بڑی پیش رفت،مولانا فضل الرحمان نے چوہدری پرویز الٰہی کو ”اشارہ “دے دیا

اسلام آباد : جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے چوہدری پرویز الٰہی کو مثبت اشارہ دے دیا، میڈیا ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن چوہدری پرویز الہی نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا ہے اور اس میں انہوں نے معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی اپیل کی ہے۔

آزادی مارچ کے معاملے کا پرامن حل نکالنے کی کوششیں جاری ہیں، جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان کے گھر ایک اہم اجلاس جاری ہے جس میں جمعیت علماء اسلام اپنے آئندہ کے لائحہ عمل پر غورو خوض کررہی ہے۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر اور مرکزی رہنما مولانا عطاء الرحمن نے کہاہے کہ موجودہ حکمران نا اہل تھے اور ہیں آئندہ بھی اچھی پرفارمنس کی کوئی امید نہیں ہے،وزیر اعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ پر تمام جماعتیں متفق ہیں، ذہن میں بہت سارے پلان ہیں،عمران حکومت کو احتجاج کے نتیجے میں جانا ہی ہوگا۔خیبر پختون خوا کے امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے کہاکہ ہمیں اپنے کارکنوں پر فخر ہے جنتی عزت ہمیں پاکستان کے عوام اور کارکنوں نے بخشی ہے شاید تاریخ اس کو نہ بھلا پائے نہ تاریخ میں اس سے پہلے اتنا بڑا اجتماع اسلام آباد میں ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شاہ محمود قریشی سے افغان طالبان سیاسی کمیشن کے وفد کی ملاقات

انہوں نے کہاکہ اگر آپ حکومت میں ڈلیور کر تے ہیں توقوم فوراً آپ کو اتارنے کی خواہش مند نہیں ہوسکتی انہوں نے آکر ثابت کیا ہے کہ ہم نا اہل تھے،نا اہل ہیں اور آئندہ بھی ان سے اچھی پرفارمنس کی امید نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اس جعلی اور نا اہل حکومت کو عوام اسی طرح کے احتجاج سے ہٹاتا ہے اور ہمیں یقین ہے انشاء اللہ احتجاج کے نتیجے میں اس حکومت کو جانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کی گفتگو میں بوکھلاہٹ بہت زیادہ ہے اور اس وقت پوری کابینہ بوکھلاہٹ کاشکار ہے۔ایک سوال پر مولانا عطاء الرحمن نے کہاکہ متحدہ اپوزیشن کا مشترکہ مطالبہ استعفیٰ ہے اس کے بعد ملک میں شفاف انتخابات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تنخواہ دار طبقے کی شامت،تنخواہوں میں اضافے کی بجائے اب کتنی کمی ہوگی؟

انہوں نے کہاکہ جس طرح لوگوں کی حاضری ہے تمام سیاسی قائدین اس سے خوش تھے تمام حضرات نے مولانا کو کامیاب آزادی مارچ پر مبارکباد دی ہے۔انہوں نے کہاکہ دو دن کی مہلت دینے پر بھی مولانا فضل الرحمن کی سیاسی رہنماؤں سے مشاورت ہوئی تھی اور معاملات رہبرکمیٹی کے حوالے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارا حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تاہم انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اور اسی کا نتیجہ ہے ہم اب تک یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ور نہ ہمارے عوام کا مطالبہ ہے کہ ڈی چوک پر پہنچا جائے۔انہوں نے کہاکہ اگر ہم نے فیصلہ کر دیا کہ ڈی چوک جانا ہے تو ان لوگوں کو وزیر اعظم ہاؤس جانے سے بھی کوئی نہیں روک پائیگا۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ذہن میں بہت سارے پلان ہیں،انشاء اللہ مجھے یقین ہے یہ حکومت نہیں رہے گا۔