پودے جڑوں کی روشنی سے زیرِ زمین دیکھتے ہیں

Spread the love

سیؤل ، جنوبی کوریا: سورج کی روشنی صرف پتوں اور پھولوں تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ یہ جڑوں تک جاتی ہے اور ان کی مدد سے پودوں کی بہترین نشوونما ہوتی ہے۔

اس سے قبل ماہرین کئی پودوں کے پھولوں، تنوں اور پتوں میں روشنی کو محسوس کرنے والے اور اس کے سگنل سے مفید کام لینے والے ریسپٹر دریافت کرچکے ہیں۔ لیکن اب پودوں کی جڑوں میں بھی یہ ریسپٹر دریافت ہوئے ہیں لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آخر وہ تاریک مٹی میں کسطرح روشنی کا احساس کرتے ہیں اور یہ صلاحیت ان میں کیسے پیدا ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایپل کمپنی کی جانب سے آئی فون کی قیمتیں کم ہونے کا امکان

جنوبی کوریا کی سیئول نیشنل یونیورسٹی سے وابستہ سائنسداں ہیو جُن لی نے سرسوں کی قسم کے ایک پودے عربائڈوپسِس تھیلییانہ نامی پودے پر انہی سوالات کے لیے تحقیق کی ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ پودے کی باریک باریک جڑیں عین فائبر آپٹک تاروں کی طرح کام کرتی ہیں جن کے سروں سے روشنی خارج ہوتی رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گوگل اور فیس بک انسانی حقوق کے لیے خطرہ قرار

جڑوں سے روشنی نیچے جاتی ہے جس میں فائٹوکروم نامی ریسپٹر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس عمل سے ایچ وائے فائیو نامی ایک پروٹین بنتا ہے جو پودے کی صحت کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔

4 تبصرے “پودے جڑوں کی روشنی سے زیرِ زمین دیکھتے ہیں

تبصرے بند ہیں