پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفے، اپوزیشن میں پھوٹ پڑ گئی،پیپلزپارٹی اورن لیگ نے حیرت انگیز موقف اپنالیا.

Spread the love

اسلام آباد : پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں جو مشترکہ فیصلہ کریں گی اسی پر عمل درآمد ہوگا۔ ایک انٹرویومیں پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ان کی جماعت شروع دن سے ہی دھرنے کی سیاست کے حق میں نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا کا پھیلاؤ روکنا ممکن نہیں، ہر شخص کو اس سے متاثر ہونا ہے، ماہرین

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہاکہ اپوزیشن کی اس تحریک کا انجام عمران خان کے استعفے اور ملک میں نئے انتخابات کے اعلان پر ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت دیوار پر لکھا پڑھ لے، نئے انتخابات کا اعلان تو وزیراعظم کے اختیار میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلے بوگی میں لگے پنکھے سے دھواں نکلا اور پھر پنکھا نیچے گرا مسافروں نے آگ لگنے سے قبل ہی چلتی ٹرین سے چھلانگیں کیوں لگائی؟ جلنے والی بوگی میں موجود زندہ بچ جانے والے شخص نے سارا قصہ سنا دیا

احسن اقبال نے بتایا کہ پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفوں کا آپشن اس تحریک کا آخری وار ہوگا۔جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما اکر خان درانی نے کہا کہ استعفے پر بھی وزیراعظم عمران خان یوٹرن لیں تو بڑی بات نہیں ہوگی۔اکرم درانی کا کہنا تھا کہ استعفے میں دیر سے نقصان ہی نقصان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نندی پور پاور پراجیکٹ ریفرنس: بابراعوان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ حکومت معاہدے کی خلاف ورزی کرکے اپوزیشن کو بھی مجبور کر رہی ہے، کیونکہ ہم ڈی چوک جاکر معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرناچاہتے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار نے کہا کہ وزیراعظم ہمیں جیلوں سے نہ ڈرائیں، ہم جیلوں کے عادی ہیں۔