مریم نواز کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

لاہور: ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر مل منی لانڈرنگ کیس میں مریم نواز کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے چوہدری شوگر مل منی لانڈرنگ کیس میں فریقین کا موقف سننے کے بعد 31 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج سنایا گیا۔ عدالت نے مریم نواز کی درخواست ضمانت 20 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ ساہیوال، جے آئی ٹی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت کے احاطے میں موجود (ن) لیگی کارکنوں کی جانب سے بھرپور خوشی کا اظہار کیا گیا۔
مریم نواز کے وکیل کا موقف

درخواست پر سماعت کے دوران مریم نواز کے وکلا کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مریم نواز کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، ان پر اپنے والد نواز شریف کی معاونت کرنے کا الزام بھی ہے۔ مریم نواز پر 2008 میں 3 غیر ملکیوں سے 44 کروڑ19 ہزارروپے کے شیئرز خریدنے کے ذرائع نہ بتانے اور شمیم شوگر ملز خریدنے کے الزامات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جاوید ہاشمی کے بھانجے کی طالبہ سے زیادتی، منہ بند رکھنے پر کیا پیشکش کی گئی؟ طالبہ نے چہرہ بے نقاب کردیا

23 جون 2016 سے مریم نواز کا چوہدری شوگر مل سے کوئی تعلق نہیں۔ بوتوں کی عدم دستیابی کےباوجود نیب نےمریم نواز پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹسزکا جھوٹا الزام لگایا۔ مریم نواز کے خلاف ریکارڈ پر کوئی ثبوت موجود نہیں۔ چوہدری شوگر کے تمام معاملات کی دیکھ بھال اب عباس شریف کے بیٹے یوسف عباس کر رہے ہیں۔ مریم نواز کا بطور ڈائریکٹر اور سی ای او کردار رسمی نوعیت کا تھا، اینٹی منی لانڈرنگ کا قانون 2010 میں آیا اور اس کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔