور پیغام لے کر پڑھا اطربون نے لکھا تھا۔
تم میرے دوست ہو اور تمہاری قوم نے تمہیں وہی رتبہ دیا ہے جو میری قوم نے مجھے دے رکھا ہے۔
میں تمہیں کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا تم نے اگر اجنادین ہم سے لے لیا تو اس خوش فہمی میں مبتلا نہ رہنا کہ تم فلسطین کا کوئی اور حصہ فتح کر لو گے ۔
تم فلسطین میں اب کوئی اور کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تمہارے لیے بہتر یہ ہے کہ یہیں سے واپس چلے جاؤ اور اپنے آپ کو تباہی سے بچا لو اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تمہارا انجام انہیں جیسا ہوگا جو بیت المقدس کو فتح کرنے آئے تھے اور پھر زندہ واپس نہ جا سکے۔
عمرو بن عاص نے اطربون کے ایلچی کے ہاتھ اس کے پیغام کا جواب بھیج دیا انہوں نے جواب میں لکھا۔
میں فلسطین کا فاتح ہوں میں تمہیں دوستانہ مشورہ دیتا ہوں کہ اپنے مشیروں کے ساتھ تبادلہ خیالات کرلو ہوسکتا ہے وہ تمہیں تباہی سے بچانے کے لئے کوئی دانشمندانہ مشورہ دے سکے۔
اجنادین اور بیت المقدس کی فتح ایک الگ داستان ہے یہاں ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے جو تاریخ کے دامن میں محفوظ ہے مؤرخ طبری نے لکھا ہے کہ اطربون نے عمرو بن عاص کا پیغام پڑھا ان کی الفاظ پڑھ کر وہ ہنس پڑا کہ میں فلسطین کا فاتح ہوں۔
ابھی بیت المقدس فتح نہیں ہوا تھا اطربون نے عمرو بن عاص کا یہ پیغام اپنے مصاحبوں اور مشیروں کو پڑھ کر سنایا اور کہا کہ عمرو بن عاص بیت المقدس کا فاتح نہیں ہوسکتا ،اس نے ایسے لہجے میں یہ بات کہی کہ سننے والوں کو یہ خیال آیا کہ بیت المقدس ضرور فتح ہوگا ،لیکن فاتح عمر بن عاص نہیں ہونگے، ان میں سے کسی نے اس سے پوچھا کہ اس نے ایسی بات کیوں کہی ہے۔
بیت المقدس کے فاتح کا نام عمر ہے،، ۔
اطربون نے یہ عجیب بات کہی ، توریت میں لکھا ہے کہ بیت المقدس کے فاتح کے نام میں صرف تین حروف ہوں گے یہ تین حروف عمر ہوسکتے ہیں۔
پھر تورات میں عمر کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں جن میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہیں تورات میں صاف لکھا ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کے قبضے میں چلا جائے گا۔
طبری لکھتا ہے کہ اطربون نے یہ بات حتم و یقین کے لہجے میں کہی اور اس کی اس مجلس پر سناٹا طاری ہو گیا ۔
بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ اطربون بغیر لڑے بیت المقدس سے اپنی فوج نکال کر مصر کو بھاگ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   *شیطان *

#جاری_ہے

2 تبصرے “اورنیل بہتا_رہا….#قسط__نمبر_3

تبصرے بند ہیں